سعودی عرب میں ایسے کام پر بھاری جرمانہ ہوگاجس کے لوگ بہت شوقین ہیں

سعودی عرب میں ایسے کام پر بھاری جرمانہ ہوگاجس کے لوگ بہت شوقین ہیں
سعودی عرب میں ایسے کام پر بھاری جرمانہ ہوگاجس کے لوگ بہت شوقین ہیں

  

جدہ (محمد اکرم اسد / بیورو چیف) سعودی مجلس شوریٰ نے ٹائر سکریچنگ کی حوصلہ افزائی کرنیوالوں پر 15 سوریال جرمانے کی سزا کے قانون کی منظوری دے دی، گاڑی کے ذریعے سکریچنگ کرنے کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے سزاﺅں پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

 اطلاعات کے مطابق نوجوان لڑکے گاڑیوں کے کرتب دکھانے کیلئے خطرناک طریقے سے سکریچنگ کرتے ہیں جو نہ صرف ان کے لئے خطرناک ہوتا ہے بلکہ وہاں موجود نمائش بینوں کی جانوں کو بھی ان سے خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ایسے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں سکریچنگ کے دوران گاڑی بے قابوہوکر کرتب دیکھنے والے ہجوم میں گھس گئی جس سے موقع پر ہی متعدد افراد ہلاک اور شدید زخمی ہوجاتے ہیں۔ معاشرے سے اس رجحان کو ختم کرنے کے لئے سعودی کابینہ نے سکریچنگ کے انسداد کے لئے قوانین کو مزید سخت کردیا تاکہ سکریچنگ کرنے والے ہی نہیں بلکہ تماشہ دیکھنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، کابینہ نے اس ضمن میں جن قوانین کی منظوری دی ہے ان میں یہ کہا گیا ہے کہ سکریچنگ کے کرتب دیکھنے والے بھی اس طرح مجرم ہوں گے جس طرح سکریچنگ کرنے والے ہیں۔ دیکھنے والوں پر بھی 15 سو ریال جرمانہ اور ان کی گاڑی 15 دن تک کے لئے پولیس کی تحویل میں رکھی جائے گی۔

 قانون میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر تماشہ دیکھنے والا سکریچنگ میں شامل ہو اور اس نے نشہ بھی کررکھا ہو یا اس کے قبضے سے منشیات برآمد ہوں یا وہ کسی سابق جرم میں گرفتار رہا ہو اس پر قید اور جرمانے کی سزاﺅں کا اطلاق ہوگا ایسے شخص کو سخت سزا دی جائے گی۔ تائد اگر سکریچنگ کرنا پہلے بھی قانوناً جرم تھا جس سے کافی خطرناک حادثات سامنے آئے ہیں۔ جن کی وجہ سے سعودی کابینہ نے سخت سزاﺅں کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ان پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ کابینہ نے ٹائر سکریچنگ کرنے والوں کے خلاف بھی سزاﺅں میں اضافے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکریچنگ میں ملوث افراد پر 10 ہزار ریال جرمانہ، 2 سے 6 ماہ قید یا جرمانہ اور قید کی سزا ایک ساتھ دی جاسکتی ہے، دوسری دفعہ سکریچنگ میں گرفتار ہونے والوں کے خلاف جرمانے کی رقم اور قید کی مدت میں اضافہ کیا جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی