شاہدرہ میں فائرنگ سے زخمی ہونیوالے شہباز سے پولیس کی 3گھنٹے تفتیش موت کا باعث بنی ،والدہ کا الزام

شاہدرہ میں فائرنگ سے زخمی ہونیوالے شہباز سے پولیس کی 3گھنٹے تفتیش موت کا باعث ...

 لاہور(ملک خیام رفیق)شاہدرہ کے علاقہ میں دوست کے گھر میں فائرنگ کا شکار ہو نے والے کی موت چوکی انچارج بیگم کو ٹ کی غفلت سے ہو ئی ورثاء کا الزام۔پیٹ میں گولی لگنے کے باوجود بھی 3گھنٹے تفتیش کے بہانے چوکی میں بٹھائے رکھا،شاہدرہ تھانے کا ملازم ذوالفقار بیٹا واپس کرنے کا 3لاکھ مانگتا رہابعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ تو مر چکا ہے مقتول کی والدہ کی روزنامہ’’پاکستان‘‘ سے درد بھری گفتگو۔ تفصیلا ت کے مطابق کے چند دن قبل فرخ آباد کا رہائشی تھااور فضل پارک کے رہائشی پنو کے گھر رات کے وقت اپنے دوستوں منا اور نادر کے ہمراہ گھسا ، اہل خانہ کے جاگنے پر پنو اور شہباز منا اور نادر کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے تھے پنو کو تو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچا دیا گیا لیکن شہباز کو چوکی انچارج رانا صادق نے تفتیش کے بہانے 3گھنٹے کے لیے چوکی میں بٹھائے رکھا جوزیادہ خون بہنے کی وجہ سے بعد ازاں میو ہسپتال میں دم توڑ گیا ۔شہباز کی والدہ نے روز نامہ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ ہمارے بیٹے کی مو ت کی ذمہ دار چوکی انچارج ہے جس کے زیادہ دیر شہباز کو چوکی میں زخمی حالت میں بیٹھانے کی وجہ سے وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا شہباز کی والدہ نے مزید کہاکہ میرا بیٹا مر چکا تھا لیکن شاہدرہ کا پولیس ملازم ذوالفقارہمارے گھر میں آکر کہتا رہا کے آپ کا بیٹا زخمی ہے اگر آپ اسے گھر لا نا چاہتے ہیں تو 3لاکھ کا انتظام کر لواور آکر میں اس نے یہ ڈیل 50ہزار میں فائنل کی تھی لیکن ہم غریب لو گ اس کا رقم نہ دے سکے بعد ازاں ہمیں علم ہو ا کے ہمارا بیٹا تو مر چکا ہے ہماری اعلیٰ احکام سے اپیل ہے کے ہمیں انصاف فراہم کیا جا ئے ۔ان الزامات کے بارے میں جب ایس ایچ او شاہدرہ سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کے الزامات میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے۔

مزید : علاقائی