انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت کے وکلاء سے دلائل طلب

انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کیخلاف درخواست پر وفاقی ...

لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائیکورٹ نے انتخابی دھاندلی کا جائزہ لینے کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کے قیام اور صدارتی آرڈیننس کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت کے وکلاء کو دلائل کے لئے طلب کر لیا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار اے کے ڈوگر ، چودھری شعیب سلیم اور عابد علی لون کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بختیار قصوری نے اپنے دلائل مکمل کر لئے جس کے بعد عدالت نے وفاقی حکومت کے وکلاء کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ کہ الیکشن ٹربیونلز کی موجودگی میں صدر مملکت کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن کے قیام کو موارائے آئین قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا حکم دیاجائے۔تحریک انصاف کے وکیل بختیار قصوری نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے فرد واحد جو کہ متاثرہ فریق بھی نہیں کمیشن کے خلاف درخواست دائر کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔صدارتی آرڈیننس عام آدمی کے فائدے کے لئے جاری کیا گیا، کیونکہ جو نکات انتخابی عذرداری میں طے نہیں ہو سکتے ان کے لئے صدارتی آرڈیننس ضروری تھا۔

مزید : صفحہ آخر