آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چھٹی تراویح

سورۃ الانفال:8 ویں سورت

سورت انفال مدنی سورت ہے، اس میں 75 آیات اور 10 رکوع ہیں۔یہ نویں پارہ کے پندرھویں رکوع سے دسویں پارہ کے چھٹے رکوع تک ہے۔یہ سورت 2ھ میں غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔اس میں معرکہ حق و باطل (اسلام و کفر کی پہلی جنگ) پر مفصل تبصرہ کیاگیا ہے مگر یہ تبصرہ دنیاوی بادشاہوں کی فتوحات کے تبصروں سے الگ اندازلئے ہوئے ہے۔اس قرآنی تبصرہ میں خامیوں کی نشاندہی بھی ہے،فتح میں تائیدِ الٰہی کا تذکرہ بھی اور ان اخلاقی صفات کی توضیح بھی جن سے کامیابی میسر آتی ہے۔سورۃ مبارکہ کا نام پہلی ہی آیت میں مذکور لفظ ’’انفال‘‘ کے حوالہ سے رکھا گیا ہے۔ انفال جمع ہے ’’نفل‘‘ کی۔عربی میں نفل اس چیز کو کہتے ہیں جو واجب یا حق سے زائد ہو۔یہاں مال غنیمت کیلئے غنائم کی بجائے انفال کہا گیا ہے۔یعنی جنگ میں ہاتھ آئے ہوئے مال کے بارے میں مسلمانوں کو سبق دیا جا رہا ہے کہ اس کو اپنا مال نہ سمجھیں ،بلکہ اللہ تعالیٰ کا مال سمجھیں۔ جو کچھ اللہ حصہ مقرر کریں وہ بخوشی لے لیں۔ جو غریبوں اور دیگر شرعی امور کیلئے مقرر کیا جائے اس کو برضا و رغبت گوارا کر لیں۔سورۂ انفال کا اصل موضوع غزوہ بدر اور اس کے متعلقہ واقعات ہی ہیں۔

شروع میں اجمالی طور پر مال غنیمت کا ذکر ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے اور حکم آتا ہے کہ دشمنوں کے مقابلے میں اگر اسی طرح ایمان اور صبرو ثبات قائم رکھا گیا تو مزید رحمتیں نازل ہونگی۔ مسجد حرام میں کافروں کی عبادت سیٹیاں بجانی یا تالیاں بجانی تھی اور وہ اللہ کی راہ سے روکنے کیلئے خرچ کرتے تھے۔اب ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی چالبازیوں اور شرارتوں سے باز آجائیں تو ان کی مغفرت ہو سکتی ہے، ورنہ کفر پر اصرار کی وجہ سے وہ نامراد رہیں گے۔اب جہاد کا حکم ہے کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ ان کا فساد باقی نہ رہے اور اللہ کا حکم جاری و ساری ہو جائے۔مالِ غنیمت کی تقسیم بھی بتائی ہے کہ چار حصے مجاہدین میں خرچ کئے جائیں اور پانچواں حصہ بیت المال میں جمع ہوگااور جہاد کرنے والوں کے لئے اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ جہاد کے قواعد اور قوانین بھی بتائے جا رہے ہیں کہ ثابت قدمی اور اللہ کی یاد سے جہاد میں کامیابی ہوتی ہے اور اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی کام آتی ہے۔ شیطان دھوکے دیتا ہے اور جب وہ کافر لڑنے کو کھڑے ہوتے ہیں تو بظاہر ان کی مدد کرتا ہے لیکن پھر ان سے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔منافقین کی ریشہ دوانیاں بتائی جا رہی ہیں تاکہ مسلمان ان سے خبردار رہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاد کے لئے ہر طرح کے سازوسامان سے لیس رہیں، پھر بھی ان مادی ذرائع پر بھروسہ نہ کریں بلکہ اللہ اور اس کی قدرت و مدد پر اعتماد کریں۔ جہاد پر آمادہ کرنے اور رہنے کا حکم پھر آتا ہے جس کے لئے صبرو ثبات کی تلقین ہے کہ اللہ کی رضا کے لئے جہاد ہو اور صبروثبات اور اللہ پر توکل ہو تو کم از کم دگنی تعداد پر آسانی سے غالب آسکتے ہیں۔مال غنیمت حلال ہے اور قیدیوں کے متعلق احکام ہیں کہ ان سے مال لیکر ان کو چھوڑا جا سکتا ہے یا نہیں۔پھر ایمان، جہاد اور ہجرت کے فضائل بیان کئے گئے ہیں کہ اگر وطن میں اسلامی زندگی گزارنی دوبھر ہو جائے تو پھر ہجرت ضروری ہے اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے کیلئے ہجرت نہ ہو تو ایسے شخص کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر یہ بھی حکم ہے کہ دشمن ملک اور دشمن قوم میں پھنسے ہوئے مظلوم مسلمان اگر اسلامی حکومت سے مدد طلب کریں تو ان کو ظلم و تشدد سے بچانے کیلئے ان کی مدد ضروری ہے۔ہجرت اور جہاد کرنے والے مغفرت اور عزت کی روزی حاصل کرینگے اور ان کے حقوق اور بھی ہیں۔

