ہائیکورٹ ‘ اغواء برائے تاوان کے 5مجرموں کی سزاؤں کیخلاف اپیلیں

ہائیکورٹ ‘ اغواء برائے تاوان کے 5مجرموں کی سزاؤں کیخلاف اپیلیں

لاہور (نامہ نگار ) لاہور ہائیکورٹ نے اغواء برائے تاوان کے 5مجرموں کی جانب سے سزاؤں کیخلاف دائراپیلوں پر4 مجرموں کی عمر قید کی سزائیں برقرار رکھنے اور سزائے موت کے ایک قیدی کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنیکا حکم دیدیا۔ عدالت عالیہ میں مجرموں عبداللہ، عبدالوحید، عبدالباسط، ساجد علی اور ذیشان کی اپیلوں پر سماعت شروع ہوئی تو اپیل کنندگان کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ شادباغ پولیس نے مئی 2011ء میں شیر افضل کی درخواست پر عمیر افضل کے اغواء برائے تاوان کا مقدمہ اپیل کنندگان کے خلاف درج کیا، انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ پولیس نے اپیل کنندگان کو حیات آباد پشاور سے گرفتار کیا اور مجرموں کے قبضہ سے مغوی عمیر افضل کو بازیاب کروایا اور چالان انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں پیش کیا، اپیل کنندگان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے جولائی 2012ء میں حقائق کے برعکس اور پراسیکیوشن کی تفتیش کی بنیاد پر ہی اپیل کنندگان عبداللہ، عبدالوحید، عبدالباسط اورساجد علی کو عمر قید جبکہ ذیشان کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے ،اپیل کنندگان کی سزائیں معطل کر کے بری کرنیکا حکم دیا جائے، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل منیر احمد سیال نے بنچ کو آگاہ کیا کہ مجرم ذیشان نے اپنے دوست عمیرافضل کو ساتھی مجرموں کے ہمراہ اغواء کیا اور جمرود لے گئے، انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اپیل کنندگان نے مغوی کے والد سے 5لاکھ روپے بھتہ کا مطالبہ کیا ، پولیس نے تفتیش کے بعد حیات آباد پشاور میں چھاپہ مار کر مجرموں کو گرفتار کیا ، مجرموں کے قبضے سے رقم کی ریکوری بھی کی گئی، ٹرائل کورٹ نے مجرموں کو شواہد اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں سزائیں سنائی ہیں ،مجرموں کی سزاؤ ں کے خلاف اپیلیں مسترد کی جائیں، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد اغواء برائے تاوان کے مقدمہ میں ملوث 4 مجرموں عبداللہ، عبدالوحید، عبدالباسط اورساجد علی کو عمر قید کی سزائیں برقرار رکھنے اور سزائے موت کے قیدی ذیشان کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید : صفحہ آخر