ملتان کی عدالتوں میں30روز میں10860مقدمات کا فیصلہ

ملتان کی عدالتوں میں30روز میں10860مقدمات کا فیصلہ

  

ملتان(خبر نگار خصوصی)ملتان کی سیشن و سول کورٹس میں30روز کے دوران10860مقدمات کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اپر یل2017ء کے آخر میں59858مقدمات زیر سماعت رہے۔سابق چیف جسٹس نے فوری انصآف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے2009ء میں نیشنل جوڈیشل پالیسی کا نفاذ کیا جس کے تحت فوجداری و سول مقدمات نمٹانے کیلئے ٹائم فریم مقرر کرنے سمیت پولیس کو(بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

14روز میں چالان عدالت میں پیش کرنے کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا۔جس کے پیش نظر ضلعی عدلیہ کی جانب سے ٹریکنگ سسٹم قائم کردیا گیا ہے۔جس سے مقدمات کے چالان عدالت میں بھجوانے میں تاخیر اور حائل رکاوٹوں کا علم ہوسکے گا اور پولیس کارکردگی بھی مانیٹر ہوسکے گی۔علاوہ ازیں فریقین کے غیر سنجیدہ رویے اور ملزموں کے بعداز ضمانت عدالتوں میں پیش نہ ہونے اور بلاجواز پیشیاں حاصل کرنے کو بھی مقدمات نمٹانے میں اہم رکاوٹ قرار دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2017ء سے نئے مقدمات میں سے60206کیسز زیرسماعت تھے۔جبکہ یکم اپر یل سے 30مئی 2017ء تک10140مقدمات دائر ہوئے اور10860کیسز کے فیصلوں کے بعد11870 مقدمات زیر سماعت رہے۔کل زیر سماعت مقدمات کی تعداد میں28490فوجداری مقدمات شامل ہیں ان میں1634درخواست ضمانت،7سال تک اور اس سے زائدوسزائے موت کے20980،منشیات کے1240 اور متفرق5830مقدمات شامل ہیں اسی طرح کل زیر سماعت مقدمات میں43961سول کیسز شامل ہیں جن میں580حکم امتناعی،کرایہ داری کے610،اجراء کے4700،سول مقدمات 20336 اور7723متفرق کیسز شامل ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -