بجٹ معاشی ترقی کا سنگ میل

بجٹ معاشی ترقی کا سنگ میل
 بجٹ معاشی ترقی کا سنگ میل

  

لاہور میں ایشیا کی دو بڑی انجینئرنگ صنعتوں میں سے ایک کے رہائشی پلاٹ بن کر بک چکے۔ دوسری بکھرتے چیتھڑوں کے ساتھ اپنے انجام کے انتظار میں کھڑی ہے۔ منصوبہ بندی اور بجٹ کے حقیقی تقاضوں سے نا آشنائی اور خود غرضیوں کے منہ بولتے ثبوت فراہم کر رہی ہے ۔ماضی کی ان دو بڑی انجینئرنگ صنعتوں کے عروج و زوال کی کہانی بیان ہو تو ہر محب وطن سننے والے کی آنکھیں نم ہو جا ئیں گی ۔ صنعتی اور تجارتی اداروں کی بڑی تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے کاروباری دنیا کو آباد و شاد رکھنا میری ذمہ دار یوں کا حصہ ہے،اس لئے بجٹ کو منصوبہ بندی کا شاہکار اور کاروباری دنیا کی رونق بڑھانے کا ذریعہ بنانے پر ہمیشہ زور دیتا چلا آ رہا ہوں۔کوشش ہوتی ہے کہ بجٹ کے ذریعے نئے ادارے وجود میں آئیں اور خزاں رسیدہ اداروں کی آبیاری کا اہتمام ہو تاکہ وہ بھی ہر ے بھرے ہو کر اہلِ وطن کو آرام و سکون مہیا ہو سکے۔بجٹ معاشی و اقتصادی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آئندہ سال کے لئے حکومت کاروباری شعبوں اور عوامی فلاح کے پروگراموں کے لئے اہداف مقرر کرتی ہے ۔ ایوانہائے صنعت و تجارت اور دیگر نمائندہ ٹریڈ باڈیز بجٹ کے لئے متعلقہ شعبوں کو بہتری کے لئے تجاویز دی جا چکی ہیں۔

وزارت خزانہ ۔ وزارت تجارت اور ایف بی آر نے تسلیم کر لیا تو صنعت چلے گی اور کاروباری فرو غ پائیں گے ۔برآمدات بڑھیں گی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا ۔ نہ صرف نئی صنعتیں لگیں گی، بلکہ بہتر حکمت عملی سے بند صنعتی یونٹ بھی چلنے لگیں گے ۔ غیر ملکی کاروباری اداروں کو دعوت عمل دینے کے ساتھ ساتھ ملکی اداروں کی صحت و سلامتی کی فکر بھی ضروری ہے ۔ حالیہ بجٹ ملک میں کھینچا تانی کے پس منظر میں آ رہا ہے ۔وزیر اعظم پاکستان دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرنے اور اشتراک و تعاون کی راہیں کشادہ کرنے میں مصروف رہے ۔ چین کی طرف سے سی پیک کی تعمیر وتکمیل اور بجلی منصوبوں کے لئے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد حالیہ دورے کے دوران چین نے پاکستان کے سات بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مزید500ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے ۔اقتصادی محاذ پر وزیراعظم پاکستان کی شاندار کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک سیاست دان حکومت کو مختلف معاملات میں الجھا کر ترقی کی رفتار سست کرنے میں کوشاں رہے ۔ صد شکر کہ ایک ایک کرکے لگ بھگ تمام منفی سرگرمیوں کے چراغ گل ہو چکے ہیں، اس لئے وزیراعظم ، وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اور حکومتی مشینری بجٹ کو صحیح معنوں میں کاروبار دوست ثابت کرنے پر بھرپور توجہ دیں گے۔ کاروباری طبقے کو پوری توقع ہے کہ حکومتی ذمہ داران جس طرح سرمایہ کاری کا بہاؤ پاکستان کی طرف موڑنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، اسی طرح موجودہ بجٹ کو کاروباری شعبوں کی ترقی کا آئینہ دار اور عوامی خوشحالی کا ذریعہ بنانے میں کامیاب و کامران ہوں گے ۔

اب تک کے سفر میں دیکھا گیا ہے کہ بیورو کریسی اور حکومتی مشینری بجٹ پر عملدرآمد کے مرحلے پر اپنے صوابدیدی اختیارات اور بیورو کریٹک سوچ کے ذریعے بعض اوقات محب وطن کاروباری شعبوں کو احتجاجوں کی صف میں کھڑا ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں ، اس لئے امید ہے کہ موجودہ بجٹ نہ صرف کاروبار دوست ہوگا، بلکہ اس پر عملدرآمد کے مر احل بھی آسان ہوں گے ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے گندم اٹھانے کے لئے کسانوں کو مطلوبہ تعداد میں بار دانہ دینے کا فیصلہ کیا ، لیکن مقامی افسرشاہی نے اس میں مشکلات پیدا کیں ۔اسی طرح فلور ملیں اپنے مقررہ ہدف کے مطابق 20 لاکھ ٹن گندم کسانوں سے نہیں خرید سکیں ،۔ اس لئے کہ سٹیٹ بنک اور محکمہ خوراک نے کسانوں کے ریفنڈ بر وقت ادا نہیں کئے ۔ اس قسم کے تاخیری حربے مقامی حکومتی مشینری کرتی ہے ۔ دیگر کاروباری شعبوں کو بھی ری فنڈ میں بے تحاشا تاخیر کی شکایات رہتی ہیں ۔ اس لئے پوری توقع ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیر خزانہ اس قسم کی شکایات کا ہمیشہ کے لئے تدارک کر دیں گے ۔۔۔ تاخیر کے ذمہ دار وں کو ہر جانے کی ادائیگی کا پابند کر دیا جائے تو ایسی شکایات کاازالہ ہو سکے گا ۔فلور ملوں کو کیوں کہنا پڑا کہ اگر ان کے ریفنڈ ادا نہ کئے گئے تو ملوں کو تالے لگا کر چابیاں حکومت کو پیش کر دیں گے۔ کل کو کاروباری شعبوں کو بیورو کریسی نے اسی طرح زچ کیا تو وہ بھی ہڑتال پر مجبور ہو جائیں ۔موجودہ حکومت جس طرح پاکستان کو ایک جدید ترقی یافتہ روشن ملک بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وزیراعظم کاروباری طبقے کو سربلند اور بیورو کریسی کو اس کا مددگار بنائیں ۔

مزید :

کالم -