’’ناقابلِ تسخیر‘‘

’’ناقابلِ تسخیر‘‘
’’ناقابلِ تسخیر‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شر انگیزی میں شاید کوئی کسر رہ گئی تھی کہ وائٹ ہاؤس سے اپنے ایک ٹیلیویژن خطاب میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتہا پسندانہ اقدامات سے عالمی امن خطرے میں پڑ گیا۔ امریکہ کے اسرائیل اور بھارت کی طرف جھکاؤ سے معاملات روز بروز بگڑتے جا رہے ہیں۔عالمی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے امریکہ نے جوہری معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے ایران پر فوری پابندیاں عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ فرانسیسی صدر میکرون برطانوی وزیر خارجہ جائسن اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی تمام کوششوں کو ڈونلڈ ٹرمپ نے خاک میں ملادیا۔معاہدہ میں شامل عالمی طاقتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے کی کوشش کی تھی یوں یہ فیصلہ نہ صرف امریکہ کے اپنے یورپی اتحادیوں سے تناؤ کا باعث بنے گا روس اور چین سے تناؤ میں مزید اضافہ کرے گا بلکہ مغربی ایشیا میں عدم استحکام بھی پید اکرے گا۔جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے عالمی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے ۔اسرائیل جیسے ملک کی پشت پناہی سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال تشویشناک ہوچکی ہے۔فلسطین میں اسرائیلی مظالم بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔بھارت پر غیر معمولی نوازشات کا یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان امریکی کیمپ سے دور ہو چکا ہے۔ امریکہ کے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کے حالیہ بیان سے یہ ثابت ہوچکا کہ امریکہ عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سخت معاشی پابندیوں کا اعلان جاری کرتے ہوئے کہا یہ معاہدہ جاری رہتا تو ایران بہت جلد ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔ ٹرمپ کو اُکسانے میں اسرائیلی وزیراعظم پیش پیش تھا۔نیتن یاہو نے جو خود سیکنڈلوں میں پھنسا ہواہے او ر کرپشن کے الزامات کا سامنا کررہا ہے۔ٹرمپ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد حکومت کے ساتھ جوہری معاہدہ کو مسترد کرنے کے صدر ٹرمپ کے فیصلے کی

بھرپور حمایت کرتا ہے۔سعودی عرب نے بھی ایسا ہی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔سعودی اتحادیوں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی یہ مؤقف اپنایا ہے۔مشرق وسطیٰ پہلے ہی ان عالمی اور علاقائی طاقتوں کی براہ راست جارحیت اور پراکسی جنگوں سے تار تار ہوچکا ہے۔شام ،یمن ،عراق اور لیبیا جیسی ریاستیں بکھر کر رہ گئی ہیں۔ شام کے تنازع نے امریکہ ،روس ،ایران، سعودی عرب، اسرائیل، ترکی سمیت کئی یورپی طاقتو ں کی مداخلت واضح کردی۔ایران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل ایک سنجیدہ چیلنج سمجھتا ہے اور بضد ہے کہ ایران کو شام اور دوسرے ممالک میں مزید قدم جمانے کا موقع نہ دیا جائے۔امریکہ کبھی ایرانی جوہری معاہدے سے مخلص نہیں تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کئی بار ایرانی ایٹمی معاہدے کو توڑنے کی دھمکیاں دے چکے تھے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر عالمی سطح پر شدید رد عمل دیکھنے میں آرہا ہے ۔سابق صدر اوبامہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ گمراہ کن اور سنگین غلطی ہے المیہ یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ نے ایران سے جوہری معاہدہ ختم کردیا اوردوسری طرف وہ شمالی کوریا سے نیوکلیئر پاور کے حوالے سے پرامن مذاکرات کا خواہاں ہے۔یہ امریکی پالیسیوں کا دہرا معیار ہے اس سے عالمی سطح پر عدم توازن پید اہوگا۔ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد کوریا کے خطے میں امن کا عمل مشکوک ہوگیا ہے شام ،لیبیا ،عراق میں خانہ جنگی مزید بڑھے گی۔مسلمان ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہونے سے

اسرائیل مضبوط ہوگا اور اسلام دشمن ایجنڈا کامیاب ہونے کے چانس بڑھ جائیں گے۔عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین یہ ایٹمی معاہدہ2015میں طے ہوا تھا۔ چین، روس، فرانس برطانیہ یورپی یونین اور امریکہ اس معاہدے میں شامل تھے۔12مئی کو امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اس معاہدے کو تجدید کرنا تھا، لیکن منسوخ کر دیامنسوخی کا اعلان کرکے اپنے حلیفوں اور دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا ۔ایرانی معاہدہ ختم ہونے سے حالات تباہ کن ہوجائیں گے۔ ویسے بھی ٹرمپ اپنی متعصبانہ امیگریشن پالیسیوں کے خلاف مزاحمت اورجنسی ہراسمنٹ کے خلاف ابھرنے والی تحریکوں سے امریکی معاشرے میں موجود غصہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ان حالات میں ٹرمپ کی ایسی شر انگیزیاں اور من مانیاں نئی عوامی تحریکوں کوجنم دے سکتی ہیں۔ جن کا اندازہ امریکی حکمران طبقات کے نمائندوں کو بھی ہے یوں بد عنوانی کے الزامات یا کسی جنسی سیکنڈل کی بنیاد پرٹرمپ کو فارغ کیے جانے کی قیاس آرائیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔اگر خدانخواستہ امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو ایران نے اپنے اٹامک انرجی ادارے کو سخت مزاحمت کو حکم دے دیا ہے ۔

امریکہ اگر بھارت اور اسرائیل کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کا حق دیتا ہے تو پھر مسلمان ممالک کو اس حق سے محروم کیوں کیا جاتا ہے ۔ایران کے ایٹمی پروگرام سے کسی کو خطرہ نہیں البتہ بھارت ،اسرائیل اور امریکہ سے دنیا کو خطرہ ہے۔ماضی میں ایران کی طرح امریکہ نے پاکستان کے پر امن ایٹمی پروگرام پر بھی ناجائز پابندیاں لگائی تھیں لیکن پاکستانی قوم نے ایٹمی پروگرام جاری رکھا۔1998ء میں پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے سے قبل بھی امریکہ نے روکا اور دھمکیاں دیں اس موقع پر پاکستان کی عسکری اور سول قیادت نے بھرپور عوامی حمایت کے ساتھ اس معاملے میں جرأت مندی اور دلیری کا ثبوت دیا اور ایٹمی دھماکے کر دیئے اور ثابت کیا کہ پاکستانی قوم ناقابل تسخیر ہے اس وقت وہی جذبہ ایرانی عوام میں پایا جاتا ہے جو اًس وقت پاکستانی عوام میں تھا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...