اسامہ بن لادن پرعزم شخصیت، بیٹے کو جانشین بناناچاہتے تھے ، آخری وقت تک امریکہ پرحملے کی تیاری کرتا رہا: خفیہ دستاویز

اسامہ بن لادن پرعزم شخصیت، بیٹے کو جانشین بناناچاہتے تھے ، آخری وقت تک ...
 اسامہ بن لادن پرعزم شخصیت، بیٹے کو جانشین بناناچاہتے تھے ، آخری وقت تک امریکہ پرحملے کی تیاری کرتا رہا: خفیہ دستاویز

  

کراچی (ویب ڈیسک)اسامہ بن لادن اپنے بیٹے حمزہ کی تربیت اپنے جانشین کی حیثیت سے کر رہا تھا، وہ ایک پرعزم مگر خاندان کے لیے فکرمندشخص تھے اور آخری وقت تک امریکہ پر حملوں کےلئے تیاریاں کررہا تھا، پاکستان میں اپنے ٹھکانے سے تنظیم کے فعال کارکنوں کو خطوط ارسال کر تا رہا جس میں جہاد کی موجودہ صورتحال پر تنقیدکی گئی تھی اور جن میں موثر رہنے کےلئے تزویراتی اسباق فراہم کرنے کی پیشکش بھی تھی۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے مقامی اخبار نے لکھاکہ اسامہ بن لادن نے اپنے پیروکاروں سے درخواست کی تھی کہ وہ امریکہ پرحملے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور مسلمان باہمی لڑائیوں میں نہ الجھیں۔اس کے الفاظ تھے کہ ’توجہ امریکی لوگوں سے لڑنے اور انہیں قتل کرنے پر مرکوز رہنی چاہئے‘۔اس کے بائیس سالہ بیٹے حمزہ نے اپنے والد کو لکھا کہ اس کادل جنگ میں شرکت کےلیے تڑپ رہاہے، اس نے اردو کے استعمال کی تربیت تو حاصل کی تھی لیکن وہ کوئی عام جہادی ریکروٹ نہیں تھا۔ وہ اسامہ بن لادن کا چہیتا بیٹا تھا اور اسامہ اسے القاعدہ کے آئندہ کے رہنما کی حیثیت سے تیار کر رہاتھا۔

رپورٹ کے مطابق جب اسے امریکی نیوی کے کمانڈوز نے ہلاک کیا اس وقت اسامہ بن لادن گیارہ ستمبر کی دسویں سالگرہ منانے کےلئے مربوط میڈیامہم شروع کر رہے تھے۔ وہ ایک ویڈیو خطاب جاری کرنا چاہتا تھا جس کے ذریعے جہادی پراپیگنڈہ پھیلایا جائے۔ ایبٹ آباد میںاسامہ کا ٹھکانے سے ملنے والی ہزاروں دستاویزات کے ریکارڈ سے اسامہ کی زندگی کے بارے میں دلچسپ معلومات ملتی ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ اسامہ بن لادن اگرچہ ایک پرعزم شخص تھا لیکن وہ تفصیلات پر نظر رکھنے والا بیوروکریٹ بھی تھا اور اپنے اہل خانہ کے حوالے سے پریشان بھی تھا۔

بدھ کو امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے اسامہ کے حوالے سے ’بن لادن کی بک شیلف‘ کے نام سے جاری کی گئی دستاویزات کا دائرہ دہشت گردی کے سربراہ کی نجی زندگی تک پھیلا ہوا ہے۔اس میں وہ کھلے عام دستیاب مواد بھی شامل ہے جو حکومتی رپورٹوں، مذہبی کتب ، اخباری تراشوں اور نقشوں پر مشتمل ہے۔2008کے اپنی ایک بیوی کےنام اپنے ایک خط میں بن لادن نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ ماراجائے تواس کی بیٹیاں یا تو مجاہدین یا پھر ا چھے لوگوں سے شادیاں کریںاور ان کے بچے جہاد کے محاذ پر جنگ لڑنے کےلیے بھیجے جائیں۔اسامہ بن لادن کی کلیکشن میں القاعدہ میں نوکری کےلیے درخواست فارم بھی شامل تھا جس میں ماضی کی نوکری، کیرئیر کے مقاصد، مجرمانہ ریکارڈ کے روایتی سوالات کے ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ ” اگر آپ شہید ہوجاتے ہیں تو ہمیں کس سے رابطہ کرنا چاہئے؟“۔

تنظیم کے ایک کارکن کے خلاف مجرمانہ ٹرائل پر زبانی جاری کی گئی ہدایات پر مشتمل دستاویز میں بن لادن اپنے بڑے مقاصد

بتاتے ہوئے کہتا ہے ” خدا کی قسم ہم نہیں رکیں گے، انشااللہ سوائے اس کے کہ ہم وائٹ ہاﺅس کی دہلیز پر ہوں یا ان کے مجسمہ آزادی پر توحید کا پرچم نہ لہرادیں۔ایک بغیر تاریخ کے خط میں اسامہ نے جہادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے باہر اپنے اڈے بنائین کیونکہ یہ ملک نہ صر ف عالمی کافر کا سب سے بڑا حامی ہے بلکہ اس کا رہنما اور بڑا شراکت دار بھی ہے۔ان دستاویزات میں اسامہ کی لائبریری کی انگریزی زبان کی کتابیں بھی شامل ہیں اور ان سے پتہ چلتا ہے کہ اسے امریکا کے حوالے سے سازشی تصوررات میں کتنی دلچسپی تھی۔

ان کتابوں میں جان پرکن کی مقبول ترین کتاب ’Confessions of an Ecnomic hitman‘ اسٹیس مولن کی ’The secrets of Federal Reserve‘سی آئی اے کے ریسرچ پروگرام برائے ’بیہوریل ماڈیفکیشن‘ کے مکولترا پراجیکٹ پر کانگریس میں ہونے والی 1977کی سماعت کی ایک نقل، نوم چومسکی کی ’Necessary Illusions: Thought control in democratic societies‘ اور فرٹز سپرنگ میئر کی کتاب ’Bloodlines of Illuminati‘شامل ہیں۔اسامہ نے نائن الیون کے حملوں کے حوالے سے ان کتابوں اور مضامین کا ریکارڈ بھی رکھا ہوا تھا جن میں امریکا کے سرکاری بیانیے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔اس کے پاس2005کے لاس اینجلس ٹائمز کی ایک نقل تھی جس میں ایک ایسی دستاویزی فلم پر تبصرہ تھا اور جس کا لب لباب یہ تھا کہ سیاستدانوں، سیکورٹی کی صنعت اور میڈیانے بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اسامہ ان مصنفوں کی تحریروں میں کشش محسوس کرتا تھا جو امریکی خارجہ پالیسی اور بالخصوص دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ پر تنقید کرتے تھے۔اس موضوات پر جو کتابیں اسامہ سےم لیں ان میں سی آئی اے کے ایجنٹ مائیکل شیوئرکی کتاب ’Imperial Hubis; Why the west is losing the war on terror‘ اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافی اور واٹر گیٹ کے لیجنڈ باب ووڈ ورڈ کی ’Obama’s Wars‘ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انسداد شورش اور گوریلا آپریشنز پر کتابیں اور عالمی قوانین پر مشتمل ایک دستی کتاب بھی ان میں شامل تھی۔اسامہ کے زیر مطالعہ کتب میں فرانسیسی معیشت کی تاریخ پرایک غیر مطبوعہ مسودہ ’Did france craete the great depression‘ شامل تھی۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں