پانامہ ، پارلیمان، اور سیاست؟

پانامہ ، پارلیمان، اور سیاست؟
پانامہ ، پارلیمان، اور سیاست؟

  

اے حقیقت ِ منتظر

از:۔ خرم اقبال اعوان

سیا ست اور حکومت میں کسی بات کسی چال کا کوئی مو ل نہیں ہو تا سب کا مقصد صر ف اور صرف حد ف کا حصول ہوتا ہے ۔یہی سیا ست پا کستا ن کی ہے ۔یہی بر صغیر کی سیا ست کا بنیا دی ا صول ہے ۔ یہ ہی سب کچھ ہو رہا ہے ۔پا نا مہ لیکس کے حوالے سے تحقیقا ت کے مطا لبا ت پر با ت کبھی FIAتک جا تی ہے ۔کبھی وزیر اعظم ریٹا ئرڈ جج کے زیر نگرانی کمیشن کا کہتے ہیں ۔کبھی حا ضر سروس جج کامطا لبہ آتا ہے ۔وہ بنا نے کے لیے خط لکھا جا تا ہے ۔تو چیف جسٹس انکار کر دیتے ہیں ۔کیو نکہ حا لا ت اتنی تیزی سے بدلتے ہیں ۔کہ چیف صاحب بھی اس کا م میں ہا تھ ڈالنے سے انکا ر کر دیتے ہیں۔ویسے کو ئی چیف اس کام میں کو دے گا ۔ہا ں اگر دھکا مل جا ئے تو وہ ایک الگ با ت ہے ۔ویسے چیف جسٹس صا حب کی تما م با تیں جو انہو ں نے انکا ر کرتے ہوئے خط میں لکھیں سب با تیں ہی ما ن لوں مگر جو انہوں نے " TOOTH "LESSوالی با ت لکھی اس سے میں اتفا ق نہیں کر تا کیو نکہ اس اختیا ر کا ما نگنا پس پردہ کسی خفیہ سا زش کا پتہ دیتی ہے ۔لیکن اس میں سے ایک خیر کا پہلو نکل آیا اور وہ یہ کہ وزیر اعظم پا کستا ن اسمبلی میں آگئے ۔مگر کوئی کچھ بھی کہے مگر نواز شر یف صاحب کی تقریر میں وہ با ت نہیں تھی جو ہونا چا ہئے تھی۔مگر اس پر جو متحدہ اپو زیشن نے ردعمل دیااستا دِ محترم مجیب الرحما ن شا می صا حب کے بقول وہ درست نہیں تھا ۔میں انتہا ئی ادب سے اختلا ف کر تے ہوئے یہ عرض کرنا چا ہتا ہوں ۔جنا ب خورشید شاہ صا حب نے جو عمل کیا وہ صحیح تھا۔ایک تو انہوں نے تمام ملک اور با قی تما م پا رٹیو ں کوبا ور کروا دیا کہ پا کستان میں اگر کوئی مکمل دو بڑی سیا سی طا قتوں میں سے دوسر ی بڑ ی سیا سی جما عت پا کستا ن پیپلز پارٹی ہے جس کا ہر فر د سیا سی ورکر اور سیا سی شعور کا ما لک ہے ۔دوسرا یہ جنا ب کہ اگر وہ ایوا ن میں تقریر کرنا شروع کرتے تو نواز شریف صا حب کو یا تو ا ٹھ کر جا نا پڑتا یا پھر ہرقسم کی جلی کٹی سننی پڑتیں اور شا ید شدید نعرے با زی بھی انکا مقدر ٹھہرتی ۔ حکومت کو پیپلز پارٹی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جہاں تمام اپوزیشن پارٹیاں سب سے پہلے یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ نواز شریف مستعفی ہو جائیں اور پھر تحقیقات ہوں وہ سب انھوں نے کس طرح ایک میز پر سب اپوزیشن کو بٹھا کر ختم کر دیا اور معاملہ صرف تحقیقات تک رہ گیا ہے۔

پیپلز پا رٹی نے انہیں ان سب با توں سے نا صرف بچا یا بلکہ تما م اپوزیشن کو اپنے ساتھ رکھتے ہو ئے متفقہ طور پر بچا یا۔اور با قی اداروں کی طرح پارلیمان کے لوگوں کا احتساب پارلیمان کے اندر کرنے کی روایت ڈال دی ہے۔اگر ہم سب کو یادہو تو خورشید صاحب نے پہلی مرتبہ یہ ہی بات کی تھی کہ وزیراعظم پارلیمان میں آئیں ایک پارلیمانی کمیٹی بنائیں وہ اِس بات کا فیصلہ کرے۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے فوج اپنا احتساب خود کرتی ہے۔جس طرح عدلیہ اپنا احتساب خود کرتی ہے۔اسی طرح پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کااحتساب بھی پارلیمان خود کرے۔ اِس رنگ میں تھوڑا سا بھنگ ڈالنے کی کوشش ہوئی جب ایم کیو ایم اپوزیشن اتحاد سے الگ ہوئی، اِن کے الگ ہونے پر اپوزیشن اتحاد کو خاص فکر بھی نہیں تھی کیونکہ زرا ئع کے مطابق ایم کیو ایم اتحاد میں ہوتے ہوے بہت سے مراحل پر اپنی ڈھیڑ اینٹ کی مسجد بنانے کی کوشش میں تھی۔

 اور پھر جب ایم کیو ایم اپوزیشن کے اتحاد سے باہر آئی تو کچھ اطلاعات کے مطابق اسحاق ڈار صاحب کی فاروق ستار صاحب سے گفتگو ہوئی جس میں اسحاق ڈار صاحب نے اُن سے اپوزیشن اتحاد میں آنے کا کہا اور کردار ہمہ وقت ن لیگ کے حق میں ادا کرنے کا کہا۔اِس کی بھنک اپوزیشن کو ہو گئی جس وجہ سے اپوزیشنMQMکو اتحاد میں رکھنا نہیں چاہتی تھی۔دوسری حرکت برسراقتدار پارٹی میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے یہ فرمائی کہ زاہد حامد صاحب نے اپوزیشن کے ایوان میں آنے سے پہلے قرارداد پیش کر دی اور اُس میں پارلیمانی کمیٹی کے دونوں جانب سے 6,6 ارکان جو ایک رات قبل طے ہوئے تھے کی بجائے7حکومت کے اور 7اپوزیشن کے ارکان کر دیے گئے اور قراداد کو منظور کر لیا گیا جب اپوزیشن ایوان میں آئی تو پتہ چلنے پر ہنگامہ ہوا جس پر قراداد واپس لینی پڑی پھر سے بات چیت کر کے آفتاب شیر پاؤ صاحب کو اُن کی رضامندی کے تحت کمیٹی سے باہر کیا گیا اور بیرسٹر سیف کو کمیٹی میں شامل کیاگیا۔یہاں ایک اور بات کہتا چلوں کہ پیپلزپارٹی کو خاص طور پر خورشید شاہ صاحب،بلاول بھٹو زرداری صاحب اور آصف علی زرداری صاحب کو اپنوں سے اور MQM سے ہوشیار رہنا ہے۔کیونکہ ذرائع کے مطابق یہ اطلاعات بھی ہیں کہ میٹنگز میں پیش پیش ہیں اُن کا تعلق بھی PPP سے تو ہے مگر یہ لوگ یہاں اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کے طور پر اِن میٹنگز میں موجود ہیں۔اِن سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔اعتراز صاحب کا نام اِس وجہ سے لکھ دیا کیونکہ محترم حفیظ اللہ نیازی صاحب کی تحریر نظروں سے گزری جس میں اُنہوں نے میمو گیٹ کے خلاف جو پٹیشن دی تھی جس میں بڑے مجرم کے طور پر حسین حقانی اور پیپلزپارٹی پر زور تھا۔ وہ پٹیشن اعتراز صاحب نے لکھی تھی اور کسی چیف صاحب کے کہنے پر لکھی تھی۔اِس بات کا ابھی تک اعتراز صاحب کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا خیر۔

 اب چیف جسٹس کے کمیشن بنانے سے انکار کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ ہے کہ حکومت کو اور وقت مل گیا۔ کیونکہ ایک جانب کمیشن بنانے سے انکار ہے تو دوسری جانب جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں اُن کو اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اعتراضات کو ختم کر کے دوبارہ سپریم کورٹ کو خط بھیجا جائے۔ اب اس کا مطلب یہ ہے کہ TOR's کو دوبارہ لکھا جائے گا، ان پر بحث ہو گی تکرار ہو گی شاید اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے بھی کچھ دور ہوں پھر اطلاع یہ بھی ہے کہ وزیراعظم شاید بیرون ملک دورے پرجائیں تو جب تک وزیراعظم صاحب ملک میں نہیں ہوں گے اُس وقت تک کوئی بات آگے نہیں بڑھے گی۔ سو حکومت اور وہ سیاسی جماعتیں جو حکومت کے ساتھ ہیں یا واضح طور پر کہہ دوں کہ جو پارلیمان اور جمہوریت کے ساتھ ہیں ان سب کو اچھا خاصہ وقت مل جائے گا۔ اور جتنا یہ معاملہ لٹکے گا اتنا ہی کمزور ہو گا۔ اتنے ہی نئے چہرے اور نئی کہانیاں سامنے آتی جائیں گی۔ یعنی یوں کہہ لیں کہ یہ حکومت کے لیے خیر کی بات ہوئی ہے۔ ایک پوشیدہ خیر کی بات۔ اب حکومت کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور بات کو کسی بھی اور فورم سے اٹھا کر پارلیمنٹ میں لے آنا چاہیے تاکہ اس پر مزید کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ ویسے حکومت کو پیپلز پارٹی کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے جہاں تمام اپوزیشن پارٹیاں سب سے پہلے یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ نواز شریف مستعفی ہو جائیں اور پھر تحقیقات ہوں وہ سب انھوں نے کسی طرح ایک میز پر سب اپوزیشن کو بٹھا کر ختم کر دیا اور معاملہ صرف تحقیقات تک رہ گیا ہے۔

