ایک بوتل شراب کیس کا چالان 22سال بعد بھی عدالت میں پیش نہ کیا جاسکا

ایک بوتل شراب کیس کا چالان 22سال بعد بھی عدالت میں پیش نہ کیا جاسکا

لاہور(نامہ نگار)ایڈیشنل سیشن جج منیراحمد نے 22سال بعد بھی ایک بوتل شراب کیس کا ابھی تک چالان پیش نہ کرنے پر ایس ایچ او جوہرٹاون کو شوکاز نوٹس جاری کردیاجبکہ مذکورہ مقدمہ میں ملزم کی عبوری ضمانت میں مزیدیکم جون تک توسیع کردی ہے ۔تھانہ جوہرٹاون پولیس نے 1993 میں نذیراحمد کے خلاف ایک بوتل شراب رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا جس کے بعد پولیس نے نذیراحمد کو نہ پکڑا ملزم اسی طرح گھومتا رہا ،22سال کے بعد تھانے کے ایک کانسٹیبل نے ملزم کو تنگ کرتے ہوئے اسے شراب کے کیس میں گرفتار کرنے کی دھکمیاں دینی شروع کردی اس پر ملزم نے بلیک میل ہونے کی بجائے عدالت میں پیش ہو کر اپنی عبوری ضمانت کرالی اور استدعا کی کہ اس کے کیس کی سماعت کی جائے عدالت نے جوہرٹاؤن پولیس کے تفتیشی آفیسر سے مقدمے کاریکارڈ اور چالان طلب کیا لیکن پولیس کی طرف سے چالان پیش نہ کیا گیا اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کردیا عدالت نے ایس ایچ او کو حکم دیا کہ وہ آہندہ تاریخ پر جواب داخل کرے کہ انہوں نے کیوں 22سال سے چالان کیوں پیش نہیں کیا۔

عدالت نے کیس کے ملزم نذیر احمد کی عبوری ضمانت میں یکم جون تک توسیع کردی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4