سورۃ التوبہ : 9 ویں سورت

سورۂ توبہ ، مدنی ہے، اس میں 129 آیات اور 16رکوع ہیں۔ یہ دسویں پارہ کے ساتویں رکوع سے شروع ہو کر گیارہویں پارہ کے پانچویں رکوع تک ہے۔ یہ سورت دو ناموں سے مشہور ہے ایک ’’التوبہ‘‘ اور دوسرا ’’برآۃ‘‘ ۔ توبہ اس لحاظ سے کہ اس میں ایک جگہ اہل ایمان کی خطاؤں کی معافی کا ذکر ہے اور ’’برأۃ‘‘ اس لحاظ سے کہ اس کے آغاز ہی میں مشرکین اور ان کفار سے بیزاری کا اعلان ہے جو عہد شکن ہیں۔

اس سورت کے آغاز میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ نہیں لکھی گئی ، امام رازی نے لکھا ہے کہ نبی پاکﷺ نے خود ہی اس کے آغاز میں ’’بسم اللہ‘‘ نہیں لکھوائی، اس لئے صحابہ کرامؓ نے بھی نہیں لکھی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سورت کے ساتھ ’’بسم اللہ‘‘ نازل ہی نہیں ہوئی تھی۔ اس میں سورۃ انفال کے مضامین کا ہی تسلسل نظر آتا ہے۔

آغاز سے لیکر پانچویں رکوع تک کا حصہ ذی القعدہ 9ھ کے لگ بھگ نازل ہوا اور رکوع 6 سے رکوع 9 کا حصہ رجب 9 ھ یا اس سے کچھ پہلے نازل ہوا جبکہ رکوع 10 سے اختتام تک کا حصہ غزوہ تبوک سے واپسی پر نازل ہوا (بعض آیات اسی دوران مختلف مواقع پر نازل ہوئیں)۔

جب مکہ فتح ہوا تو اس کے ایک برس بعد یہ حکم نازل ہوا کہ کسی مشرک سے صلح نہ رکھو اور یہ بات عید قربان کے دن حج کے قافلوں میں سنا دو تاکہ سب کو اطلاع ہو جائے۔ یعنی 10 ذوالحجہ سے 10 ربیع الآخر تک وہاں کے کافروں کو یہ مہلت دی گئی ہے کہ یا تو وہ جنگ کیلئے تیار ہو جائیں یا وطن چھوڑ دیں یا مسلمان ہو جائیں۔ پھر جو لوگ توبہ کر لیں، نماز اور زکٰوۃ ادا کریں تو ان سے کوئی تعرض نہیں ہو گا اور جو مشرک پناہ چاہیں انہیں پناہ دی جائے۔ مختلف قبیلوں سے جو معاہدے ہوئے تھے‘ اگر وہ ان پر قائم رہیں تو مسلمان بھی پابند رہیں ورنہ نہیں، اور جو مشرک یا کافر توبہ کر لے اور نماز وزکٰوۃ پر قائم ہو جائے تووہ مسلمان کا دینی بھائی ہے، اس سے کسی قسم کا انتقام نہ لیا جائے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اگر ان کے باپ دادا، بیٹے اور بھائی وغیرہ کفر پر قائم ہیں تو ان سے رفاقت نہ کریں‘اللہ اور رسول ﷺ اور جہادکی راہ میں ان کا تعلق آڑے نہ آئے ورنہ تمہیں اس روش کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ بدر اور حنین کی جنگوں میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہی اور اب بھی رہے گی، اگر مسلمان، اپنے اللہ اور اس کے دین کیلئے آگے بڑھیں گے تو انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتیں ملیں گی۔ اب حکم ہے کہ مسجد میں مشرکوں کو آنے مت دو، کیونکہ وہ پلید ہیں۔ اہل کتاب سے جزیہ لیا جائے اور جو دشمن مسلمان سے لڑیں تو ان سے مسلمان بھی لڑیں اور جو صلح رکھیں ان سے تعرض نہ کیا جائے۔ اب یہود ونصاریٰ کا ذکر ہے کہ عزیر علیہ السلام کو یہود نے اللہ کا بیٹا بنا لیا اور نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو۔ یہ سب غلط ہے اور یہ لوگ اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ تو اس نور کو پوری طرح چمکا کر رہے گا۔ دین ابراہیم علیہ السلام میں چار مہینے (ذی القعد‘ ذی الحج، محرم اور رجب) حرمت کے تھے۔ اب بھی اگر کفار ان مہینوں میں نہ لڑیں تو مسلمان بھی نہ لڑیں ورنہ ان مہینوں میں لڑ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو دنیا کی محبت میں جہاد سے دست کش نہ ہونا چاہئے اور عذاب الٰہی کا خود کو مستحق نہ بنانا چاہئے۔

اگر وہ جہاد چھوڑ دیں گے تو ان کے بجائے کسی دوسری قوم کو بھی یہ شرف دیا جا سکتا ہے جو مسلمان کو دیا گیا ہے۔ ان منافقین سے بچیں جو حیلے بہانے کر کے جہاد پر نہیں گئے۔ اللہ خود اپنے رسول ﷺ کی مدد کرتا ہے جیسا کہ غار ثور میں ان کو تسکین دی اور ان کی مدد فرمائی۔ جہاد میں شریک نہ ہونے والوں کی مذمت ہے اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ دل میں نفاق ہوتا ہے تو نماز میں سستی ہوتی ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گراں گزرتا ہے۔ اب زکٰوۃ کے آٹھ مصارف بتائے جا رہے ہیں کہ جہاں مال خرچ کیا جائے۔ 1 ۔ مفلسوں پر 2 ۔ محتاجوں پر3 ۔ کام پر جانے والوں پر 4 ۔ اور جن کا دل تالیف کرنا ہے، 5 ۔ گردن چھڑانے پر، 6 ۔ تاوان بھرنے پر 7۔ اللہ کی راہ میں اور 8۔ مسافر پر ۔ پھر ذکر ہے کہ وہ بدبخت جنہوں نے اپنی حرکتوں سے حضور انور ﷺ کو ایذا پہنچائی ہے ان کیلئے عذاب الیم ہے۔ خدا اور رسول ﷺ کی ہدایات پر جو لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں، وہ منافق ہیں اور وہ بہانے بناتے ہیں۔اپنے گناہ کا اعتراف کرنے والے اور توبہ کرنے والے اللہ کے نزدیک قابل معافی ہیں۔

لیکن منافقوں نے ضد اور کفر کی وجہ سے جو مسجد ضرار پھوٹ ڈالنے کیلئے بنائی ہے اس میں ہرگز نماز نہ پڑھیں، بلکہ مسجد قبا میں پڑھیں جو پرہیزگاری کی بنا پر قائم کی گئی اور اس کیلئے اللہ کی رضا بھی ہے۔ ان تین حضرات کا بھی ذکر ہے جو کاہلی اور غلطی سے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ لیکن انہوں نے خلوص کے ساتھ توبہ کی تو اللہ پاک توبہ قبول کرنے والا ہے۔ دین کے پھیلانے اور شریعت کا علم سیکھنے اور سکھانے کیلئے بھی ایک جماعت ضروری ہے۔ جہاد، اسلام کی سربلندی کیلئے ہے تاکہ کافروں کو معلوم ہو سکے کہ مسلمان کمزور نہیں ہیں۔ ایسے لوگ مجلسِ نبوی ﷺ سے کیا پھرے! خدا نے ان کے دلوں کو پھیر دیا اور حضور انور ﷺ خیر خواہی اور نفع رسانی کی تڑپ اپنے دل میں رکھتے ہیں اور آپ ﷺ جب سارے جہان کیلئے خیر خواہ ہیں تو امت مسلمہ کیلئے کیوں خیر خواہ نہ ہوں گے؟ آپ ﷺ تو رؤف بھی ہیں اور رحیم بھی اور اگر کوئی شخص ان سے پھر جاتا ہے تو ان کیلئے اللہ کافی ہے جو مالک ہے عرش عظیم کا۔ *

مزید : رائے /کالم