بوسیدہ فیکٹریوں میں مزدوروں کی قدرتی آفات سے اموات میں اضافہ ، ظالم مالکان کو کوئی پوچھنے والا نہیں

بوسیدہ فیکٹریوں میں مزدوروں کی قدرتی آفات سے اموات میں اضافہ ، ظالم مالکان ...

  

لاہور(خبر نگار) رواں سال کے دوران آندھی اور طوفان کے باعث بوسیدہ چھتیں اور دیواریں گرنے سے 32افراد ہلاک جبکہ 52سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے، ہلاک ہونے والے افراد میں چار کم سن بچوں سمیت 23 مزدور بھی ہلاک ہوئے ہیں ۔مصری شاہ میں تین مزدوروں کی ہلاکت پر دوسرے روز بھی پورے علاقہ میں سوگ کا سماں رہا ہے۔ مزدوروں کی نعشیں ورثاء کے حوالے کی گئیں تو اس وقت ہر آنکھ اشکبار تھی، ہلاک ہونے والے مزدور اسلم، رفیق اور رحمت کی ہلاکت پر عزیز و اقارب اور مزدور دھاڑیں مار کر زار و قطار روتے رہے۔ مزدور اسلم، سجاد اور رفیق کی نعشیں ورثاء کے حوالے کرنے کے بعد ان کیق ورثاء اپنے اپنے آبائی علاقوں میں لے جانے لگے تو مردہ خانہ کے باہر رقت آمیز مناظر تھے، اس موقع پر ہلاک ہونے والے مزدوروں کے ساتھی مزدوروں نیک محمد، فتح علی، محمد نسیم، محمد شفیق، رحمت علی، محمد اصغر ، گلفام علی اور عتیق احمد سمیت عابد علی اور یاسین اسلم کا کہنا تھا کہ فیکٹری کی دیواریں بوسیدہ ہو چکی تھیں، اس بارے متعدد بار مالکان کو کہہ چکے ہیں ، لیکن آج تک مالکان نے نوٹس تک نہیں لیا ہے، جس کے باعث تین بے گناہ جانوں کا ضیاع ہو گیا ہے جبکہ مزدور شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ مزدوروں اور لواحقین کا کہنا تھا کہ اس پر فیکٹری مالکان کے خلاف قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہئے،جبکہ مالکان کی غفلت اور لاپرواہی ظاہر کر رہی ہے، دوسری جانب مصری شاہ گجر پورہ اور شاہدرہ سمیت باغبانپورہ میں بوسیدہ دیواریں، لینٹرز اور سائن بورڈز گرنے سے زخمی ہونے والے 10 افراد میں سے چار افراد کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے جن میں میو ہسپتال اور سروسز میں زیر علاج شفیق، اسلم، بلال ، ارسلان اور اصغر سمیت الیاس اور رحمت ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ ہسپتالوں میں مہنگے علاج معالجہ کا خرچہ خود برداشت کر رہے ہیں، مزدور ناصر اور افضل نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ نوٹس لیکر ان کے علاج و معالجہ کا بندوبست کروائیں ، یاد رہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران عمارتوں کی چھتیں، لینٹرز اور بوسیدہ دیواریں گرنے سے اب تک 32سے زائد افراد ہلاک اور 52سے زائد افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں اور ان تمام واقعات میں 23سے زائد ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق مزدور طبقہ سے بتایا گیا ہے جس میں سب سے بڑا واقعہ رائے ونڈ کے علاقہ باجیاں میں فیکٹری کی چھت گرنے سے ہلاکتوں کے ساتھ 26مزدور شدید زخمی ہوئے اسی طرح باغبانپورہ کے علاقہ میں ایک عماتر کی چھت گرنے سے 11افراد ہلاک اور 17افراد شدید زخمی ہوئے، جبکہ گجر پورہ، شاہدرہ سمیت ہربنس پورہ اور جلو موڑ میں عمارتوں کی چھتیں ، دیواریں اور لینٹرز گرنے سے زخمی ہونے والے متعدد افراد مستقل طور پر مزدوری کر کے زندگی بسر کر رہے ہیں اور حکومت یا کسی دوسرے ادارے نے ان کی مالی امداد کے لئے آج تک کوئی بندوبست نہیں کیا ہے۔

مزید :

علاقائی -