محمد جمیل بھٹی کی ’’ازدواجی اٹکھیلیاں‘‘

محمد جمیل بھٹی کی ’’ازدواجی اٹکھیلیاں‘‘
 محمد جمیل بھٹی کی ’’ازدواجی اٹکھیلیاں‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک بچہ اپنے گھر میں، صوفے پر دراز ہو کر ایک کتاب پڑھ رہا تھا جس کا نام تھا: ’’بچوں کی پرورش کیسے کی جائے‘‘؟۔۔۔ اس بچے کا باپ بھی وہیں بیٹھا تھا۔ اس نے بچے سے پوچھا : ’’بیٹا! یہ کتاب تم کیوں پڑھ رہے ہو‘‘؟ بچہ بولا: ’’ابو! مَیں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ میری پرورش صحیح انداز میں کر رہے ہیں یا نہیں‘‘۔۔۔شاید ایسا ہی کوئی واقعہ پروین شاکر کے ساتھ بھی ہوا ہو گا جس نے یہ شعر کہا تھا:

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

محمد جمیل بھٹی صاحب کے اندر ایک بچہ موجود ہے جو ہر وقت نئی سے نئی شرارت کا تانا بانا بنتا رہتا ہے۔ وہ شاعری کرنے پر آئیں تو مشاعروں کو تلپٹ کرکے رکھ دیتے ہیں۔ لطیفوں کی محفل ہو تو بڑے بڑے پیشہ ور بھانڈوں اور جگت بازوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی کتاب ’’ازدواجی اٹکھیلیاں‘‘ کا مسودہ مجھے پڑھنے کو ملا تو مَیں نے یہ اپنے گھر کے کمرے میں اپنی لکھنے پڑھنے کی میز پر یہ سوچ کر رکھ چھوڑا کہ فرصت پاتے ہی اس کا بغور مطالعہ کروں گا اور اس کے بارے میں اپنی رائے درج کرکے محمد جمیل بھٹی صاحب کے حوالے کر دوں گا، لیکن اگلے روز مَیں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ میری بیگم صاحبہ نے یہ مسودہ اٹھایا اور پڑھنے بیٹھ گئی۔ وہ اس مسودے کی سطر سطر پڑھتی جاتی اور زیرِ لب مسکراتی جاتی۔ مَیں نے کتاب میں اس کی دلچسپی دیکھ کر پوچھا کہ تم یہ کتاب اتنے ذوق و شوق سے کیوں پڑھ رہی ہو تو بولی: ’’مَیں دیکھ رہی ہوں کہ ہماری قسمت میں بھی ازدواجی اٹکھیلیاں ہیں یا نہیں‘‘؟

جب ’’ازدواجی اٹکھیلیاں‘‘ کا مسودہ میری بیگم صاحبہ پڑھ چکیں تو مَیں نے بھی اس کا حرف حرف پڑھا۔ یہ کتاب اپنے اندر بہت سی نئی چیزیں لئے ہوئے ہے۔۔۔ مثلاً یہ کہ اس میں انسانی نفسیات کے نہایت عمیق مشاہدے اور مطالعے کے بعد حاصل ہونے والی سوچ کارفرما ہے۔ مردوں اور عورتوں دونوں کی نفسیات کو محمد جمیل بھٹی صاحب نے اپنی حسِ مزاح کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ اس کتاب میں فلسفہ بھی ہے اور تصوف بھی۔ طنز و مزاح بھی ہے اور افسانویت بھی۔ اس میں نصیحت بھی ہے اور عبرت بھی۔ بھٹی صاحب نے کتاب کے آغاز میں اقرار کیا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد لکھی ہے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ کتاب دراصل ان کے عمر بھر کے ازدواجی تجربات کا نچوڑ ہے۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ آپ کو آپ کی بیوی سے دور نہیں ہونے دیتی، بلکہ آپ کو بیوی سے مزید پیار پر مجبور کرتی ہے۔ بھٹی صاحب نہ مردم بیزار ہیں نہ عورت بیزار۔ مَیں اس کا چشم دید گواہ ہوں کہ جتنا وہ مردوں کی محفل مَیں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ وہ عورتوں کی محفل میں خوش رہتے ہیں۔ خوب چہکتے ہیں، لطیفے سناتے ہیں۔ جوانی کے قصے مزے لے لے کر سناتے ہیں۔ اپنی شگفتہ بیانی کے باعث وہ خواتین میں پہلے ہی مقبول ہیں، اب شادی شدہ مردوں اور عورتوں میں اور زیادہ ہر دلعزیز ہو جائیں گے۔

’’ازدواجی اٹکھیلیاں‘‘ کو آپ شادی شدہ زندگی کا ایک غیر رسمی اور دلچسپ انسائیکلو پیڈیا بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ اس میں انہوں نے ازدواجی زندگی سے متعلق وہ ساری باتیں جمع کر دی ہیں جو ہم کبھی دوستوں کی زبانی سنتے ہیں اور کبھی کتابوں میں پڑھتے ہیں۔بیویوں کے بارے میں بڑے لوگوں کی کہی ہوئی باتیں بھی اس کتاب میں تخلیقی انداز میں شامل کر دی گئی ہیں اور ازدواجی زندگی کے بے شمار شگفتہ واقعات اور لطیفے بھی اس کتاب کا حصہ بنا دیئے گئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ محمد جمیل بھٹی صاحب کی اس کتاب کا مسودہ پڑھ کر مَیں نے اپنی ازدواجی زندگی کا از سرِ نو جائزہ لیا ہے اور اپنی آئندہ زندگی میں بہت سی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر اس کتاب نے مجھ جیسے آدمی کو بدل دیا ہے تو یقین جانئے کہ یہ کتاب بہت سے سر پھروں کو راہِ راست پر لے آئے گی۔

جاتے جاتے یہ بھی بتا دوں کہ بھٹی صاحب نے ساری عمر اعدادوشمار کے ہیرپھیر میں گزاری ہے۔ وہ اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں، لیکن مجھے حیرت ہے کہ اتنی سخت اور مشکل نوکری میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی حسِ مزاح کو مرنے نہیں دیا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اہلِ دل سے تعلق رکھا۔ شاعروں سے دوستی رکھی۔ آوارہ گردوں کے ہم سفر رہے۔ جوان تھے تو بابوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے، اب بوڑھے ہوئے ہیں تو جوانوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ افسرانہ رعونت کو انہوں نے اپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا۔ ان کا المیہ مرتضیٰ برلاس والا نہیں، جنہوں نے کہا تھا:

دوستوں کے حلقے میں ہم وہ کج مقدر ہیں

افسروں میں شاعر ہیں، شاعروں میں افسر ہیں

بھٹی صاحب، افسروں میں افسر اور لکھنے پڑھنے والوں کی محفل میں ادب کے زِیرک طالب علم کے طور پر جانے جاتے ہیں، لیکن ’’ازدواجی اٹکھیلیاں‘‘ لکھنے کے بعد وہ تمام شادی شدہ مردوں اور خواتین کے گُرو بن گئے ہیں۔ یہ کتاب ادب میں ان کے مقام کا تعین بھی کرے گی اور ان کے نام کو زندہ بھی رکھے گی۔

مزید : کالم