90کنال سرکاری اراضی سکینڈل ،موضع رکھ سلطان کے کا پٹواری بھی قابو آگیا

90کنال سرکاری اراضی سکینڈل ،موضع رکھ سلطان کے کا پٹواری بھی قابو آگیا

لاہور (عامر بٹ سے)90کنال سرکاری اراضی سکینڈل میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کو ریکارڈ کی کلیئرنس دینے والے اور انتقال کے اندراج کرنے کی تحریری سفارش کرنے والا موضع رکھ سلطان کے کا پٹواری بھی قابو آگیا ،داتا گنج بخش ٹاؤن کی مصدقہ نقول برانچ 2رو ز سے بند ،ریکارڈ کیپر سے رات گئے برآمد ہونے والی چابیاں مال مقدمہ کا حصہ بنادی گئیں،محکمہ ریونیو کی ایڈمنسٹریشن مصدقہ نقول برانچ کو کھولنے کیلئے افسران کی منت سماجت کرتے ہوئے دیکھائی دیئے ،معلومات کے مطابق صوبائی دارلحکومت کی ملکیتی اراضی کو ہتھیانے اور جعلسازی سے منتقل کرنے میں ملوث مفاد کنندگان ،انوسٹرز ،سرکاری ملازمین کی یکے بعد دیگر ے گرفتاریوں ،بیانات اور حرکات نے کیس میں ڈرامائی تبدیلی پیدا کر دی ہیں ،مختلف کڑیاں ملنے کے بعد جہاں کیس کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے بلکہ گناہگاروں اور بے گناہ کی شناخت اور تعین کیلئے بھی صورتحال واضح ہوتی چلی جارہی ہے ،تاہم ابھی بھی کئی سوالات ایسے ہیں جن پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے ،ذرائع کے مطابق ڈی سی او لاہور کی جانب سے 17دنوں میں کی جانے والی انکوائری ،رپورٹ میں داتا گنج بخش ٹاؤن سب رجسٹرار آفس اور مصدقہ نقول برانچ کے انچارج کا تعین اور کردار کیوں گول کر دیا گیا،جس کیس کے مدعی ڈی سی او لاہور بنے ہیں اس کی انکوائری کیا خود ڈی سی او نے کی ہے جس کی ذمہ داری اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ ،سروس سنٹر آفیشل اور ایک جونیئر کلرک پر عائد کی گئی ہے کیا وہ درست تھی ،کس آفیسر کے حکم سے داتا گنج بخش ٹاؤن کے ریکارڈ کیپر انچارج رانا شہباز کو مکمل طورپر ریکارڈ روم کی چابیاں دے دی گئیں تھیں جو کہ رات کے اندھیرے میں بھی ریکارڈ روم کھول رہا تھا اور رات کے اوقات میں بھی سوائے اس کے کسی اور اہلکار کو ریکارڈ روم میں جانے کی اجازت نہ تھی ریکارڈ روم میں تعینات اہلکار کو ریکارڈ روم میں جانے کی اجازت تھی ریکارڈ رومیں تعینات اہلکاروں کے بیانات سے یہ بھی معلوم پڑتا ہے،کہ ان سب کو وہ نچلے ریکارڈروم میں بیٹھاتا تھا اور خود اپنے پرائیویٹ عملے کے ہمراہ مصدقہ نقل برانچ میں کام کر رہا تھا ،چار سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی اور یکارڈنگ کے دوران جو کہ محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران کی نگاہوں کے سامنے ریکارڈ ہوتی اور نظر آتی ہے ،کس طرح پرائیویٹ عملہ کام کرتا رہا کیاافسران کی رضامندی سے پرائیویٹ عملے کو ریکارڈ روم میں داخل کیا گیا تھا،اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اس کے علاوہ برانچ میں سرعام پستول کی نمائش کرنے اور اس کی اطلاعات ملنے پر افسران کا خاموشی اختیار کرنا کیا وجہ بیان کرتا ہے،اینٹی کرپشن کی کاروائی کیا نچلے سٹاف تک ہی محدود نہ ہے ،لینڈ ریونیو ایکٹ زیر دفعہ (52)زیرفقرہ3، 8اور زیرفقرہ(368) کے تحت ڈسٹرکٹ رجسٹرار جو کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر بھی ہیں ریونیو ریکارڈ کو ناصرف اپ گریڈ رکھنے کا ذمہ داربھی ہیں بلکہ سب رجسٹرار کے کام کے نگران بھی ہیں حکومتی زمین کو پلاننگ کے ذریعے ہتھیانے میں ملوث مرکزی ملزمان کی گرفتاری اور اعترافی بیانات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سے ریکارڈ کیپر کے ساتھ ان کی ڈیل چلی آرہی تھی اس کے پیچھے کوئی اور بھی شامل تھے عوام کی کثیر تعداد ،سیاسی ،سماجی ،رہنماؤں اورمحکمہ ریونیو کے دفاتروں میں کام کرنے والے افسران ملازمین کا کہناہے کہ وہ جو کوئی بھی ہوں وہ جتنے بھی بااثر کیوں نہ ہوں ان پر ہاتھ ڈالنا بہت ضروری ہو چکا ہے اصل ذمہ داران کو کڑی سے کڑی سز ا ور بے گناہوں کو بری الذمہ قرار دیاجانااب بہت ضروری ہو چکا ہے تاہم آئے روز کی گرفتاریوں اوردن رات کی بنیاد پر محکمہ اینٹی کرپشن میں کام کرنے والے انوسٹی گیشن آفیسر کیلئے اس کیس کو سلجھانے کے لئے زیادہ وقت درکار نہ ہو گا۔

مزید : صفحہ آخر