سول انجینئر کی سیٹوں پر الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئر عینا کئے جانے لگے

سول انجینئر کی سیٹوں پر الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئر عینا کئے جانے لگے

لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیوپنجاب میں گڈ گورنس کی بجائے پسند ناپسند کا قانون چلنے لگا۔میرٹ اورٹرانسفر پالیسی کے برعکس سول انجنئیرکی سیٹوں پر الیکٹریکل اور مکینیکل انجنئیر تعینات کیئے جانے لگے ہیں۔ ایس ڈی او سے لیکر سپرنٹنڈنٹ انجنئیر تک سو سے زائد خالی سیٹوں پر تقرری کے منتظر انجنئیروں کو تعینات کرنے کی بجائے اہم عہدے خالی رکھے جارہے ہیں۔جبکہ بااثر اور چہیتے انجنئیروں کو ان کے آبائی اضلاع اور صوبائی سیٹ اپ میں تعینات کیاگیا ہے۔اور سفارش نہ رکھنے والوں کو یا تو ڈسٹرکٹ سیٹ اپ میں تعینات کیا جاتا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ محکمہ مواصلات وتعمیرات کی موجودہ انتظامیہ ان دنوں میرٹ اور حکومتی احکامات کی بجائے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون پر عمل پیرا ہے۔محکمے میں ایک طرف سپرنٹنڈنٹ انجنئیرز اور ای ڈی اوز کی کم و بیش 20سیٹیں خالی ہیں۔ ایکسئینز یا ڈسٹرکٹ افسروں کی 30سیٹیں اور ایس ڈی اوز یا ڈی ڈی اوز کی 50سے زائد سیٹیں خالی ہیں۔لیکن سفارش اور اثررورسوخ نہ رکھنے والے متعدد انجنئیروں کو تقرری کے منتظر یا برائے نام عہدوں پر تعینات انجنئیروں کو قابلیت کے باوجود تعینات نہیں کیا جارہا۔جبکہ پی اینڈڈی اور دیگر محکموں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات انجنئیران سے الگ ہیں۔فارغ بیٹھنے والے ان انجنئیروں میں بعض اپنی پیشہ وارانہ قابلیت کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ محکمے میں سول انجنئیروں کی متعد د اہم سیٹوں پر الیکٹریکل اور مکینیکل انجنئیر وں کوتعینات کیا گیاہے ۔ ،جھنگ میں تعینات اطہر بخاری ،اور راولپنڈی میں تعینات مکینیکل انجنئیر شوکت محمودسمیت دیگر کئی انجنئیر شامل ہیں۔اسی طرح محکمے میں بہت سے انجنئیرایسے بھی ہیں۔جو ہمیشہ صوبائی سیٹ اپ کا حصے رہے ہیں۔ اور ڈسٹرکٹ سیٹ اپ میں ٹرانسفر نہیں ہوئے اور اگر ٹرانسفر ہوئے ہیں تو بھی تھوڑے عرصے کے لیے ۔ ایسے انجنئیروں میں چیف انجنئیربلڈنگز محمد طارق،شفقت بٹر، ایکسئین ریاض شاہ، جی اے فاروق، خالد پرویز ، سہیل اکرم، شفقت بخاری، خاور زمان،طارق ملگانی، نظر آفتاب، اقبال اعوان،نوید بھٹی،انصر وڑائچ اور دیگر کئی شامل ہیں۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ انتظامیہ کی آشیر باد سے بہت سے ایس ڈی او، ایکسئینز اور سپرنٹنڈنٹ انجنئیرکسی صورت بھی لاہور چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ اکثر انجنئیر ملازمت کے 20سے 25سالہ دور میں یا تو سرے سے لاہور سے باہر ٹرانسفر ہی نہیں ہوئے اور اگر انہیں ٹرانسفر کیا بھی گیا تو وہ چند ہی ہفتوں بعد واپس لوٹ آئے ، ان میں سے بہت سے انجنئیر فیلڈ ورک کی بجائے ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، ایڈیشنل سیکرٹری یا ڈپٹی سیکرٹری کے طورپر افسر بن کر کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں گفتگو کے لیے صوبائی سیکرٹری مواصلات وتعمیرات پنجاب میاں مشتاق احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موقف دینے سے اجتناب برتا۔

مزید : صفحہ آخر