چینی سائنسدان چاند کے اُس پار جانے کی تیاریوں میں لگ گئے

چینی سائنسدان چاند کے اُس پار جانے کی تیاریوں میں لگ گئے
چینی سائنسدان چاند کے اُس پار جانے کی تیاریوں میں لگ گئے

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چینی قوم کی ترقی کا راز ان کی انتھک محنت میں ہے، سادہ زندگی گزارنے والے چینی بلا کے مشکل پسند واقع ہوئے ہیں۔ اس بار بھی چین سے مشکل پسندی پر مبنی خبر آئی ہے۔دنیا کے کئی ممالک چاند تک کا کامیاب سفر کر چکے ہیں، لیکن کبھی کسی یہ نہیں سوچا ہو گا کہ جتنے بھی لوگ آج تک چاند پر گئے وہ چاند کی سطح پرکہاں اترے۔ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ جتنے خلا نورد بھی آج تک چاند پر گئے ہیں وہ چاند پر اس طرف اترے جو بالکل زمین کے سامنے واقع ہے، یعنی جہاں سے زمین نظر آتی ہے۔ چاند کی دوسری طرف آج تک کوئی بھی نہیں گیا۔ چین سے آنے والی خبر کے مطابق چینی سائنسدان چاند کے اُس پار جانے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔چینی خلائی ادارے ’’لونر ایکسپلوریشن پروگرام‘‘ کے چیف انجینئر وو ویرن کا کہنا ہے کہ آج تک کسی بھی ملک نے اس مشن کے متعلق سوچا بھی نہیں۔وو ویرن نے ایک چینی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا نام Chang'e-4رکھا گیا ہے جس کا آغاز 2013ء میں شروع کیے گئے پروگرام Chang'e-3میں ملنے والی کامیابیوں کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔یہ مشن تکنیکی طور پر انتہائی اہم ثابت ہو گا۔ ہم فی الحال چاندکی دوسری طرف اترنے کی جگہ کے متعلق غوروفکر کر رہے ہیں۔ہم شاید ایسی جگہ کا انتخاب کریں گے جہاں لینڈ کرنا انتہائی مشکل ہو۔انہوں نے کہا کہ آج تک چاند پر جانے والے دیگر ممالک کے خلانوردوں نے چاند کی قریب ترین جگہ پر لینڈ کیا، ہم چاند کے دوسری طرف کی سطح کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ہم Chang'e-3کے دوران کیے گئے مشاہدات و تجزیات کو Chang'e-4میں دہرانا نہیں چاہتے۔ ویرن کا کہنا تھا کہ نئے مشن کے متعلق تمام تر ضروری تحقیقات کر لی گئی ہیں، ان تحقیقات کے نتیجے میں اسے قابل عمل قرار دیا گیا ہے اور اس مشن کے اہداف بھی طے کر لیے گئے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر