’یہ پاکستان کی بھول ہے اگر وہ سمجھتاہے کہ سعودی اس کے کہنے پر ۔ ۔ ۔‘

’یہ پاکستان کی بھول ہے اگر وہ سمجھتاہے کہ سعودی اس کے کہنے پر ۔ ۔ ۔‘
’یہ پاکستان کی بھول ہے اگر وہ سمجھتاہے کہ سعودی اس کے کہنے پر ۔ ۔ ۔‘

  

اسلام آباد، ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ اسلامک عرب سمٹ میں شرکت کیلئے پاکستان کے وزیراعظم اپنے وفد سمیت سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل(ر) راحیل شریف کی قیادت میں تشکیل پانیوالے عرب اتحاد سے متعلق ایران کے تحفظات پر سعودی حکام سے غیررسمی تبادلہ خیال کریں گے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کی خوش خیالی ہوسکتی ہے کہ اس کے کہنے پر سعودی عرب اپنے موقف میں تبدیلی لائے گا۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق امور خارجہ کے ماہر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے کہاکہ ایران کیساتھ مذاکرات کرنے سے متعلق سعودی عرب کا موقف اٹل ہے ، سعودی عرب کے ایران کے معاملے پر کھلے ذہن کیساتھ بات کرنے کو پاکستان کی خوش خیالی قراردیتے ہوئے اُنہوں نے کہاکہ شہزاد ہ محمد بن سلمان واضح کرچکے ہیں کہ ایران کیساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں یہ سعودی نقطہ نظر کا ایک واضح اشارہ ہے ۔

صدر ٹرمپ کی آمد کے بعد مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی پالیسی سے متعلق حسن عسکری رضوی کاکہناتھاکہ امریکہ اور سعودی عرب کے باہمی مفادات میں اختلاف پایا جاتاہے جیسا کہ شام ،لبنان میں حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں سے متعلق دونوں کی سوچ مختلف ہے ، ٹرمپ انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ میں پہلی ترجیح اسرائیل کی سیکیورٹی ہے ۔

مزید :

قومی -