اب یہ سب ہو کیوں رہا ہے اور کون کر رہا ہے تو جناب اگر عمومی طور پر حالات کو دیکھا جائے تو خورشید شاہ صاحب کی کچھ روز پہلے کامران خان صاحب کے پروگرام میں کہی ہوئی باتیں درست معلوم ہوتی ہیں کہ نادیدہ قوتیں سب حرکت میں آ چکی ہیں اور جمہوریت اس وقت خطرے میں ہے۔ ویسے تو اس ملک میں جمہوریت ہمیشہ ہی خطرے میں رہی ہے۔ کیا بات یہیں تک ہے یا پس پردہ کچھ محرکات ہیں جو خطرے کا باعث ہیں۔ تو جناب جمہوریت کے لیے تو شاید کم باتیں خطرے کا باعث ہوں مگر نواز شریف صاحب کی ذات کے حوالے سے خطرات ہیں۔ کیونکہ پانامہ لیکس سے کچھ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ عمران خان صاحب نے نواز شریف صاحب کو کرپشن کے اسی پلڑے میں لا بٹھایا ہے جس میں زرداری صاحب تھے یا ہیں۔ دوسرا اہم پہلو یہ عوام کے ذہنوں میں ڈالا جا رہا ہے کہ نواز شریف صاحب کے بچے جو بزنس کر رہے ہیں وہ کرپشن کے پیسے سے بنا ہے اور اُن کی صاحبزادی مریم اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر نہ صرف سب جانتے ہیں بلکہ اس کرپشن میں شریک ہیں۔ اس وقت نواز شریف صاحب کا حال اسی طرح ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ بد سے بدنام برا۔ یہاں پر پھر پیپلزپارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا کہ جتنے بھی کرپشن کے الزامات ہیں وہ زرداری صاحب پر ہیں مگر بلاول سمیت آصفہ اور بختاور ان سے مبرا ہیں ابھی تک اور نہ ہی کوئی آف شور کمپنی ہے ان کے نام۔

اب سو چنا یہ ہے کہ نوا ز شریف صا حب کو کرنا کیا ہے ۔تو جنا ب کچھ اطلا عا ت یہ بھی ہیں کہ اتنا ہنگا مہ اس لیے بھی ہے کہ ایکسٹینشن درکا ر ہے ۔ تو ایکسٹینشن والے معاملے کی تصدیق تو ہمارے ذرائع بھی کر رہے ہیں کہ یہ بات وزیراعظم پاکستان کے سامنے رکھی گئی تھی تو میری اطلا عات کے مطا بق اس معاملے میں نواز شریف صا حب کا موقف تھوڑا سا مختلف ہے ۔ان کا کہنا ہے کہہ اس کی نفی تو خود چیف آف آرمی اسٹاف کر چکے ہیں تو اب اگر مدت ملازمت میں توسیع کی جاتی ہے تو تمام بوجھ سیاسی حکومت پر آ جائے گا یا تو چیف صاحب نے خود اس بات سے انکار نہ کیا ہوتا تو پھر بھی کوئی بات تھی مگر اب اس کی گنجائش نہیں ہے۔ اب اگر یہ قدم اٹھا ئیں گے تو تما م بوجھ سیا سی حکو مت پر گرے گا ۔ ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ یہ ایک وجہ ہے اختلاف کی سول اور ملٹری لیڈر شپ کے حوالے سے۔ اور اس وقت چوہدری نثار اور میاں شہباز شریف کافی حد تک سرگرم ہیں ہمیشہ کی طرح سول اورملٹری تعلقات کو درست کرنے کے لیے یا یوں کہہ لیں معمول پر لانے کے لیے۔ اب اس کا حل کیا ہے جنا ب ایک سا دہ سا حل ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملا زمت 4سا ل کر دی جا ئے اس سے دونوں فریقین بچ جا ئےں گے ۔ اس سے آرمی چیف پر یہ بوجھ نہیں آئے گا کہ اُن کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے۔ اور نہ ہی نواز شریف صاحب پر پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرز پر الزام آ سکے گا۔

مجھے ایک قدم اور آگے جا نے دیں اس ایک سا ل کا عرصہ بڑ ھنے سے خود بخود11 لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ہو جا ئیں گے اور با ری آئے گی جنرل رضوان اختر صا حب کی جو اب تک ما حول کے اعتبا رسے جنرل را حیل شریف کے اعتما د پر پورا اتر تے ہیں ۔اگر ایکسٹینشن ہوتی ہے تو میری دانست میں آنے والے چیف آف آرمی سٹا ف لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ہوں گے۔

مگر اب ہے ایک اور طریقہ یا پہلو اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف صاحب بالکل قوانین اور کتاب کے مطابق چلیں جس کی باری ہے جو سنیارٹی میں پہلے ہے اُن میں سے یہ عہدہ کسی ایک معیار پر پورا اترنے والے جنرل کے حوالے کر دیا جائے۔ اس صورت حال میں بھی نواز شریف صاحب کو کچھ خاص خطرہ نہیں ہے۔ باقی وہ ذاتِ حق بہتر جانتی ہے۔

 For feed back

khurramiqbalawan@gmail.com

مزید :

بلاگ -