پنجاب اسمبلی: ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کا احتجاج ،واک آؤٹ

پنجاب اسمبلی: ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن ...

لاہور( نمائندہ خصوصی)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں عدم سہولیات اورعوام کے ساتھ ڈاکٹرز اور عملہ کے ناروا سلوک اور ایوان میں وزراء کے عدم موجودگی پر پنجا ب اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج اور نعرے بازی ’’رو عمران رو‘‘اور’’ گو نواز گو‘‘ کے نعرے، اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا، سپیکر نے وزراء کو ایوان میں اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی، وزراء کی عدم موجودگی کی وجہ سے اجلاس کا ایجنڈا مکمل نہ ہوسکا جس کی وجہ سے سپیکر کو اجلاس آج صبح 10بجے تک ملتوی کرنا پڑا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس 10بج کے 50منٹ پر شروع ہوا ،اجلاس شروع ہوتے ہی ڈپٹی سپیکر سر دار شیر علی گورچانی نے کہا صوبائی وزیر رزاعت کی اہلیہ بیمار ہیں جس کی وجہ سے وہ ایوان میں دس منٹ تک پہنچ رہے ہیں جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے دس منٹ کا وقفہ کردیا۔ ایوان گذشتہ روز ایک بار پھر اس وقت ’’رو عمران رو‘‘اور’’ گو نواز گو‘‘کے نعروں سے گونج اٹھا اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا جب پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور و قانون نذر حسین گوندل چوہدری عامر سلطان چیمہ کی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے حوالے تحریک التوائے کا جواب دے رہے تھے ،اس موقع پرتحریک انصاف کے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کاڈیالوجی کی صورتحال بیان کی اور پنجاب حکومت کی گڈ گورننس کے خلاف بات کی تو حکومتی رکن اسمبلی میاں طارق نے کہا کہ عمران خان نے غریبوں سے چندہ جمع کرکے ہسپتال بنایا ہے مگر وہاں غریب آدمی قدم نہیں رکھ سکتا جس کے بعد اپوزیشن کے اراکین نے ایوان سے علامتی طور پر واک آوٹ کردیا ،کچھ دیر بعد ڈپٹی سپیکر نے زعیم قادری اور ملک احمد کو اپوزیشن کو منا کر لے آئے۔قبل ازیں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ پنجا ب کی دس کروڑ عوام کے نمائندوں کا ایوان ہے مگر افسوس ایوان میں ایک بھی صوبائی وزیر موجود نہیں ہیں،اس کے جواب میں ڈپٹی سپیکر نے کہا وہ کیبنٹ میٹنگ میں گئے ہیں ،محمود الراشید نے کہا یہ اور بھی افسوس کی بات ہے ایوان میں صرف وہی وزیر آئے جن کے متعلقہ سوال تھے وہ بھی وقفہ سوالات ختم ہوتے ہی چلے گے ،اگر پنجاب کے نمائندوں کا یہی حال رہا تو یہ ایوان نہیں چل سکتا،وزیر قانون بھی ایوان میں موجود نہیں ہیں۔جب سرکاری کارروائی کا آغاز ڈپٹی سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی طرف سے کرنا چاہا تو ایوان میں کوئی بھی وزیر موجود نہیں تھا ، جس کی وجہ سے ڈپٹی سپیکر کو ایجنڈا ادھورا چھوڑنا پڑا اور اجلاس آج صبح10بجے تک ملتوی کردیا۔

مزید : صفحہ آخر