لاوارث نعش کا پوسٹمارٹم‘ درجہ چہارم کے ملازمین نے ریڑھی پر رکھ کر ہی کرڈالا

 لاوارث نعش کا پوسٹمارٹم‘ درجہ چہارم کے ملازمین نے ریڑھی پر رکھ کر ہی کرڈالا
 لاوارث نعش کا پوسٹمارٹم‘ درجہ چہارم کے ملازمین نے ریڑھی پر رکھ کر ہی کرڈالا

  

 شیخوپورہ (ویب ڈیسک )ایک لاوارث نعش کا پوسٹمارٹم”پوسٹمارٹم ہاﺅس“ کی بجائے کھلے آسمان تلے چلچلاتی دھوپ میں جسد خاکی ایک ریڑھی پر ڈال کر درجہ چہارم کے 3 ملازمین نے کیا ، ان کی  نگرانی ایک پولیس اہلکار کرتا رہا۔

بتایا گیا ہے کہ میلہ پیر بہار شاہ میں شریک ہونیوالا نامعلوم نوجوان حرکت قلب بند ہونے کے باعث دم توڑ گیا اسکی نعش دو روز تک بے گورو کفن پڑی رہی نعش کو پوسٹمارٹم کیلئے بھجوادیا گیا تو ڈی ایچ کیوہسپتال کے متعلقہ ڈاکٹر نے اس کا پوسٹمارٹم کرنے کی بجائے اپنے ماتحت درجہ چہارم کے ملازمین کو اس لاوارث نعش پوسٹمارٹم کیلئے بھجوادی جنہوں نے نعش کو سٹریچر پر رکھ کر لے جانے کی بجائے ریڑھی پر ڈال کر پوسٹمارٹم ہاﺅس سے ملحقہ راہداری میں کھلے آسمان تلے اس طرح پوسٹمارٹم کیا جس طرح ریڑھی پر کوئی سامان فروخت کررہے ہیں۔

روزنامہ نوائے وقت کے مطابق مقامی صحافیوں نے اس غیر انسانی سلوک پر کوریج کرنیکی کوشش کی تو وہاں موجود پولیس اہلکار نے ان کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا میڈیا پر خبر آنے کے بعد انتظامیہ حرکت میںآگئی ایم ایس ڈی ایچ کیوہسپتال نے متعلقہ ڈاکٹر کو معطل کرکے اس کیخلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیدیا ۔ افسوسناک واقعہ پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور صوبائی وزیر صحت نے نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس طرح کا پوسٹمارٹم پہلی بار نہیں ہوا پہلے بھی لاوارث نعشوں کا پوسٹمارٹم اسی انداز میں کیا جاتا ہے جس پر آج تک کسی نے اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیا ۔

مزید :

جرم و انصاف -