سندھ سیاسی استحکام کی جانب گامزن

سندھ سیاسی استحکام کی جانب گامزن
سندھ سیاسی استحکام کی جانب گامزن

  

سانحہ کراچی میں پیش رفت ہو ئی ہے۔ بات نہایت خوش آئند ہے۔ لیکن اس سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اس پیش رفت کا اعلان وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے خود ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔ یہ وہی قائم علی شاہ ہیں جنہوں نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران اس سوال پر کہ آپ کراچی اپریشن کے کپتان ہیں کہہ دیا تھا کہ کپتان تو فوج میں ہوتے ہیں۔ میں نہیں۔ اس طرح انہوں نے ایک تاثر دیا کہ وہ کراچی اپریشن کے کپتان نہیں ہیں۔

سانحہ صفورا کے بعد رونماء ہونے والے واقعات نے کراچی اور بالخصوص سندھ حکومت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کئے۔ کراچی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی باہر آنے والی روداد نے یہ تاثر پیدا کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سندھ کی حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے۔ ایسی خبریں بھی آئیں کہ عسکری عہدیداروں کے سامنے قائم علی شاہ نے مستعفیٰ ہونے کی بھی پیشکش کی۔ لیکن سابق صدر آصف زرداری نے انہیں روک دیا۔ ڈی جی رینجرز کا بھی قائم علی شاہ سے تلخ جملوں کا تبادلہ میڈیامیں زبان زد عام رہا۔ ان خبروں کی کسی بھی جگہ سے تردید نہیں ہوئی۔ اس لئے انہیں عمومی طور پر درست مان لیا گیا۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اگر یہ خبریں غلط تھیں تو ان کی واضح تردید کی جاتی۔ لیکن نہ تو سیاسی افراد نے اور نہ ہی عسکری عہدیداروں نے ان خبروں کی تردید کی۔ اس طرح افواہوں کا ایک ماحول گرم ہو گیا۔ اسی طرح ذوالفقار مرزا کا نام بطور گورنر بھی سامنے آنے لگا۔ کہ ذوالفقار مرزا جو بھی کر رہے ہیں انہی کے اشارے پر کر رہے ہیں جو سندھ میں سیاسی حکومت کا بستر گول کرنا چاہتے ہیں۔

اس سارے ماحول کے بعد سابق صدر آصف زرداری نے برملا اعلان کیا کہ وہ نہ تو قائم علی شاہ کو بدل رہے ہیں اور نہ ہی سندھ میں کوئی گورنر راج آرہا ہے۔ اس اعلان نے کسی حد تک ان افواہوں کے زور کو کم کیا جو سندھ کی حکومت کے جانے کا کہہ رہی تھیں۔ جس طرح سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ افواہوں کے زد میں تھے ۔ اسی طرح سندھ کے گورنر عشرت العباد بھی ایسی پوزیشن میں تھے کہ آج گئے کہ کل۔ ایم کیو ایم نے ان کے خلاف پریس کانفرنس کر کے ان سے اعلان لا تعلقی کر دیا۔ اس کے بعد سب کہہ رہے تھے کہ اب عشرت العباد گئے۔ لیکن ہ ہ بھی بچ گئے۔ ایم کیو ایم کا ان سے اعلان لا تعلقی شائد ان کی بچت کی وجہ بن گیا۔ شائد جو قوتیں ایم کیو ایم کی وجہ سے پہلے عشرت العباد کو تبدیل کرنا چاہتی تھیں ۔ وہ ایم کیو ایم کے اعلان لا تعلقی کے بعد ان کو رکھنے پر قائل ہو گئیں۔

بہر حال اب سندھ میں سیاسی منظر نامہ کی تبدیلی کی خبریں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ بھی دوبارہ فارم میں نظر آرہے ہیں۔ آصف زرداری بھی سندھ حکومت کے دفاع میں میدان میں آگئے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی بھی عشرت العباد کو رکھنا چاہتی ہے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سندھ میں سیاسی عدم استحکام کی خبریں اب ختم ہو جائیں گی۔ کیونکہ جب سندھ میں سیاسی استحکام آئے گا تب ہی سندھ میں امن آسکتا ہے۔ لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ سندھ میں سیاسی بساط کو لپیٹ کر کوئی استحکام نہیں آئے گا۔ اگر سندھ میں سیاسی بساط اپنی جگہ قائم رہتی ہے ۔ تو ملک کی سیاسی بساط بھی اپنی جگہ قائم رہے گی۔

سندھ میں امن پاک چین راہداری کی کامیابی کی بھی ضمانت ہے۔ اسی لئے عسکری ادارے بھی سندھ میں امن کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کو بھی بدلتے حالات کا اندازہ کرنا ہو گا۔ انہیں سمجھنا ہو گا کہ کراچی کو اب امن سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ ایم کیوء ایم نے بھی اپنی سیاست کا انداز بدلنا شروع کیا ہے۔ وہ اب کراچی کے پانی کے مسئلہ کو لیکر سامنے آرہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ عوامی مسائل کی سیاست کو لیکر سامنے آرہے ہیں۔ لیکن یہ سوال ایم کیو ایم سے کون کریگا کہ جب اتنے سال وہ کراچی میں شریک اقتدار رہے تب انہوں نے پانی کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھا یا۔ اور اگراب اٹھا یا ہے تو اسے اپنی احتجاجی سیاست کے لئے کیوں استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہو گا کہ ایم کیو ایم نے امن و مان کو خراب کرنے کے لئے پانی کے مسئلہ کو استعمال کیا ہے۔ اس لئے ایم کیو ایم کے دوستوں کو یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ کہ وہ پوری قوت سے عوامی مسائل کو اجاگر کریں۔ یہی بطور اپوزیشن ان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن فی الحال احتجاجی سیاست سے دور رہیں۔ ورنہ لگے گا کہ وہ اپنے دوسرے مقاصد کے حصول کے لئے اس کو استعمال کر رہے ہیں۔ اور جن قوتوں نے اس وقت ایم کیو ایم کے خلاف ایک محاذ بنایا ہوا ہے ۔ انہیں مزید موقع مل جائے گا۔ایم کیوایم کی قیادت کو بہر حال سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ ورنہ وہ اپنے لئے مزید مشکلات پیدا کریں گی۔

مزید : کالم