انتخابی ضابطہ اخلاق کیخلاف دائر درخواست پر جواب طلب

انتخابی ضابطہ اخلاق کیخلاف دائر درخواست پر جواب طلب

لاہور(نامہ نگار) لاہور ہائیکورٹ نے ضمنی انتخابات میں وزیر اعظم،سیاسی جماعتوں کے سربراہوں،وزرا اور اراکین اسمبلی کوامیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے انتخابی ضابطہ اخلاق کے خلاف دائر درخواست پر جواب طلب کر لیا۔عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ امیدواروں اور ان کے حامیوں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے کس قانون کے تحت روکا جا سکتا ہے۔جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت شروع کی توتحریک انصاف سنٹرل ریجن پنجاب کے صدر منصورسرور کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں وزیر اعظم،سیاسی جماعتوں کے سربراہوں،وزرا اور اراکین اسمبلی کوامیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکنے کے حوالے سے انتخابی ضابطہ اخلاق جاری کر رکھا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے حلقہ این اے 108 منڈی بہاؤ الدینI۔ ، پی پی 196 ملتانIV۔ اور پی کے 56 مانسہرہ IV۔ کے ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم میں ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، وزراء اعلیٰ ،چیئرمین سینٹ اور پبلک آفس ہولڈز کا انتخابی حلقوں میں جانے ، انتخابی مہم کے دوران کسی بھی ادارے کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں کے اعلانات پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر امیدواروں کے حامی ان سپورٹ نہیں کریں گے تو عوام ان کے حمائت یافتہ امیدواروں کو کیسے ووٹ ڈالیں گے۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ امیدواروں کے حامیوں کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا جانا آئین کے تحت دئیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔درخواست گزار منصور سرور کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد کی گئی پابندی آئین کے آرٹیکل 17، 19کی خلاف ورزی ہے اور تحریک انصاف کا سیاسی استحصال کیا جا رہا ہے ،الیکشن کمیشن کا 7مئی کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن کالعدم کیا جائے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں عرفان اکرم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انتخابات کو غیرجانبدار اور پرامن رکھنے کے لئے الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق جاری کر رکھا ہے۔جس پر عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ اس پابندی کا اطلاق ضمنی انتخابات سے 24گھنٹے قبل تو کیا جا سکتا ہے ایک ماہ قبل پابندی کس قانون کے تحت لگائی جا سکتی ہے ؟عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انتخابی میدان میں سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی تو پھر کب اور کہاں ہوں گی۔عدالت نے الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کو 22مئی کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

مزید : صفحہ آخر