حضرت مولانا سالم قاسمی مرحوم دیو بندکا روشن چراغ

حضرت مولانا سالم قاسمی مرحوم دیو بندکا روشن چراغ

جس کادھڑکا تھا، آخر وہ گھڑی آہی گئی،تین روز زندگی اور موت کی کشمکش میں گزار کے حضرت مولانا محمد سالم قاسمی اپنے مالک حقیقی سے جاملے اور برصغیر میں علمی روایت کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ آپ کی ولادت باسعادت دیوبند میں ہوئی تھی، علامہ محمد انور شاہ کشمیری نے آپ کی بسم اللہ خوانی کرائی تھی، علاوہ ازیں آمد نامہ جیسی ابتدائی فارسی کتاب کے چند اسباق بھی آپ کو پڑھائے تھے۔ (اس کا تذکرہ مولانا اور آ پ کے رفیق مولانا انظر شاہ کشمیری مرحوم بھی کیا کرتے تھے)۔ البتہ آپ کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز پیر جی شریف گنگوہی سے ہوا تھا۔ علامہ کشمیری علیہ الرحمہ کو دیکھنے والا طبقہ آپ پر اختتام پذیر ہوا۔ آپ نے حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ سے میزان کے اسباق پڑھے تھے، اب حضرت حکیم الامت علیہ الرحمہ سے باقاعدہ سبق لینے والااس دنیا میں کوئی باقی نہیں رہا ، اس طرح آپ حضرت حکیم الامت کے آخری شاگرد ثابت ہوئے، حضرت تھانوی کو دیکھنے والوں میں اب شاید صرف حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتھم بقید حیات ہیں۔ اللہ آپ کا سایہ تادیر امت پر باقی رکھے۔ دارالعلوم دیوبند میں آپ کو علامہ محمد ابراہیم بلیاوی، شیخ الادب مولانا اعزاز علی، شیخ التفسیر مولانا فخر الحسن علیہ الرحمہ جیسے علما کی شاگردی حاصل ہوئی، اس دوران مختلف اوقات میں مولانا سید اسعد مدنی، شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم اللہ خان، مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی اور مولانا مفتی عتیق الرحمن نعمانی جیسے ملت اسلامیہ کے آسمان کے چاند اور تارے آپ کے شریک درس رہے۔ مولانا کی شہرت حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند کی حیثیت سے رہی، دنیا نے آپ ہی کو حضرت حکیم الاسلام کا جانشین مانا۔

 

یہ بات دنیا جانتی ہے کہ حضرت حکیم الاسلام بانی دارالعلوم دیوبند کے پوتے، اور آپ کے علم و حکمت کے امین تھے، شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری، حضرت حکیم الامت تھانوی علیہم الرحمہ وغیرہ علما سے کسب فیض کیا تھا، آپ نے مولانا حبیب الرحمن عثمانی علیہ الرحمہ کے دور میں نائب مہتمم کی حیثیت سے آٹھ سال خدمات انجام دیں اور آپ کی رحلت کے بعدمسلسل دارالعلوم کے اہتمام پر فائز رہے۔ آپ کے دور اہتمام میں آپ کے اساتذہ کرام کی ایک بڑی تعداد دارالعلوم میں منصب تدریس و تربیت پر پائی جاتی تھی، یہ دارالعلوم کا زرین دور شمار ہوتا ہے، اس دور میں دارالعلوم نے عالمی شہرت پائی، اور یہ ادارہ ازہر ہند کی حیثیت سے متعارف ہوا، اس شہرت میں جہاں اس ادارے سے وابستہ اور تدریسی خدمات پر فائز اکابرین کی قربانیاں شامل ہیں، وہیں عوام الناس میں اسے مقبول بنانے اور اس کی دعوت و فکر کو عام کرنے میں آپ کے اسفار اور خطبات نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے، لہٰذا بانی دارالعلوم کے بعد آپ کو معمارثانی کہا گیا۔ حضرت حکیم الاسلام اپنے دور کے عظیم ترین خطیب شمار ہوتے تھے، ہما شما کا کیاذکر مولانا عبد الماجد دریا بادی جیسے علم و ادب کے مینار نے آپ کو اپنے دور کا سب سے بڑا خطیب قرار دیا تھا، قاری صاحب کی خطابت دھیمی آنچ کی طرح تھی، اس میں اتار چڑھاؤ کم ہی ہوتے تھے، ایک بہتا دریا تھا جو بغیر روک ٹوک آگے ہی بڑھتا چلا جاتا تھا۔ اس میں نہ چیخ اور دھاڑ ہوتی تھی، نہ راگوں کا الاپ، لیکن زبان تھی کہ رکتی نہیں تھی، الفاظ ایسے نکلتے جیسے پھول جھڑ رہے ہوں۔ تین چار گھنٹے کے خطاب میں جملوں کی تکرار شاذو نادر ہی ہوتی۔ تشریح ایسی کرتے کہ عوام کے سامنے مشکل سے مشکل مسائل پانی ہوجاتے۔

 

ایک زمانہ تھا کہ عروس البلاد ممبئی میں بدایون، مارہرہ اور بریلی کے واعظوں کا غلبہ ہوا کرتا تھا، کسی صحیح العقیدہ عالم کی مجال نہیں تھی کہ یہاں بیانات کرے۔ بڑوں سے سنا کہ جب یہاں پہلے پہل قاری صاحب کے بیانات

رکھے گئے توسارے شہر میں مخالفین کے پوسٹر لگ گئے کہ شیطانوں کا سردار آرہا ہے، اس زمانے میں ممبئی میں پشاوری اور افغانی پٹھانوں کی بڑی تعدا د آبا د تھی،پھلوں اور میوؤں کی تجارت کے علاوہ ان میں خاصی بڑی تعداد جرائم پیشہ افراد کی بھی تھی، جو اکسانے پر مرنے مارنے کے لئے آمادہ ہوجاتی تھی، منفی پبلسٹی سے متاثر ہوکر شیطان کے سردار کا سر توڑنے کی غرض سے ایسا ہی ایک پٹھان قاری صاحب کی مجلس میں لٹھ لے کر پہنچا، وہاں آپ کی ملکوتی شخصیت نے اسے ہکا بکا کردیا، آپ کے منہ سے پھول جیسے بول جھڑتے دیکھ کر اس کی زبان گنگ ہوگئی،اس نے وہیں نہ صرف علی الاعلان توبہ کی، بلکہ الٹے آپ کے لئے مرنے مارنے پر تیار ہوگیا، اس طرح شقی سے شقی لوگ آپ کی دعوت سے متاثر ہوتے رہے، پھر تو ممبئی میں مسلک دیوبند کے خطیبوں اور عالموں کا ایک ریلا لگ گیا اور آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مولانا ابو الوفا شاہ جہان پوری اور مولانا قاری ودود الحی نفیس لکھنوی اور جناب پالن حقانی نے تو یہاں کا نقشہ ہی بدل دیا۔ حضرت حکیم الاسلام علیہ الرحمہ ایک عرصہ تک رمضان المبارک میں بھنڈی بازار کی نواب ایاز مسجد میں درس قرآن دیا کرتے تھے، آپ کے ایک مرید خاص صوفی عبد الرحمن مرحوم نے انہیں ریکارڈ کرنے کا اہتمام کیا تھا ، اور آپ کے پانچ سو تفسیر قرآن کے دروس محفوظ کئے تھے،جنہیں آپ سے جنوبی افریقہ کے ایک بزرگ مولانا محمد اسماعیل کتھرادا صاحب بڑی ریل سے چھوٹے کیسٹوں میں منتقلی کے وعدے کے ساتھ لے گئے تھے۔

صوفی صاحب نے حضرت کی رحلت کے بعد حکیم الاسلام اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا اور وہاں سے کئی ایک سورتوں کی تفسیر بھی شائع کی تھی، اگر یہ ذخیرہ دستیاب ہوجائے اور اس پر محنت کی جائے تو اردو لٹریچر میں علوم قرآن کے ایک عظیم ذخیرہ کا

اضافہ ہوسکتا ہے۔ حضرت کی زندگی ہی میں اس ناچیز

نے آپ کی تقاریر کی ریکارڈنگ کی تلاش اور ان کی حفاظت کی درخواست کی تھی اور ذرہ ذرہ کرکے آپکے ڈھائی سو کے قریب خطبات کے کیسٹ جمع کئے تھے، ان کیسٹوں کی فہرست سازی اور ایک دوسرے سے انہیں نمایا ں کرنے اور پہچان کی غرض سے خطبہ کے شروع کی آیت یا حدیث کو بنیاد بنایا تھا، ہمارے جمع کردہ یہ خطبات تقریباً بیس سال کے عرصہ پر محیط تھے اور یہ انگلستان، افریقہ، بھارت، پاکستان اور ملکوں ملکوں کی مجالس پر پھیلے ہوئے تھے، اس کوشش کے دوران ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی، جب یہ انکشاف ہوا کہ ان میں سے ہر خطبے کا آغاز الگ الگ آیت یا حدیث سے ہوا تھا، خطبہ کے آغاز میں ان کی تکرار شاید ایک یا دو خطبات ہی میں پائی گئی تھی۔

 

یہ تھے علم و حکمت کے بحر بے کراں جن کی جانشینی حضرت مولانا محمد سالم قاسمی علیہ الرحمہ کے حصے میں آئی تھی۔اپنے والد ماجد کے دور اہتمام میں بتیس سال تک دارالعلوم میں آپ نے بحیثیت مدرس خدمات انجام دیں، اس دوران آپ اپنے والد ماجد کا سایہ بن کررہے اور آپ سے فیض حاصل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا، تصوف کی راہ میں آپ نے پہلے حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری علیہ الرحمہ کے ہاتھوں پر بیعت کی، آپ کی رحلت کے بعد حضرت حکیم الاسلام کے خلیفہ اور مجاز بیعت ہونے کا شرف حاصل ہوا، اس طرح آپ علوم نانوتوی کے جسمانی اور روحانی امین بن گئے۔دارالعلوم کے جن طلبہ نے آپ کو دوران طالب علمی دیکھا ہے، ان کی گواہی ہے کہ مولانا کے دروس حشو و زوائد سے پاک ہوا کرتے تھے، پابندی وقت کا آپ بہت خیال رکھتے تھے، اور اسباق بڑے دلنشین انداز میں پڑھاتے تھے، آپ کی تدریس کے دور میں آپ سے فیض پانے والے علماء میں سے بہت سارے آسمان علم کے چاند تارے بن گئے، ان شخصیات میں دارالعلوم کے موجود ہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری صاحب کی نسل کے اساتذہ بھی پائے جاتے ہیں۔

مولانا تعلیم و تعلم کے آدمی تھے، آپ کے دروس سیاست اور پارٹی بازی سے پاک ہوا کرتے تھے۔

مزید : رائے /کالم