امریکی خفیہ ایجنسی کا وہ شرمناک دھندہ بے نقاب ہو گیالیکن امریکی میڈیا نے زبان تک نہ کھولی

امریکی خفیہ ایجنسی کا وہ شرمناک دھندہ بے نقاب ہو گیالیکن امریکی میڈیا نے ...
امریکی خفیہ ایجنسی کا وہ شرمناک دھندہ بے نقاب ہو گیالیکن امریکی میڈیا نے زبان تک نہ کھولی

  

سنٹیاگو (نیوز ڈیسک) امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈالنے میں صرف امریکی حکومت ہی نہیں بلکہ اس کی اتحادی حکومتیں اور حتیٰ کہ مغربی میڈیا بھی بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ لاطینی امریکا کے ملک چلی میں سی آئی اے کے منشیات کے نیٹ ورک اور اس پر حکومت اور میڈیا کی پراسرار خاموشی اس شرمناک رویے کا ایک اور ثبوت ہے۔

مزیدپڑھیں:وہ ملک جہاں نصف آبادی کے پاس فل ٹائم نوکری نہیں ہےلیکن پھر بھی شہری دنیا میں سب سے زیادہ خوش ہیں

اکتوبر 2012ءمیں چلی میں انویسٹی گیشن پولیس کے انسپکٹر فرنانڈو کاسٹیلو نے اس وقت کے وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور دیگر اہم حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ چلی میں ماہانہ 200 سے 300 کلو گرام کوکین کی سمگلنگ سے آگاہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منشیات بولیویا کے راستے چین میں لائی جاتی تھیں اور اسے یورپ اور امریکا میں بھی بیچا جاتا تھا۔ کاسٹیلو کے مطابق اربوں ڈالر کی منشیات کا یہ دھندہ سی آئی اے کا ایک خفیہ آپریشن تھا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر دولت اکٹھی کرکے ایکواڈور اور وینز ویلا کی جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنا تھا۔ کاسٹیلو کا کہنا ہے کہ نہ کسی یورپی حکومت نے سی آئی اے کے کالے دھندے کا نوٹس لیا اور نہ ہی مغربی میڈیا میں کبھی اس کی خبر شائع ہوئی۔

ایکواڈور میں طویل عرصے تک تحقیقات کرنے والے چلی کے صحافی پیٹریشیو میری بیل کا بھی کہنا ہے کہ ان کی تحقیق اور شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ سی آئی اے نے چلی کو اپنا سٹریٹجک اور ملٹری اڈہ بنارکھا ہے جہاں سے لاطینی امریکا میں آپریشن کئے جاتے ہیں، لیکن مغربی حکومتیں اور میڈیا خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس