چیری بلاسم ۔۔۔جاپان کی شان

چیری بلاسم ۔۔۔جاپان کی شان
چیری بلاسم ۔۔۔جاپان کی شان

  

درخت لگاو،بخت جگاؤ۔۔اور کتاب پہترین ساتھی ہے۔۔۔یہ دو جملے ہم پہلی جماعت سے پڑھتے آرہے تھے۔ یہ ہماری ہر کتاب کے سر ورق پر گورنمنٹ کی طرف سے لکھا ہوتا تھا۔ہم روز پڑھ دیتے اور اگلی کلاس کی کتاب میں پھر وہی لفظ ،گویا یہ ہماری عادت بن گئے۔یوں سمجھ لیں ہم لاشعوری طور پر اس کو تسلیم کر چکے تھے۔اس لیے اس کے اثرات ہماری زندگی پر ہیں۔اور جب کوئی خوبصورت درخت دیکھتے ہیں تو پہلے والا جملہ زبان پر جاری ہو جاتا ہے،اور جب کوئی کتاب نظر سے گزرے تو دوسرا جملہ خود ہی تحت الشعور سے وارد ہو جاتا ہے۔

جاپان کی شان ،سیاحوں کی جنت ، دنیا میں سیاحت کی وجہ سے تیسرے نمبر پر ہے۔لوگ آتے تو سب کچھ دیکھنے ہیں ،لیکن جاپان کی شہرت اس کے کمال قدرت کے شاہکار،اور سفید اور ہلکے پنک پھولوں کی بہار، خوبصورت چیری کے درخت قطار در قطار،دیکھنے والے پر اپنا جادو نہ کریں، ہو نہیں سکتا،درمیان اپریل میں جاپان کے ساری خوبصورتی اگر ہے تو اس چیری کے خوبصورت باغوں سے ہے۔صرف موری اوکا میں ایک سو کے قریب چیری کے باغ ہیں۔اس لیے جاپان میں اس کی بہار کو لوٹنے کے لیے گولڈن ویک منایا جاتا ہے ،آپ اس کو ہفتہ چیری بلاسم بھی کہہ سکتے ہیں۔

مجھے تو افسوس اس وقت ہوا جب میں نے اس کمال قدرت کو دیکھا اور پاکستان میں چیری بلاسم شوز پالش نے اس خوبصورت درخت کی اہمیت کو گہنا دیا ہے۔نام بھی سوچ کر رکھنا چاہیے۔چیری بلاسم کے درختوں پر 15مارچ سے 15نومبر تک بہار رہتی ہے پھر برف باری سے ڈھکا رہتا ہے۔اس کا پودا عام طور پر دس سے پندرہ فٹ تک بلند ہوتا ہے۔ اس کی اوسطاً عمر بیس سال ہے۔

جاپان میں لوگوں کی اوسطاً عمر زیادہ ہے تو چیری کی عمر بھی آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دے گی،لو سنیں سب سے مشہور چیری کا درخت دوہزارسال ہے عمر کا۔۔

ذرا تصور کریں ۔اس کا نام Jindaizakura جس کا مطلب ہے ،،چیری بلاسم کی خدائی نسل،،اس کا پھیلاو¿ بارہمیڑ تک ہے۔اور یہJissoji ٹمپل کے صحن میں واقع ہے۔یہ کمال قدرت کا اور اس کے ربّ ہونے کا عملی ثبوت ہے۔اس سے کم عمر کے بھی درخت موجود ہیں۔لیکن جو موری اوکا میں عدالت کے صحن میں موجود، 400 سال پرانا چیری کا درخت ہے،یہ توکوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اس سے بھی پرانے ہیں۔ اگلی بات سنیے وہ ،، ایک پتھر کے درمیان میں اگا ہوا ہے ،اس کا نام lshiwarizakura ہے اور اس کا پھیلاو¿ دس میٹر تک ہے۔یہ سارے رنگ اس مالک کے عطا کردہ ہیں۔ اس کو جاپان کے سو قدرتی مقامات میں شامل کر دیا گیا ہے،بہت سے سیاح اس کو دیکھنے کو آتے ہیں۔ ویسے چار سو سال پرانا درخت اور اس کی حفاظت، یہ بھی ان کی محنت کو داد دینا پڑتی ہے۔

دوستو، بات درخت کی نہیں ،پرانے کی بھی کوئی بات نہیں،پتھر میں اگنا بھی عام سی بات ہے،بات یہ ہے کہ قدرت کے ان نظاروں کی قدر اور ان کا خیال رکھنا،ان کو لوگوں کی نظر میں کمال بنانا اصل بات ہے۔اور جاپان اپنے اس فن کو بیچنے کی دوڑمیں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔مجھے میرے وطن کے جناح ،سے جیلانی ،گلشن سے،سفاری پارک یاد آتے ہیں۔ یہ سب کیوں نہیں لبھا سکے سیاحوں کو،چلو یہ چھوڑیے ،میرے مری کے مرغزار،ناران ،کاغان کے لالہ زار،سوات کے گلزار،اور گلگت وچترال کیے کہسار،کشمیر میں جنت کے آثار،کیوں نہیں بلا سکے مہمانوں ،سیاحوں کو۔سر جھکتا ہے،دل ٹرپتاہے،اور زبان ڈرتی ہوئی بولتی ہے۔۔۔صاحب یہ ان کا شوق نہیں۔۔۔جو کرسکتے ہیں۔۔ بس باہر کی چیزیں دیکھ کر ہمیں بتاو¿۔۔۔زیادہ فلسفی نہیں بنو۔۔۔جو ہو رہا کافی ہے۔۔۔ہم چپ چاپ واپس پھر کسی کے ملک کی بغیر کسی فائدے کے مشہوری میں جت جاتے ہیں۔۔۔لیکن ایک درد ہے کبھی تو دوا ملے گی میری دھرتی ماں کو۔۔اور دنیا فخر سے کہے گی ہم پاکستان گئے۔۔۔بھول جاؤ سویزر لینڈ کو ۔پاکستان کی مثال ہی نہیں۔۔۔اور میرا سینہ چوڑا اور سر فخر سے بلند ہو۔۔۔ اجمد ندیم قاسمی کیوں تڑپے۔

آئیے آپ کو بھی دعا وطن میں شامل کرتے ہیں۔۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اُترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے

اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں

کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن

اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال

کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -