سی پیک مزدوروں پر فائرنگ کا دوسرا واقعہ

سی پیک مزدوروں پر فائرنگ کا دوسرا واقعہ

  

بلوچستان میں سی پیک منصوبے کے لئے کام کرنے والے تین مزدوروں کو دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ تربت کے قریب ہوشاب میں پیش آیا۔ دہشت گردی کا شکار ہونے والے مزدور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے بھرتی کر رکھے تھے اور وہ موٹر وے کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔ ہلاک ہونے والے مزدوروں کا تعلق سندھ سے بتایا گیا ہے۔ اسی قسم کی دہشت گردی کا واقعہ چند روز قبل گوادر میں بھی پیش آیا تھا، جہاں موٹر سائیکل سوار سڑک اور دیوار کی تعمیر میں مصروف مزدوروں کو اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنا کر فرار ہوگئے تھے۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں 10 مزدور جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان مزدوروں کا تعلق بھی اندرون سندھ سے تھا۔ دہشت گردی کا یہ دوسرا واقعہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ سی پیک منصوبے پر کام کرنے والوں کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات نہیں کئے گئے تھے۔ یہ بات واضح ہے کہ سی پیک کے دشمن چھپ کر وار کرکے فرار کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس کے بارے میں متعلقہ حفاظتی اور انتظامی ایجنسیوں کو دشمن کی ایسی کارروائیوں سے ہوشیار رہتے ہوئے حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا چاہئے۔ اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دونوں وارداتوں میں دہشت گردوں نے اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا یہ کسی گہری سازش کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے تاکہ ایسی کسی مزید کارروائی میں دشمنوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکے۔ *

مزید :

اداریہ -