پشاور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے سبب جنریٹروں کے استعمال سے رہائشیوں کا جینا محال

پشاور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے سبب جنریٹروں کے استعمال سے رہائشیوں کا جینا ...

پشاور)ڈسپیچ نیوز ڈیسک)صوبہ خیبر پختونوا کے دارالحکومت پشاور میں ماحولیاتی آلودگی روز مرہ کی زندگی اور انسانی سوچ پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے جبکہ بڑھتے ہوئے ٹریفک جام اور بجلی کی عدم موجودگی کے سبب جنریٹروں کی بڑی تعداد میں استعمال نے شہر کا سکون چھین لیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے KV کے جنریٹروں نے رہائشیوں کا جینا محال کر دیا ہے۔پشاور کے علاقے باڑہ گیٹ کے 40 سالہ رہائشی رحمت اللہ نے اپنے تین پڑوسیوں کے گھروں میں بڑے بڑے جنریٹروں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے دوران ہر وقت ان جنریٹروں کی آوازوں نے اسے شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا ہے اور ان میں چڑ چڑا پن آگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ نے نفسیات کو اس طرح بھی بہت متاثر کیا ہے کہ دفتر، بازاروں اور گھروں میں جنریٹروں کی آوازیں گھونجتی رہتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ اور پھر جنریٹروں کے شور سے مزاج میں چڑ چڑا پن آنا ایک یقینی امر ہے اور بعض اوقات ایسی نفسیاتی کیفیت کی وجہ سے وہ اپنے بچوں پر ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں ۔ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے انسانی طرز زندگی بد ل کر رکھ دیا ہے اور دیہی علاقوں میں بیس گھنٹے جبکہ شہری علاقوں میں 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے تاہم گھروں کے مالکان اور کاروباری طبقہ اپنے دفاتر و دکانوں میں گیس سے چلنے والے جنریٹر استعمال کر رہے ہیں جبکہ سولر پینل لگوانے کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایڈووکیٹ محمد اعجاز خان پشاور ہائی کورٹ جو کہ ماحولیاتی کیسز کی پیروی کرتے ہیں کے مطابق عوام میں فضائی و شور کی آلودگی بارے میں آگاہی و شعور نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے جنریٹروں کے کثرت استعمال سے متعلق کہا ہے کہ ان جنریٹروں سے نکلنے والی زہریلی کاربن مونوآکسائیڈ گیس ایک سیگریٹ سے بھی کئی زیادہ نقصان دہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس شور سے متاثرہ افراد کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایکٹ 2008 کے تحت قائم کیے گئے ماحولیاتی ٹریبونل میں شکایات درج کرائیں۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بجلی کے مسئلہ پر جلد از جلد قابو پائیں تاکہ جنریٹر جیسی خطرناک مشین سے عوام کو چھٹکارا حاصل ہو سکے۔ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا محمد بشیر خان نے ڈسپیچ نیوز ڈیسک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنریٹروں کی دو اقسام ہیں جن میں گھروں میں استعمال ہونے والے اور دوسرے مختلف موبائل کمپنیوں اور دیگر کمرشل مقاصد کے لیے لگائے جاتے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ایجنسی صرف کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جنریٹروں کو دیکھتی ہے

مزید : صفحہ آخر