انتہائی شرمناک الزام ثابت ہونے پر 4 پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کا حکم لیکن 5 سال گزرنے کے باوجود بھی برطانوی حکومت انہیں نکال نہ سکی، ملک میں رکنے کیلئے کیا طریقہ اپنایا؟ ایسا طریقہ کہ پورے برطانوی نظام کو بے بس کر دیا

انتہائی شرمناک الزام ثابت ہونے پر 4 پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کا حکم لیکن 5 ...
 انتہائی شرمناک الزام ثابت ہونے پر 4 پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کا حکم لیکن 5 سال گزرنے کے باوجود بھی برطانوی حکومت انہیں نکال نہ سکی، ملک میں رکنے کیلئے کیا طریقہ اپنایا؟ ایسا طریقہ کہ پورے برطانوی نظام کو بے بس کر دیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) 2012ءمیں برطانوی شہر روچ ڈیل میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں ملوث ایک پاکستانی گروہ کے انکشاف نے ہر پاکستانی کا سرشرم سے جھکا دیا تھا۔ عدالت نے اس گھناﺅنے جرم میں ملوث 4پاکستانیوں کی برطانوی شہریت منسوخ کرکے ملک بدری کی سزا دی تھی لیکن وہ اب بھی عدالتوں کا سہارا لے کر وہیں مقیم ہیں ۔ اب اس شرمناک واقعے پر ایک ڈرامہ بھی بن گیا ہے جو گزشتہ دنوں بی بی سی پر نشر ہوا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس گروہ کے سرغنہ 64سالہ شبیر احمد تھا جبکہ باقی سزا پانے والوں میں عدیل خان، قاری عبدالرﺅف اور عبدالعزیز شامل تھے۔

یہ درندہ صفت لوگ روچ ڈیل میں نوعمر لڑکی کو اپنے جال میں پھانستے، انہیں شراب اور دیگر منشیاب کی بھاری مقدار دیتے اور پھر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالتے۔ اس کے بعد وہ ان لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کر دیتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کیس منظرعام پر آنے کے بعد 5لڑکیاں سامنے آئیں جنہوں نے عدالت نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے ثبوت پیش کیے اور ان درندوں کو سزا دلوائی۔ ان لڑکیوں کی عمریں 13سے 15سال کے درمیان تھیں جب یہ اس گروہ کے چنگل میں پھنسی رہیں۔

پانچ سال قبل لیور پول کراﺅن کورٹ کی طرف سے ملک بدری کی سزا ملنے کے باوجود ان مجرموں نے عدالتوں میں اپنی ملک بدری رکوانے کے لیے درخواستیں دائر کر رکھیں ہیں جس کے باعث انہیں آج تک نکالا نہیں جا سکا۔ بی بی سی نے اس واقعے پر ”تھری گرلز“ کے نام سے جو ڈرامہ بنایا ہے اس میں ان متاثرہ لڑکیوں کے کردار اداکارہ مولی ونڈسر، ریا زمیترووکز اور لیو ہل نے ادا کیے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -