ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خطاب میں اسلامی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنے پر گفتگو کریں گے، تقریر کے اقتباسات جاری

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خطاب میں اسلامی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ محاذ ...
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خطاب میں اسلامی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنے پر گفتگو کریں گے، تقریر کے اقتباسات جاری

  

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب میں عرب، امریکہ اسلامی سربراہان مملکت کی کانفرنس جاری ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی خطاب کریں گے ۔ وہ اپنے خطاب کے دوران اسلامی انتہا پسندی، دہشتگردی اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنے پر گفتگو کریں گے۔

امریکی صدارتی محل وائٹ ہاﺅس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے کچھ اقتباسات ان کے خطاب سے پہلے ہی جاری کردیے گئے ہیں جن کے مطابق امریکی صدر کہیں گے کہ ”امریکہ ایک خود مختار ملک ہے جس کی سب سے پہلی ترجیح اپنے شہریوں کی سلامتی و تحفظ ہے، ہم یہاں لیکچر نہیں دینے آئے ، ہم دوسرے لوگوں کو یہ بتانے بھی نہیں آئے کہ زندگی کیسے گزارنی ہے، کیا کرنا ہے ، کس طرح رہنا ہے یا کس طرح عبادت کرنی ہے، تاہم ہم یہاں پارٹنر شپ کی آفر کرنے آئے ہیں جو باہمی دلچسپیوں اور احترام پر مشتمل ہے تاکہ ہم سب ایک بہتر مستقبل میں زندہ رہ سکیں“۔

امریکا عرب اسلامک کانفرنس ، اجلاس میں ہم دہشت گردی کے خلاف اپنے اتحاد کو مضبوط کریں گے:سعودی فرمانروا

ٹرمپ کہیں گے کہ ” جب بھی کوئی دہشتگرد خدا کا نام لے کر کسی معصوم کو قتل کرتا ہے تو یہ صاحب ایمان لوگوں کیلئے توہین آمیز ہوتا ہے۔ اس ناسور پر ہم اسی صورت قابو پا سکتے ہیں جب اچھی طاقتیں اس برائی کے خلاف اکٹھی ہو جائیں ۔ دہشتگردی پوری دنیا میں پھیل چکی ہے لیکن اس مقدس سرزمین اور اس پاک دھرتی سے امن کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ امریکہ مشترکہ مفادات اور سلامتی کیلئے آپ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار ہے لیکن اس دشمن کے خاتمے کیلئے مشرق وسطیٰ کو امریکہ کاانتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود آگے بڑھنا چاہیے۔ یہ مختلف عقائد، فرقوں یا تہذیبوں کا تصادم نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ بربریت کا مظاہرہ کرنے والے مجرموں اور ہر مذہب کے ماننے والے تہذیب یافتہ لوگوں کے مابین ہے “۔

پاکستانی سفارتخانے نے جے آئی ٹی کے سوالنامے پر مبنی خط قطری شہزادے حماد بن جاسم کو پہنچا دیا

علاوہ ازیں ڈونلڈ ٹرمپ اسلامی مملکتوں کے سربراہان سے اپنے خطاب کے دوران اسلامی انتہا پسندی پر بھی گفتگو کریں گے ۔ وہ کہیں گے کہ ”ہم سب لوگوں کو اسلامی انتہا پسندی، اسلامی دہشتگرد گروپوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ہوگا جس کا مطلب ہے کہ ہم لوگ معصوم مسلمانوں کے قاتلوں کے خلاف کھڑے ہیں۔ بربریت آپ لوگوں کو عزت نہیں دلائے گی ، برائی کے ساتھ ہمدردی سے آپ کو عظمت نہیں ملے گی۔ اگر آپ لوگ دہشتگردی کے راستے کا انتخاب کریں گے تو آپ کی زندگی بے کاراور مختصر ہے اور آپ کا ضمیر بھی آپ کو ملامت کرے گا“۔

مزید :

عرب دنیا -