خوبصورت ترین خاتون قصائی کا چرچہ،لمبی قطاریں ،لوگ گوشت خریدنے کے بہانے کیا بات کرتے ہیں؟جان کر آپ کے لیے بھی ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا

خوبصورت ترین خاتون قصائی کا چرچہ،لمبی قطاریں ،لوگ گوشت خریدنے کے بہانے کیا ...
خوبصورت ترین خاتون قصائی کا چرچہ،لمبی قطاریں ،لوگ گوشت خریدنے کے بہانے کیا بات کرتے ہیں؟جان کر آپ کے لیے بھی ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا

  

تائپے (نیوز ڈیسک) قصاب کا کام یقیناً دلکشی کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کسی طرح کا گلیمر ہے لیکن تائیوان میں جب ایک خوبرو دوشیزہ نے قصاب کا کام شروع کیا توہر کوئی اس کا دیوانہ ہوگیا۔

اخبار ”پیپلز ڈیلی“ کے مطابق 25 سالہ زینگ کائجی فو جین کیتھلک یونیورسٹی میں فلسفے کی طالبہ ہیں لیکن اپنے خاندانی کام میں مدد بھی کرتی ہیں۔ وہ اس قدر دلکش اور نازک ہیں کہ بالکل فیشن ماڈل نظر آتی ہیں لیکن جب وہ ٹوکہ پکڑ کر گوشت کاٹنا شروع کرتی ہیں توان کا حسن دوآتشہ ہوجاتا ہے۔ ڈونگ مین مارکیٹ میں زینگ کے گوشت کے سٹال پر ہر وقت نوجوانوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے اور شہر کے دور دراز علاقوں سے بھی لوگ اس کے پاس گوشت خریدنے آتے ہیں۔ حال ہی میں جب اس کی تصاویر اور ویڈیو انٹرنیٹ پر آئیں تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک انٹرنیشنل سٹار کی حیثیت اختیار کرگئیں اور اب تائیوان کے علاوہ چین، جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی ان کے مداحوں کی کمی نہیں۔

مزیدپڑھیں :وہ ملک جہاں ںصف آبادی کے پاس ’فل ٹائم‘نوکری نہیں لیکن پھر بھی شہری دنیا میں سب سے زیادہ خوش ہیں

 زینگ کا کہنا ہے کہ اکثر نوجوان محض اسے دیکھنے کے لئے گوشت خریدنے آتے ہیں لیکن وہ اپنی بے پناہ مقبولیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بہت شرماتی ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ بعض نوجوان یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اس کا فون نمبر حاصل کرنے کے لئے انہیں کتنا گوشت خریدنا پڑے گا۔

اپنے کام کے بارے میں بات کرتے ہوئے زینگ نے بتایا کہ یہ ایک مشکل کام ہے اور اسے بہت دھیان سے کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کئی دفعہ گوشت کاٹتے ہوئے زخم لگوا بیٹھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ گوشت کے بڑے ٹکڑے کاٹنا قدرے خطرناک ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی فیملی انہیں بڑے ٹوکے کے استعمال سے منع کرتی ہے۔

زینگ کے سٹال کے قریب ہی کام کرنے والے ایک بزرگ نے بتایا کہ وہ اس کے سامنے ہی پلی بڑھی ہے۔ بزرگ کا کہنا ہے کہ زینگ بہت ہی پیاری اور سعادت مند بچی ہے اور بے پناہ مقبولیت کے باوجود اس میں غرور کا نام و نشان نہیں بلکہ وہ روزانہ انتہائی انکساری کے ساتھ اپنا کام کرنے آتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس