اقتصادی راہداری :ہم سب ایک ہیں

اقتصادی راہداری :ہم سب ایک ہیں
 اقتصادی راہداری :ہم سب ایک ہیں

  

وزیراعظم محمد نواز شریف ون بیلٹ، ون روڈ فورم میں شرکت کے بعد چین سے واپس پاکستان آگئے ہیں۔ وزیر اعظم کے ہمراہ وفد میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کے علاوہ دیگر اہم شخصیات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر تجارت خرم دستگیر خان، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمن، امور خارجہ کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز شامل تھے۔ بیلٹ اینڈ روڈ (بی آر ایف ) فورم 2013 ء چینی صدر کی جانب سے سلک روڈ اقتصادی پٹی اور 21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ اقدام کا حصہ ہے۔ فورم کے انعقاد کا مقصد باہمی تعاون کے ذریعے ترقی کے مشترکہ اہداف کاحصول ہے۔ وزیراعظم نے چاروں وزراء اعلیٰ کو ساتھ چین لے جا کر مثال قائم کر دی۔ گوادر ائرپورٹ، ایکسپریس وے سمیت دیگر معاہدے دورہ چین کے ایجنڈا پر تھے۔ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ فورم پاکستان کے مواصلاتی شعبہ بالخصوصی ریلوے کو بہتر بنانے میں معاون ہوگا۔ لنڈی کوتل، طورخم تک ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور اس روٹ پر ٹرینوں کی رفتار دوگنا ہو جائے گی، اس کے ساتھ ساتھ سگنل کا نظام بھی بہتر ہوگا۔ یہ بین الاقوامی برادری کو واضح پیغام ہے کہ قومی اہمیت کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف نے بیجنگ میں چین کے صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتیں کیں ہیں ،جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان بھاشا ڈیم گوادر ائیرپورٹ کی تعمیر میں تعاون سمیت اربوں روپے (50 کروڑ ڈالر)کے 6 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ چینی قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ون بیلٹ ون روڈ کا حامی ہے ، مسئلہ کشمیر پر چین پاکستان کیساتھ کھڑا ہے۔ اقتصادی راہدری کے لئے ہم ایک ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزارت پانی و بجلی اور پلاننگ کمیشن چین کے حکام سے مل کر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام کریں گے۔ بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کی نگرانی خود کروں گا۔جو9 سال میں مکمل ہوگا اس سے پاکستانی عوام کو سستی بجلی میسر ہو گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بھاشا ڈیم سے 40 ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ چین کے صدر شی پنگ نے پاکستان سمیت مختلف ممالک میں 124ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔بیجنگ میں کانفرنس کے آغاز پر شی جن پنگ نے 'بیلٹ اینڈ روڈ فورم' کے انیشی ایٹو کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'تجارت معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت قدیم ’’سلک روٹ‘‘ یا شاہراہ ریشم کو دوبارہ قائم کرنا شامل ہے اور اس کے لئے بندرگاہوں، شاہراہوں اور ریل کے راستوں کے بنانے میں سرمایہ کاری کی جائے گی، تاکہ چین کو ایشیا، یورپ اور افریقہ سے جوڑا جا سکے۔ بیلٹ اینڈ روڈ کو فروغ دے کر ہم تعاون اور آپس کے فائدے کا نیا ماڈل تیار کریں گے۔ ہمیں تعاون کا کھلا پلیٹ فارم تیار کرنا چاہیے اور ایک کھلی عالمی معیشت کو فروغ دینا چاہیے۔ خواہ ایشیا اور یورپ کے ہوں یا افریقہ اور امریکہ کے سب بیلٹ اینڈ روڈ کو تیار کرنے میں ہمارے تعاون کرنے والے شراکت دار ہیں۔صدر شی جن پنگ نے اپنے اس انیشی ایٹو کو ’’صدی کا بڑا پراجیکٹ‘‘ قرار دیا جس سے دنیا بھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون انیشی ایٹو میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تقریباً 60ممالک تجارت میں ایک ساتھ جڑ جائیں گے۔ کانفرنس سے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے علاوہ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے بھی خطاب کیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری سرحدوں کی پابند نہیں ، ون بیلٹ ون منصوبہ تین براعظموں کو ملائے گا ، اس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی ، ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لئے تحفہ ہے۔ چین میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا انعقاد تاریخی واقعہ ہے، غربت کا بھی خاتمہ ہوگا۔پاک چین اقتصادی راہداری ٹھوس منصوبہ بندی اور پختہ عزم اقتصادی راہداری کی تکمیل کا ضامن ہے۔پاکستان کی نوجوان نسل کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہئے۔ چائنا ریلوے کا منصوبہ باہمی روابط کا پل ہے،منصوبے سے دنیا کے 65 ممالک استفادہ کریں گے۔ علاقائی روابط کے منصوبوں پربے مثال سرمایہ کاری ہورہی ہے، ممالک کے درمیان تنازعات کے بجائے تعاون فروغ پاناچاہیے۔ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ شاہراہ ریشم جیسے منصوبوں کی یاد تازہ کرتا ہے،ایسے منصوبے غربت کے خاتمے کا باعث بنیں گے اور معاشی خوشحالی دہشت گردی اورانتہاپسندی پرقابوپانے میں معاون ہوگی۔ وزیراعظم نوازشریف نے ون بیلٹ ون روڈ کے تحت ہونے والے سربراہی اجلاس میں انڈیا کے لئے ایک واضح پیغام میں کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا منصوبہ خطہ کے تمام ممالک کے لئے ہے اور اس منصوبے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم نے انڈیا کا نام لئے بغیر کہا کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سی پیک کا منصوبہ ایک اقتصادی منصوبہ ہے ،جس میں سرحدوں کی کوئی قید نہیں ہے اور کوئی بھی ملک اس میں شامل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔

مزید :

کالم -