پنشن کے عوض تنہائی کے شکاربوڑھے شخص نے گود لینے کی پیشکش کردی

پنشن کے عوض تنہائی کے شکاربوڑھے شخص نے گود لینے کی پیشکش کردی
پنشن کے عوض تنہائی کے شکاربوڑھے شخص نے گود لینے کی پیشکش کردی

  

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیڑھ عشرہ قبل بیوی کے انتقال کے بعد تنہاءزندگی گزارنے والے 75سالہ ہوآن چی نامی شخص نے پنشن کی رقم کے عوض کسی کے ساتھ رہنے کی پیشکش کردی ۔

 ہو آن کا اکلوتا بیٹا آمدنی زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے ہاسٹل میں رہتا ہے اور باپ کو اپنے ساتھ لے جانے سے قاصر ہے۔ اس کے دیگر رشتے دار بھی دوسرے شہروں میں ہیں ، ژیاﺅین نامی لڑکی ہو آن کے پڑوس میں رہتی تھی۔ اس رحم دل لڑکی نے چھے برس تک ہوآن کی دیکھ بھال کی مگر شادی کے بعد وہ بھی اپنے گھر چلی گئی۔ ہو آن نے ژیاﺅ کو اپنی بیٹی کی طرح گھر سے رخصت کیا تھا۔ ژیاﺅ نے بڑی حد تک ہو آن کی تنہائی کا مداوا کردیا تھا مگر اس کی رخصتی کے بعد ایک بار پھر تنہائی کا عذاب ہوآن کو ڈسنے لگا۔

ہو آن کو ماہانہ 6000یوآن پنشن ملتی ہے اورپچھلے دنوں اسے اپنی تنہائی دور کرنے کی ایک منفرد ترکیب سوجھی ۔ اسے آپ عذاب تنہائی سے نجات پانے کے لیے ہوآن کی آخری کوشش بھی سمجھ سکتے ہیں۔ چند روز قبل ہوآن کی جانب سے مقامی اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا۔ اشتہار میں کہا گیا تھا،”ضرورت ہے ایسے خاندان کی جو میری ماہانہ پنشن کے عوض مجھے گود لے سکے“ اس منفرد اشتہار نے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بھی توجہ حاصل کی، اور وہ اس کے پس پردہ سبب جاننے کے لیے ہوآن کے پاس پہنچ گئے۔

 ہوآن نے انہیں بتایا کہ خالی گھر اسے کاٹنے کو دوڑتا ہے، اس نے اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے اشتہار دیا ہے۔ ہوآن چی کے مطابق جو خاندان اسے ”گود لینا“ چاہے، وہ اس کی ماہانہ پنشن کا حق دار ہوگا، اور بلا کرایہ اس کے ساتھ اس کے گھر میں رہ سکے گا۔ اگر وہ ہوآن کے گھر میں نہ رہنا چاہے تو پھر ہوآن ان کے ساتھ کہیں بھی رہنے کے لیے تیار ہے تاہم ہوآن نے یہ شرط رکھی ہے کہ مرنے کے بعد اسے اس کی اہلیہ کے پہلو میں دفنایا جائے گا۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ1980ءکی دہائی کے اوائل میں ہوآن شو آنگ چوڈسٹرکٹ کی اٹینڈنگ کمیٹی کا رکن تھااور چین کی اولین’ نیکسٹ جنریشن لائبریری‘ کی بنیاد بھی ہوآن ہی نے رکھی تھی۔

مزید : انسانی حقوق