مسلم ممالک کیلئے ڈوب مرنے کا مقام،سب نے منہ پھیر لیا،مشکلات میں گھرے مسلمان قبیلےکی مدد کیلئے امریکہ آگے آگیا

مسلم ممالک کیلئے ڈوب مرنے کا مقام،سب نے منہ پھیر لیا،مشکلات میں گھرے مسلمان ...
مسلم ممالک کیلئے ڈوب مرنے کا مقام،سب نے منہ پھیر لیا،مشکلات میں گھرے مسلمان قبیلےکی مدد کیلئے امریکہ آگے آگیا

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) میانمر میں بدترین مظالم کے شکار روہنگیا مسلمان جان بچانے کے لئے میانمر چھوڑ کر تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک کی طرف فرار ہورہے ہیں لیکن بدقسمتی سے بھوک اور بیماری سے بدحال افراد کو انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے مسلمان ممالک نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ دوسری طرف امریکا ان مظلوم مسلمانوں کی اکثریت کو اپنے ہاں پناہ دینے پر رضا مند ہوگیا ہے۔

گزشتہ تین ہفتوں کے دورن تقریباً 3 ہزار روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں نے زندگی بچانے کے لئے دیگر ممالک کا رخ کیا۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلروں نے مصیبت کے مارے ہزاروں افراد کو سمندر میں چھوڑ دیا اور ان کی اکثریت اب تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سمندروں میں موجود ہے کیونکہ ان ممالک نے ان کی کشتیوں کو اپنی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

مزیدپڑھیں:اکیسویں صد ی کے خطرناک ترین ہتھیار،جن کے بارے میں آپ کومعلوم نہیں

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی نمائندہ میری ہارف نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکا روہنگیا پناہ گزینوں کی مدد کے لئے تیار ہے اور ان کی اکثریت کو اپنے ہاں لانے پر رضا مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی اپیل پر امریکا روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرنے کے لئے اہم کردار ادا کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا اس مسئلے کو اکیلے حل نہیں کرسکتا اور دیگر ممالک کو بھی مدد کے لئے آگے آنا ہوگا۔

میانمر میں مسلمان اقلیت کو گزشتہ کئی سالوں سے بدترین استحصال کا سامنا ہے اور محض تین سال کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار روہنگیا مسلمان میانمر چھوڑ چکے ہیں۔ میانمر کے حکام انہیں بنگالی قرار دیتے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ یہ مسلمان غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آئے، اگرچہ میانمر میں ان کی اکثریت کئی نسلوں سے آباد ہے۔

مزید : انسانی حقوق