سموں کی تصدیق ، ٹیلی کام سیکٹرمالی بوجھ بڑھ گیا، کمپنیوں کو صارفین سے ہاتھ دھوناپڑیں گے:سٹیٹ بینک

سموں کی تصدیق ، ٹیلی کام سیکٹرمالی بوجھ بڑھ گیا، کمپنیوں کو صارفین سے ہاتھ ...
سموں کی تصدیق ، ٹیلی کام سیکٹرمالی بوجھ بڑھ گیا، کمپنیوں کو صارفین سے ہاتھ دھوناپڑیں گے:سٹیٹ بینک

  

کراچی(آن لائن) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بائیومیٹرک ری ویریفکیشن مہم کو ٹیلی کام سیکٹر پر مالی بوجھ میں اضافے کا سبب قرار دے دیا ہے اور کہاکہ غیرمصدقہ سموں کی بندش کی وجہ سے کمپنیوں کو صارفین سے ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔

رواں مالی سال کی اپنی پہلی ششماہی جائزہ رپورٹ میں سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ کمیونی کیشن سیکٹر پاکستان کے سروسز سیکٹر میں ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور کمیونی کیشن سروسز جیسے اہم درجے میں شامل ہے جس کی رواں مالی سال افزائش کا مجموعی ہدف 3.2فیصد رکھا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور کمیونی کیشن سروسز میں کمیونیکیشن سیکٹر دوسرا بڑا شعبہ ہے۔ تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد اس شعبے نے خدمات کی نئی رینج متعارف کرائی ہے۔

سیلولر کمپنیاں اپنے نیٹ ورک اور سسٹم کی اپ گریڈیشن میں سرمایہ کاری کررہی ہیں جس سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ سٹیٹ بینک نے مزید کہا ہے کہ سموں کی بائیومیٹرک ری ویریفکیشن کے لیے مقررہ مدت کے خاتمے کے بعد تمام غیررجسٹرڈ سمیں بند کر دی جائیں گی۔

واضح رہے کہ پلاننگ کمیشن نے رواں مالی سال سروس سیکٹر کی 5.2 فیصد نمو کا ہدف مقرر کیا ہے جو گزشتہ پانچ سال میں 3.6 فیصد کی اوسط شرح نمو سے زیادہ ہے۔ سروسز سیکٹر میں ہول سیل اینڈ ریٹیل ٹریڈ کا حصہ 31.9 فیصد، ٹرانسپورٹ، سٹوریج اینڈ کمیونی کیشن کا حصہ 22.3 فیصد، فنانس اینڈ انشورنس کا حصہ 5.4فیصد، ہاﺅسز سروسز کا حصہ 11.6 فیصد، عمومی سرکاری خدمات کا حصہ 12.1 فیصد جبکہ دیگر نجی خدمات کا حصہ 16.6 فیصد ہے۔

مزید : بزنس