داعش نے 12 سالہ لڑکی کو زندہ جلادیا، موت سے پہلے اس لڑکی کے آخری الفاظ کیا تھے؟ جان کر آپ کیلئے اپنے آنسو روکنا ناممکن ہوجائے گا

داعش نے 12 سالہ لڑکی کو زندہ جلادیا، موت سے پہلے اس لڑکی کے آخری الفاظ کیا تھے؟ ...
داعش نے 12 سالہ لڑکی کو زندہ جلادیا، موت سے پہلے اس لڑکی کے آخری الفاظ کیا تھے؟ جان کر آپ کیلئے اپنے آنسو روکنا ناممکن ہوجائے گا

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق کے شمالی شہر موصل میں گزشتہ دنوں داعش کے شدت پسندوں نے ایک 12سالہ لڑکی کو اس کے گھر میں ہی زندہ جلا کر مارڈالا۔ اس لڑکی نے اپنی آخری سانسیں لیتے ہوئے اپنے خاندان سے کہا کہ ”ان شدت پسندوں کو معاف کر دینا۔“

داعش نے نوجوان لڑکیوں کو تنظیم میں شامل کروانے کیلئے ایک ایسا حربہ اپنالیا جس کے بارے میں کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا، سکیورٹی اداروں کی نیندیں اڑگئیں

برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ”ہم داعش کے شدت پسندوں کو جزیہ ادا نہیں کر سکے تھے۔ گزشتہ دنوں وہ ہمارے گھر آئے اور کہا کہ تمہارے پاس دو ہی راستے ہیں، گھر چھوڑ کر چلے جاﺅ یا جزیہ ادا کر دو۔میں نے انہیں کہا کہ ہم جزیہ ادا کر دیں گے لیکن اس وقت ہمارے پاس رقم نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے گھر کو آگ لگانی شروع کر دی۔ میں نے انہیں روکا کہ کچھ سیکنڈ رک جاﺅ، میری بیٹی واش روم میں ہے۔ مگر انہوں نے فوری طور پر گھر کو آگ لگا دی جس پر میری بیٹی بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔وہ آگ سے نکلتے نکلتے بری طرح جھلس گئی۔ ہم اسے ہسپتال لے گئے مگر چند گھنٹے بعد ہی اس نے دم توڑ دیا۔ اس نے میری بانہوں میں دم توڑا۔ اس نے آخری سانس لیتے ہوئے مجھے کہا کہ ”انہیں معاف کردینا۔“واضح رہے کہ داعش نے اپنے زیرقبضہ علاقوں میں غیرمسلموں پر جزیہ کا قانون لاگو کر رکھا ہے اور جو غیرمسلم جزیہ ادا نہیں کر پاتے انہیں علاقے سے نکال دیا جاتا ہے اور طرح طرح کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ داعش کی ایسی کارروائیوں کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 5سالوں میں داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں غیرمسلموں کی تعداد بالکل ختم ہو جائے گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -