”کراچی ایئرپورٹ پر رات کی تاریکی میں وہ جہاز لینڈ ہوا اور اس میں سے نقاب پوش افراد باہر نکلے جو اُس آدمی کے منہ پر کپڑا ڈال کر اُسے ساتھ لے گئے “ یہ آدمی کون تھا؟ جان کر ہر پاکستانی کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے گی

”کراچی ایئرپورٹ پر رات کی تاریکی میں وہ جہاز لینڈ ہوا اور اس میں سے نقاب پوش ...
 ”کراچی ایئرپورٹ پر رات کی تاریکی میں وہ جہاز لینڈ ہوا اور اس میں سے نقاب پوش افراد باہر نکلے جو اُس آدمی کے منہ پر کپڑا ڈال کر اُسے ساتھ لے گئے “ یہ آدمی کون تھا؟ جان کر ہر پاکستانی کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے گی

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) نائن الیون کے سانحے کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جس عالمی جنگ کا آغاز کیا اس میں امریکہ خفیہ ایجنسی سی آئی اے کئی ممالک سے مشکوک لوگوں کو غیرقانونی طریقے سے گرفتارکرکے اپنے عقوبت خانوں میں منتقل کرتی رہی اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناتی رہی۔ ان عقوبت خانوں میں گوانتاناموبے کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ پاکستانی صحافی مسعود انور نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں سی آئی اے کا وہ طریقہ¿ کارپوری طرح بے نقاب کر دیا ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو خفیہ طور پر مختلف ممالک، بشمول پاکستان، طیاروں کے ذریعے دیگر ملکوں میں موجود اپنے قیدخانوں تک لیجاتی تھی۔

ویب سائٹ www.trtworld.comکی رپورٹ کے مطابق مسعود خان کو ابتدائی طور پر کراچی ایئرپورٹ پر ایوی ایشن کے ایک دوست سے کچھ خبر ملی کہ ایک پراسرار نجی طیارہ یہاں سے کسی شخص کو لے کر گیا ہے جس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور آنکھوں پر بھی پٹی باندھی گئی تھی۔ مسعود خان نے اس کی کھوج لگانی شروع کی تو معلوم ہوا کہ وہ طیارہ ایک جعلی کمپنی کے نام سے رجسٹرڈ تھا جس کا نمبر این 379پی تھا۔ جب مسعود خان نے اس نمبرکی پرواز کے مختلف ممالک میں ٹیک آف اور لینڈنگ کا ریکارڈ حاصل کیا تو معلوم ہوا کہ یہ طیارہ کئی ممالک میں جا رہا تھا اور وہاں سے لوگوں کو مصر، شام اور اردن لا رہا تھا۔ یہ تینوں ملک امریکی عقوبت خانوں کی موجودگی کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے سابق سی آئی اے ایجنٹ رابرٹ بائیر نے ایک بار کہا تھا کہ ”اگر آپ کسی شخص سے کڑی تفتیش کرنا چاہتے ہیں تو اسے اردن لے آئیے۔ اگر آپ کسی پر بے رحمانہ تشدد کرنا چاہتے ہیں تو اسے شام بھیج دیجیے اور اگر آپ کسی کو دوبارہ کبھی نظر نہ آنے کے لیے ”غائب“ کرنا چاہتے ہیں تو اسے مصر بھیج دیجیے۔“

رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے اس طریقے سے پاکستان، انڈونیشیا، سویڈن، مصر، مراکش اور تھائی لینڈ سمیت درجنوں ممالک سے لوگوں کو حراست میں لیا اور انہیں بیرون ملک قید خانوں میں منتقل کیا۔ حراست میں لیے جانے والے پاکستانیوں میں سعد اقبال مدنی بھی شامل تھا جسے 9جنوری 2002ءکو جکارتہ سے انڈونیشیئن پولیس نے گرفتار کرکے سی آئی اے کے حوالے کیا تھا۔ اس پر برطانیہ میں دھماکے کرنے والے ملزم رچرڈ ریڈ سے تعلقات کا الزام تھا۔

مسعود انور کی یہ تحقیقاتی خبر ان انسانی حقوق کے ورکرز کے لیے امریکہ کے خلاف ایک چارج شیٹ بن گئی ہے جو گوانتاناموبے میں ظلم کا شکار ہونے والوں کے لیے آواز اٹھاتے آ رہے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -