جنرل باجوہ گڈ گورننس،سرکاری ملازم اور ہم!

جنرل باجوہ گڈ گورننس،سرکاری ملازم اور ہم!
 جنرل باجوہ گڈ گورننس،سرکاری ملازم اور ہم!

  

بری افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی تازہ ترین تقریر نے بحث کے نئے دروازے کھول دیئے اور تجزیہ نگار حضرات کے ہاتھ ایک نیا موضوع آ گیا، حالانکہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو کہا وہ حقیقت بھی تو ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں، بہتر تو یہی ہے کہ ان کی باتوں کو اپنے معنی نہ پہنائے جائیں اور اپنی خواہشات کے دائرہ کار میں نہ سوچا جائے۔ سادہ سی بات کو سادہ انداز میں ہی لیں اور پھر سے سول، ملٹری تعلقات والا معاملہ نہ بنائیں، بعض حضرات نے بلکہ ہمارے نزدیک سنجیدہ فکر حضرات کی نگاہ میں یہ یوں ہے کہ آئینی دورِ حکومت میں ریاستی اداروں کو بھی دائرہ کار کے مطابق عمل کرنا چاہئے اور بہتر یہ تھا کہ ایسی بات کہنے کے لئے کسی بہتر فورم کا انتخاب کیا جاتا، آئیڈیلزم کے طور پر تو یہی درست ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئے،لیکن پاکستان کی جو تاریخ1958ء کے بعد سے لکھی گئی اس کے مطابق یہ ایک معمول کی بات ہے اور اسی لئے اسے اسی سادگی کے طور پر دیکھنا بہتر ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو کہا وہ درست بھی تو ہے۔

بہرحال وقت آگے بڑھ رہا ہے اور اس میں ہم سب کو شعوری طور پر یہ کوشش کرنا چاہئے کہ ماضی کے تلخ واقعات اور حادثات کی وجہ سے جو روایات پختہ نہ ہو سکیں وہ اب ہو جائیں اور سب کام آئینی دائرہ کار کے اندر ہی ہوں اور یہ کچھ ناممکن نہیں،بلکہ ایسا ہی ہونا چاہئے اس کے لئے میڈیا کا کردار بھی تو بہت اہم ہے، اس لئے میڈیا والے بھائیوں، دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو بھی آئین ہی کا مطالعہ کرنا چاہئے اور کوشش کرنا چاہئے کہ اسی دائرہ کار میں ادارے مضبوط ہوں اور اپنا اپنا کردار ادا کریں تاکہ حقیقتاً ’’گڈ گورننس‘‘ کی نوبت آئے اور عوام سُکھ کا سانس لیں، روٹی، روزگار، صحت اور انصاف کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی ان کا حق ہے اور یہ سب ان کو بلاامتیاز اور بلا تخصیص ملنا چاہئے۔

تھوڑے کہے کو زیادہ جانیں اور احتیاط کریں، ہم تو آج ’’گڈ گورننس‘‘ پر آنے والے الزام کے حوالے سے ہی گزارشات کرنا چاہتے ہیں اور سب کی توجہ مبذول کرا رہے ہیں،گڈ گورننس کا تاثر اور یقین پیدا کرنے اور اس کو عملی شکل دینے کی ذمہ داری ریاستی عہدوں پر قائم سرکار کے ملازمین کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔یہ درست ہے کہ حکمران مجموعی طور پر ذمہ دار ہیں، لیکن عمل تو نچلے عملے ہی نے کرنا ہوتا ہے اور ان حکمران حضرات کا بنیادی کام پالیسی بنانا، ترقیاتی پروگرام ترتیب دے کر ان کے لئے سرمایہ مہیا کرنا اور نیچے والوں کی نگرانی ہے اور ان کو یہی کام کرنا بھی چاہئے،لیکن یہاں ایسا نہیں ہو رہا، بلکہ ڈنگ ٹپاؤ والا مسئلہ ہے، مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں بجلی کا ٹرانسفارمر خراب ہو جائے تو اس کو درست کرنے کی ذمہ داری متعلقہ سب ڈویژن کے عملے کی ہے اور بنیادی کردار سب ڈویژن کے انچارج کا ہے، دیر سویر اور خرابی کے حوالے سے وہی ذمہ دار ہو گا نہ کہ وزیر پانی و بجلی کو پکڑ لیا جائے، اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ نظام درست ہونا چاہئے، اور ایسا ہی نہیں ہے،یہاں کوئی بھی اپنا کام اور اپنے فرائض ادا نہیں کرتا اور دوسروں پر الزام دھرتا ہے۔

آیئے اِس سلسلے میں بعض امور کا ذکر کر لیتے ہیں، لاہور جیسے شہر میں میٹرو بس چلا لینے کے بعد میٹرو اورنج ٹرین چلانے کا منصوبہ بن گیا، کام شروع ہوا تو وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک وقت کا تعین کر کے اس کے اندر کام کی تکمیل کا عزم کر لیا، چنانچہ اس پر کام بیک وقت پورے روٹ پر شروع کر دیا گیا اس نے شہر کے اندر جو حالات پیدا کئے وہ ابھی تک درست نہیں ہو پا رہے کہ فضا اور ہوا میں گرد تحلیل ہو گئی تھی اس کے علاوہ ٹریفک کی روانی میں دشواریاں تاحال درست نہیں ہو سکیں اور دباؤ ملحقہ سڑکوں پر ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اس میں یہ گزارش ضروری ہے کہ ابھی یہ کام مکمل نہیں ہوا کہ ’’سیف سٹی پروگرام‘‘ کے لئے شہر کی سڑکوں اور گلی کوچوں کو پھر سے کھود کر گرد آلود ماحول بنا دیا گیا، بدقسمتی سے اس مقصد کے لئے جو کھدائی کی گئی اس کے دوران زیر زمین فون کی تاریں اور سیوریج کے ساتھ ساتھ نلکوں کے پائپ بھی توڑ دیئے گئے، سینکڑوں ٹیلیفون بھی بند ہیں اور پھر تار بچھانے کے لئے مرکزی سڑکوں کو کاٹا گیا وہ ابھی تک مرمت نہیں کی گئیں، نتیجہ یہ ہے کہ گرد کے ساتھ ساتھ شہر کی بڑی سڑکوں پر جا بجا گڑھے ہیں، گاڑیاں ٹھک ٹھک بج کر گزرتی ہیں، اب اگر یہ کہا جائے کہ یہ کام کرنا ضروری ہے اور تھا تو یہ بھی ضروری تھا کہ کام کرنے والا ٹھیکیدار اور عملہ کھدائی بہتر طریقے سے کرتا اور کھدائی کے بعد اگلا کام ساتھ ساتھ کیا جاتا اور پھر سڑکیں بھی مرمت کی جاتیں ایسا نہیں ہوا تو قصور کس کا؟ کیا یہ ’’بیڈ گورننس‘‘ نہیں؟ اور اگر ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

آیئے اب ایک معمولی جھلک تجاوزات کی دیکھ لیں کہ یہ سب ٹاؤن(بلدیہ) انتظامیہ کے عملے کی مہربانی ہے جو خود ملی بھگت سے ’’رشوت‘‘ لے کر یہ سب کراتا اور جب بھی حکمرانوں کی طرف سے سخت احکام آئیں، تھوڑی سی ہلچل پیدا کر دیتا ہے اور تجاوزات پہلے سے زیادہ ہو جاتی ہیں،اس کی ایک مثال چنگ چی(چاند گاڑی) ہے، جب یہ شروع ہوا تو اسے روکنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا اسے بھی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا گیا، اور اب یہ بہت بڑا انسانی مسئلہ بن چکا ہے، اب اگر یہ بھی کہا جائے کہ اس شہر کا سب سے بڑا ’’ناسور‘‘ وہ محکمہ ہے جس کی ذمہ داری شہر کو درست کرنا اور شہریوں کو بہترین سہولتیں مہیا کرنا ہے،ایل ڈی اے کی اپنی رہائشی سکیموں میں سب سے زیادہ شہری مسائل ہیں۔اس کی اپنی بلڈنگ میں آگ لگ جائے تو اونچی منزلوں سے نیچے اترنے اور نیچے سے پانی بالائی منزلوں تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں۔

حکمرانوں نے تو شہر کی صفائی کے لئے ترک کمپنی کو شامل کیا، شہر کی صفائی کا کام سونپ دیا، بہتری شروع ہو گئی اور کام بہت ہونے لگا،لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ کمپنی ناکام ہی ہو گئی کہ نہ تو صفائی ہوتی ہے اور نہ ہی کوڑا اٹھایا جاتا ہے، کام صرف اہم اور مرکزی سڑکوں پر نظر آتا ہے،باقی کام موجودہ بلدیاتی نمائندوں کے ہاتھوں تباہ ہوتا چلا جا رہا ہے، یہاں ایک دلچسپ بات بتا کر ختم کریں کہ ہم شہری خود بھی تو ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیتے۔ بہرحال کیا آپ مان لیں گے کہ مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ کی بارہ تیرہ پارکوں کے لئے واسا کا پانی ممنوع قرار دے دیا گیا اور یہاں کی پارکوں کے درخت گنجے کر کے نئے پودے بھی نہیں لگانے دیئے گئے۔اب گھاس سوکھ رہا ہے اور سایہ ختم ہو چکا ہوا ہے۔ یہ کام ایک جنرل کونسلر نے کیا جو مقامی اراکین اسمبلی کا منہ چڑھا اور خود کو انجینئر کہلاتا ہے۔ اب یہ بیڈ گورننس ہے تو اسے چیک کون کرے گا، پی ایچ اے کے حکام کیوں خاموش ہیں اور وہ پارک اجڑتے ہوئے کیوں برداشت کر رہے ہیں؟تو بھائیو! گڈ گورننس کے لئے کیا ہم سب کو ذمہ داری نہیں نبھانا چاہئے؟ جواب تو دیں۔

مزید :

کالم -