فوجی سامان کی فراہمی کا مقصد سعودی سلامتی یقینی بنانا ہے ،وائٹ ہاؤس

فوجی سامان کی فراہمی کا مقصد سعودی سلامتی یقینی بنانا ہے ،وائٹ ہاؤس

  

واشنگٹن (اظہر زمان‘ بیورو چیف) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کوساڑھے تین کھرب ڈالرکے دفاعی معاہدہ پر دستخط ثبت کر دیئے ہیں جس کے تحت ایک کھرب 10ارب ڈالر کا فوجی سازوسامان فوری طور پر ریاض حکومت کو فراہم کیا جائیگاجن میں لڑاکا طیارے، ٹینک، راڈار، جنگی بحری جہاز اور میزائل شکن دفاعی نظام شامل ہیں۔یاد رہے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اس حوالے سے ایک روز قبل ہی یہ رپورٹ شائع کر چکاہے ۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان خاتون سارہ سینڈرس نے ہفتے کے روز بتایا کہ ریاض میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا جو جامع معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق آئندہ عشرے کے دوران سعودی عرب کو ساڑھے تین کھرب ڈالر کا مزید فوجی سامان فراہم کیا جائے گا جبکہ پہلے مرحلے میں ایک کھرب دس ارب ڈالر کا فوجی سامان فوری طور پر دیا جا رہا ہے۔اس فوجی اسلحے کی فراہمی کا مقصد سعودی عرب کی قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا اور دہشت گردی کیخلاف جدوجہد کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا معا ہد ے کے ذریعے امریکی فوج کے آپریشنز کا بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور یہ پیکج سعودی عرب اور خلیجی ممالک کیساتھ امریکہ کی شراکت کے عہد کا غماز ہے، اس دوران امریکی وزارت خارجہ نے ’’سعودی عرب کی دفاعی ضرورت کی حمایت‘‘ کے حوالے سے ایک ’’فیکٹ شیٹ‘‘ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کو ایک کھرب دس ارب ڈالرکا فوجی سامان فروخت کرنے کا جو امریکہ نے معاہدہ کیا ہے وہ دونوں ممالک کے درمیان سات عشروں سے زائد عرصے سے قائم سکیورٹی تعلقات میں ایک نمایاں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ دفاعی سامان اور سروسز کی فراہمی کا یہ پیکج ایرانی اثرو رسوخ اور خطرات کے مقابلے پر سعودی عرب اور خلیجی ممالک کیساتھ امریکہ کی طویل مدت کیلئے دفاعی تحفظ کے وعدے کا آئینہ دار ہے۔ معاہدہ پانچ شعبوں پر محیط ہے جس میں بارڈر سکیورٹی ، انسداد دہشت گردی، سمندری و ساحلی سکیورٹی، فضائیہ کو جدید بنانے کا عمل، فضائی و میزائل دفاع اور سائبر سکیورٹی و مواصلات میں بہتری لانا شامل ہے ، اس کے علاوہ سعودی افواج کو مضبوط بنانے کیلئے مناسب ٹریننگ فراہم کرنے کے پروگرام بھی اس معاہدے میں شامل ہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -