سویابین، پام آئل کی درآمد پر عائد ہیوی ڈیوٹی کی شرح 50فیصد کم کی جائے: خواجہ عارف وسیم

سویابین، پام آئل کی درآمد پر عائد ہیوی ڈیوٹی کی شرح 50فیصد کم کی جائے: خواجہ ...
سویابین، پام آئل کی درآمد پر عائد ہیوی ڈیوٹی کی شرح 50فیصد کم کی جائے: خواجہ عارف وسیم

  

لاہور (اسد اقبال )وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ برائے 2017-18میں مہنگائی کا قلع قمع کر نے ، معیشت کو پروان چڑھانے اور انڈسٹری کو ریلیف دینے کے لیے سو یا بین اور پا م آئیل کی درآمد پر عائد کر دہ ہیوی ڈیوٹی کی شرح میں پچاس فیصد تک کمی کرے تاکہ شہریوں کو سستے گھی اور کوکنگ آئیل کے ثمرات پہنچ سکے جبکہ بجلی و گیس بحران کے خاتمے کے لیے تھنک ٹینک اقدامات اٹھاتے ہوئے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اورمزید ٹیکس لگانے کی بجائے نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور ایسا بجٹ پیش کیا جائے جو عوام اور انڈسٹری مالکان کی امنگوں کا تر جمان ہو جس سے ملک یقیناًتر قی و خوشحالی کی راہ پرگامزن ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار معروف صنعتکار اور پاکستان وناسپتی مینو فیکچرز ایسو سی ایشن کے سابق چیئر مین خواجہ عارف قاسم نے گزشتہ روز "پاکستان بجٹ تجاویز"میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گھی وآئیل ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور خام آئیل کی قیمتیں انٹر نیشنل مارکیٹ میں آئے روز بڑھ رہی ہیں ۔سو یا بین خام آئیل جو گزشتہ ہفتے تک 720ڈالر ٹن تھا آج 800ڈالر جبکہ پام آئل 625ڈالر سے بڑھ کر 725ڈالر فی ٹن ہو گیا ہے جس پر حکومت 9150فی ٹن ڈیو ٹی وصول کر تی ہے جبکہ گھی و آئیل ساز مالکان گھی و آئیل پر 16فیصد سیلز ٹیکس اور ساڑھے پانچ فیصد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں اس صورتحال میں پاکستان میں گھی و آئیل کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر حکومت انیس کروڑ عوام کو حقیقی ریلیف سے ہمکنار کرنا چاہتی ہے تو آئندہ مالی سال کا بجٹ مہنگائی کش پیش کیا جائے،سویابین و پام آئیل پر عائد کر دہ ڈیوٹی میں واضح کمی کی جائے اور انڈسٹری کو ریلیف دیا جائے ۔ خواجہ عارف قاسم نے کہا کہ بجلی و گیس بحران نے ملکی انڈسٹری کا پہیہ پٹری سے اتار دیا ہے او ر توانائی بحران ملکی معیشت کا گراف دن بدن نیچے لا رہا ہے جس بے برآمدی آر ڈرز پورے نہ ہو رہے ہیں ملک کا کثیر زر مبادلہ ضائع ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقت اپنے اقتدار کا پانچواں بجٹ عوام اور انڈسٹری کی توقعات کے عین مطابق پیش کرکے شہریوں میں اپنی جڑیں مظبو ط کر ے کیو نکہ آنے والا سال عام انتخابات کا ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -