’مجھے ہر وقت لگتا تھا اِن درختوں میں سے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے، بالآخر پولیس کو اطلاع دی، انہوں نے جاکر دیکھا تو ایسی چیز مل گئی کہ ہر کسی کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ۔۔۔‘ جنگل کے نزدیک رہائش پذیر شہری نے انتہائی خوفناک واقعہ بیان کردیا

’مجھے ہر وقت لگتا تھا اِن درختوں میں سے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے، بالآخر پولیس ...
’مجھے ہر وقت لگتا تھا اِن درختوں میں سے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے، بالآخر پولیس کو اطلاع دی، انہوں نے جاکر دیکھا تو ایسی چیز مل گئی کہ ہر کسی کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ۔۔۔‘ جنگل کے نزدیک رہائش پذیر شہری نے انتہائی خوفناک واقعہ بیان کردیا

  

میلبورن (نیوز ڈیسک) آسٹریلوی شہر میلبورن کے نواحی علاقے میں جنگل کے قریب رہائش پریز ایک ادھیڑ عمر شخص کو کئی دنوں سے آتے جاتے یوں محسوس ہورہا تھا گویا کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہو۔ اسے ایک ناگوار بدبو کا بھی سامنا تھا، مگر وہ یہ سمجھنے سے بالکل قاصر تھا کہ اچانک جنگل میں کیا تبدیلی آ گئی تھی۔ صورتحال سے پریشان ہو کر اس شخص نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ جب پولیس نے علاقے میں تلاش کا عمل شروع کیا تو جلد ہی ایک ایسا بھیانک انکشاف سامنے آ گیا کہ سب کے دل دہل کر رہ گئے۔

خوف اور پریشانی میں مبتلاءشہری ای این فلینری کی شکایت پر پولیس جب میٹ مسیڈن کے جنگل میں چھان بین کر رہی تھی تو درخت کے بھاری تنے کے نیچے دبی ایک لاش مل گئی۔ یہ لاش کیرن رسٹیوسکی نامی خاتون کی تھی، جو آٹھ ماہ قبل میلبورن شہر سے لاپتا ہوئی تھیں، اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں گئیں۔ یہ جگہ مس رسٹیوسکی کے گھر سے 52 کلومیٹر کی دوری پر واقع تھی۔ وہ اپنے خاوند سے جھگڑے کے بعد گھر سے نکلی تھیں اور انہیں آخری بار اس وقت دیکھا گیا جب وہ اوکلے ڈرائیو پر واقع اپنے گھر سے نکل رہی تھیں۔

اکسٹھ سالہ ای این فلینری کئی سال سے اس جنگل کے کنارے مقیم تھے اور اکثر اپنی سائیکل پر علاقے میں گشت کرتے رہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس جگہ کیرن کی لاش ملی وہ وہاں سے تقریباً 50 میٹر کی دوری پر رہتے تھے اور اکثر انہیں ناگوار قسم کی بدبو کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ای این کا کہنا ہے کہ ان کا علاقہ اکثر ویران رہتا تھا اور کبھی کبھار ہی کوئی اس طرف آتا تھا۔ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار جنگل میں بدبوکا سامنا کرچکے تھے لیکن عام طور پر یہ کسی مرے ہوئے کینگرو کی لاش سے اٹھنے والی بدبو ہوتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کسی دن انہیں گلتی سڑتی انسانی لاش کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

 

ای این نے پولیس کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ”چند ہفتے پہلے میں اُدھر سے گزرا تو مجھے بدبو آرہی تھی۔ میں یہاں پہلے بھی مرے ہوئے کینگرو کی وجہ سے بدبو کا سامنا کرچکا تھا اور میرا خیال تھا اس بار بھی یہ کسی کینگرو کے مردہ جسم سے آرہی تھی۔ کاش میں پہلے ہی پتہ چلانے کی کوشش کرتا یہ بدبو کہاں سے آرہی تھی، لیکن میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اگر میں اپنی سائیکل سے اتر کر اِدھر اُدھر دیکھتا اور وہ لاش مجھے نظر آتی تو میرا ردعمل کیا ہوتا۔ اس علاقے کا ماحول دہشت ناک نظر آتا تھا ۔ مجھے آتے جاتے اکثر محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی درختوں سے مجھے دیکھتا ہو۔ میں سارا راستہ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا رہتا تھا، یہی سوچتے ہوئے کہ کوئی میرا تعاقب کررہا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ مجھے نارمل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ “

 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -