بدلا ہوا لاہور

بدلا ہوا لاہور
بدلا ہوا لاہور

میرے دوست نے حیرت کے عالم میں مجھے فون کیا، اور کہا مجھے تمہارا آفس ڈھونڈنے میں پریشانی ہو رہی ہے، مَیں نے کہا، آفس چھوڑے ہوئے تو مجھے مدت ہوگئی ہے، مگر تم بتاؤ کہ اس وقت ہو کہاں؟ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے سمجھ آ رہی ہوتی تو تمہیں فون کرکے پوچھتا کیوں۔اب مَیں نے پوچھا، اچھا یہ بتاؤ تم کس طرف سے آ رہے ہو۔ اس نے بتایا کہ مَیں مال روڈ سے گنگارام اور اب مزنگ چونگی کی طرف آ رہا ہوں، مگر مجھے مزنگ چونگی کی سمجھ نہیں آ رہی، کیا تمہارا آفس یہیں کہیں نہیں تھا؟ مَیں نے کہا بالکل یہیں تھا۔ تم ایسا کرو، جہاں کھڑے ہو، اگر ممکن ہو تو گنگارام کے سامنے کھڑے ہو جاؤ، مَیں تمہیں لینے کے لئے آرہا ہوں، میرا یہ دوست کوئی پانچ سال بعد لاہور آیا تھا اوراس کی بات درست تھی، اگر کوئی شخص پانچ سال بعد لاہور آیا ہے تو اسے واقعی پریشانی ہوگی، وہ نہیں سمجھ پائے گا کہ مزنگ چونگی کدھر گئی، پریشان ہوگا کہ اچھرہ موڑ کہاں مڑ گیا ہے، نہر کا پل کہاں ڈوب گیا ہے، کلمہ چوک ہوا کرتا تھا، نجانے اب کہاں ہے۔ سمن آباد موڑ کہاں مڑ گیا ہے، یہاں ایک یتیم خانہ چوک تھا، وہ کدھر غائب ہوگیا، شاہ نور سٹوڈیو اور ملتان روڈ کو دیکھ کر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے گا کہ خدایا وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا اور ہاں حقیقت بھی یہی ہے۔ جب مَیں اسے گھر تک لایا تو وہ حیران ہوگیا پھر جب مَیں نے اسے لاہور گھمایا تو وہ گھوم کے رہ گیا۔ یہ حیرانی صرف میرے دوست تک محدود نہیں ہے، عمران خان کے مینارِ پاکستان کے جلسے میں سندھ، کے پی کے اور بلوچستان سے لوگ آئے، وہ لاہور کو ’’پیرس‘‘ کا نام دیتے رہے۔ سنا ہے جلسے کے بعد مختلف صوبوں اور شہروں سے لوگوں سے بھری ہوئی جو بسیں آئی تھیں، واپسی پر خالی روانہ ہوئیں، کیونکہ آنے والے لوگ مزید لاہور دیکھنا چاہتے تھے اور انہوں نے گھوم پھر کے لاہور دیکھا۔

یہ حقیقت ہے کہ لاہور بدل رہا ہے، اب لاہور ایک جدید شہر کی طرح چمک رہا ہے، شہباز شریف نے لاہور پر بروقت توجہ دی ہے اور دینی بھی چاہئے کیونکہ لاہور اب صرف لاہوریوں کا نہیں رہا، پورے پاکستان کا دل یہاں دھڑکتا ہے، پاکستان بھر کے لوگ یہاں آباد ہو چکے اور لاکھوں لوگ لاہور کے رنگ میں رنگے جا چکے ہیں۔ دوسرے شہروں سے آنے والے لوگوں کی ایک پوری نسل یہاں پل کے جوان ہوچکی ہے اور اہل لاہور نے تمام پردیسیوں کو شہر میں خوشدلی کے ساتھ قبول کیا ہے۔ حکمرانوں کے سیاسی اور ذاتی مفادات ہوسکتے ہیں، مگر اہل لاہور کے دل بہت کشادہ ہیں، اہل لاہور تنگ دل ہرگز نہیں ہیں، نہ انہیں اس بات کا ملال ہے کہ وہ اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔ ان کی اکثریت اقلیت میں بدل چکی ہے، مگر اہل لاہور خوش ہیں کہ لاہور کی رونقیں بڑھانے میں پورا پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ شہبازشریف نے لاہور کو جو ترقی دی ہے، یقینی طور پر اس شہر میں بسنے والے اور روزانہ آنے والوں کے لئے دی ہے، مگر ایک افسوس ناک بات یہ ہے کہ لاہور کو ایک ’’جدید لُک‘‘ دینے کے لئے شہبازشریف نے جو عزم کیا تھا اس میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان نے ڈالی۔ شہباز شریف نے جس بھی شعبے میں نمایاں کام کرتے ہوئے تبدیلی لانے کا عزم کیا عمران خان نے ان پر الزام تراشی کی۔

کرپشن کے الزام لگائے اور مختلف طریقوں سے رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، چوک چوبرجی سے لے کر سمن آباد تک کا علاقہ عدالتی ’’سٹے‘‘ سے تاخیر کا شکار ہوا۔ اس تمام عرصے میں لاکھوں شہریوں نے بے پناہ مشکلات اٹھائیں، کام میں تاخیر کی وجہ سے مالی نقصان بھی ہوا، مگر حکومت پنجاب نے اپنا سفر جاری رکھا اور حیرت انگیز طور پر اپنے تمام منصوبے مکمل کئے اور ابھی پنجاب حکومت اپنے آخری دنوں میں بہت تیزی سے اپنا کام مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میٹرو بس سروس کے بعد، میٹرو ٹرین کا آغاز ایک شاندار منصوبہ ہے۔ اس منصوبے سے روزانہ لاکھوں کے قریب لوگ فائدہ اٹھائیں گے ،عام لوگ بسوں، ویگنوں اور رکشے والوں کی من مانیوں سے بہت تنگ تھے۔ ٹریفک کا ہجوم لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا رہا تھا، مگر اب ایسا نہیں ہے، لوگ بہت آرام سے روزانہ سفر کر رہے ہیں اور بہت کم پیسوں میں کر رہے ہیں۔

میرے خیال میں ہماری قومی قیادت کو کسی بھی شہر، گاؤں یا ضلع یا صوبے میں ہونے والی ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے مخالفانہ بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے۔ عوامی بھلائی کے منصوبے کسی ’’فرد‘‘ کے لئے نہیں ہوتے، بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے مفاد کے لئے ہوتے ہیں۔ شہبازشریف نے لاہور شہر میں جو منصوبے شروع کئے، وہ تمام کے تمام لوگوں کی سہولت کے لئے ہیں۔ میٹرو بس یا میٹرو ٹرین میں شہبازشریف نے تو سفر نہیں کرنا، اس میں ایک عام آدمی نے سفر کرنا ہے، اب اگر کسی منصوبے سے ایک عام آدمی کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو پھر اس میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کرنی چاہئیں بلکہ ایسے منصوبوں کو دوسرے صوبوں میں بھی شروع کرنا چاہئے، جیسا کہ عمران خان نے کے پی کے میں ’’میٹرو سروس‘‘ کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

ایک گزارش یہ ہے کہ ان منصوبوں کے حوالے سے عمران خان نے شہبازشریف پر کرپشن کے بڑے بڑے الزام لگائے ہیں، جواباً شہبازشریف نے عمران خان کو قانونی نوٹس بھجوائے اور عدالت میں ثابت کرنے کا چیلنج کیا ہے، مگر عمران خان نہ تو عدالت جاتے ہیں اور نہ جوابی کارروائی کرتے ہیں لیکن روزانہ کرپشن کا الزام ضرور لگاتے ہیں، جو ایک ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ رویہ ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ عدالت میں ثبوت پیش کریں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ شہبازشریف نے ان تمام منصوبوں میں کوئی کرپشن نہیں کی، اگر کی ہوتی تو وہ عمران خان کو نوٹس نہ بھجواتے۔ اب یہ فیصلہ عمران خان نے کرنا ہے کہ اپنی سچائی کیسے ثابت کرتے ہیں اور شہبازشریف نے تو عملاً ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ ایک بہترین وزیراعلیٰ کے طور پر تمام صوبائی وزراء اعلیٰ سے زیادہ محنتی اور عوام کی خدمت کی لگن رکھنے والا شخص ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اپنی اسی محنت کی وجہ سے پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کے لوگ بھی خواہش رکھتے ہوں گے کہ اگر ایسا شخص وزیراعظم بن گیا تو یقیناًہر شہر کو ’’لاہور‘‘ بنا دے گا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...