عدلیہ،کیمرے،گاڈ پارٹیکل اور پروفیسرہِگز

عدلیہ،کیمرے،گاڈ پارٹیکل اور پروفیسرہِگز

وطنِ عزیز کی عدلیہ کے متعلق گزشتہ دو عشروں سے میری رائے ایک خاص رخ پر، جس کا آگے ذکر آ رہا ہے، بن چکی تھی۔ اظہار کی ہمت اس لئے نہیں تھی کہ مَیں اپنے سے بہتر اور کسی پختہ کار صاحبِ رائے کی شہادت کا منتظر تھا اور یہ شہادت موضوع کے حوالے سے مُلک کے انتہائی معزز قانون دان ایس ایم ظفر کی ہے، جو خاصی اہم ہے۔ مجھے کہنے کی اجازت دیجئے کہ 1999ء کی فوجی حکومت نے اس وقت کی عدلیہ کی شاندار غیرحسی عمارت میں جو موٹی سی دراڑ ڈالی تھی، وقت کے ساتھ اُس دراڑ کی موٹائی میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے یہ عمارت زمیں بوس ہو چکی ہے۔ ماضی میں ہماری عدلیہ مشکل حالات میں اپنے لئے موقع کی مناسبت سے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتی رہی ہے۔ اِس کہکشاں کے چند آخری درخشاں ستارے جناب چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی، جناب جسٹس خلیل الرحمن خان، جناب جسٹس وجیہہ الدین احمد اور دیگر تین جج تھے، جنہوں نے غیرآئینی حکمران کے حکم کے تحت اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھانے کی بجائے ریٹائرمنٹ کو ترجیح دی۔ اس کے بعد عدلیہ اس حملے سے جانبر نہیں ہو سکی۔

بعد میں جن اصحاب نے عدالتی مناصب سنبھالے ان کے احترام کے باوجود میں یہ کہنے سے قاصر ہوں کہ انہوں نے ملکی قانون پر ایسے نقش نہیں چھوڑے کہ متاخرین اُن سے رہنمائی لے سکتے ہوں۔ برعکس اِس کے عدالت عظمیٰ کی اب تو یہ حالت ہو گئی کہ عدالت کے افسران اور ٹی وی کا عملہ بتایا کرتا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اس وقت تک مقدمات کی سماعت شروع نہیں کرتے تھے،جب تک ٹی وی کیمرے خوب اچھی طرح نصب نہیں ہو جاتے تھے اور متعلقہ عدالتی عملے کے لوگ اُنہیں ہری جھنڈی نہیں دکھا دیتے تھے۔آہستہ آہستہ اب توصورت یہ ہو گئی ہے کہ آج کل عدالتِ عظمیٰ میں انہی مقدمات کو اولیت دی جاتی ہے، جن کا تعلق ذرائع ابلاغ، ٹی وی سکرین اور کچھ اُن امور سے وابستہ ہوتا ہے، جنہیں ہم شہرت کا حصول بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ میری رائے تھی،جس کے لئے مَیں کسی بوجھل شہادت کا متلاشی تھا جو جناب ایس ایم ظفر صاحب نے فراہم کر دی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف صاحب نے گزشتہ دِنوں ایک ایسے موضوع پر رائے دی، جس کا بعض قابلِ احترام اور محب وطن لوگ ڈنکے کی چوٹ پر سالہا سال سے اعتراف کر رہے ہیں، لیکن اُن کا کہا ہوا ملک میں جرأت اور مردانگی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ 22 کروڑ افراد کا نمائندہ ہر کسی کے لئے ترنوالہ ہوا کرتا ہے، اِس لئے غریب کی جورو سب کی بھابھی کا منصب حاصل کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر منظور پشتین کو کور کمانڈر پشاور نے اپنا بچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مطالبات آئینی ہیں۔ اب ذرا اس بیان کو کور کمانڈر پشاور کی بجائے نواز شریف سے منسوب کر کے دیکھیں، تو نتائج ہر کسی پر واضح ہوں گے۔ ایسا ہی ایک بیان جب انہوں نے غیر ریاستی ایکٹر کے حوالے سے دیا تو متعدد لوگوں نے اُن کے خلاف غداری کے مقدمات دائر کر دئیے۔ ایک مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا تو اُسے سماعت کے لئے منظور کر لیا گیا۔ اس پر بی بی سی اردو کے نمائندے نے 17 مئی کو جب ایس ایم ظفر صاحب سے رائے دہی کے لئے رابطہ کیا تو ان کا جواب ان الفاظ میں تھا:’’بعض اوقات جج صاحبان اپنا نام آگے بڑھانے کے لئے ایسی درخواستوں کو قابل سماعت بنا لیتے ہیں کہ سماعت تو کریں دیکھا جائے گا،حالانکہ یہ بہت نازک معاملات ہوتے ہیں، جب تک پوری طرح تسلی نہ کی جائے اُس کو قابل سماعت نہیں قرار دینا چاہئے‘‘۔ ظفر صاحب انتہائی بردبار اور متین قانون دان ہیں۔ نرم الفاظ میں انہوں وہ پوری عدالتی سوچ واضح کر دی، جس پر آج کل عدلیہ کام کر رہی ہے۔ اس شہادت میں،جو مجھے درکار تھی، بس انہوں نے ’بعض اوقات‘ کا اضافہ بربنائے احتیاط کیا ہے۔

قارئین کرام! آئیے آپ کو طبعیات کے میدان میں لے چلتے ہیں۔ پروفیسر پیٹرہِگز 1929ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ 1960ء میں 31سال کی عمر میں انہوں نے طبیعات کے میدان میں ایک ایسا نظریہ پیش کیا،جس کا طواف تمام ماہرینِ طبیعات اگلے پانچ عشروں تک کرتے رہے۔ مَیں طبیعات سے نابلد ہوں تاہم جو کچھ پتہ ہے وہ یہ ہے کہ پروفیسر پیٹرہِگز کے مطابق

ایٹم کے مرکزے میں ایک اور وجود ہو سکتا ہے جسے بعد میں ہِگز بوسن (Higgs Boson) سے موسوم کیا گیا۔ اُسے گاڈپارٹیکل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کائنات ابتداً ایک جامد مادہ تھا اس میں تحرک کی بنیاد یہی گاڈ پارٹیکل بنا، جس نے جامد مادے کو منتشر کر کے مختلف نظام ہائے شمسی کی بنیاد رکھی۔ اسی سے موجودہ کائنات وجود میں آئی۔ یہ وہی نظریہ تھا جسے سورۃ انبیاء میں قرآن یوں بیان کرتا ہے: ’’زمین اور آسمان پہلے بند تھے پھر ہم نے ان دونوں کو کھول دیا‘‘۔ یہ نظریہ اتنی ٹھوس بنیادوں پر تھا کہ یورپی ممالک نے اس کے لئے ایک طویل المیعاد پراجیکٹ شروع کیا۔ سوئٹرز لینڈ میں سرن کے مقام پر سٹیل کی ایک طویل سرنگ بنا کر ہزاروں سائنس دانوں نے ایڈوَرس کائناتی انجینئرنگ کا ایک شاہکار تیار کیا۔

حتمی تجربہ 2012ء میں کیا گیا، جس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ پروفیسر ہگز نے کائنات کی تخلیق کے لئے طبیعات کے جن اصولوں کا اطلاقی نظریہ دیا تھا، تجربہ گاہ میں وہ درست ثابت ہوا۔ جولائی 2012ء کو جب اس طویل المیعاد تجربے کا حتمی نتیجہ سامنے آیا تو یورپ میں جشن کا سماں تھا۔ ذرائع ابلاغ چیخ رہے تھے، جن کی توجہ کا محور پروفیسر ہگز تھے۔ اب اس کے ساتھ ہی 83سالہ پروفیسر کی تلاش شروع ہوئی تو آپ تک کسی کی رسائی ممکن نہ ہو سکی۔ بالآخر ایک کھوجی صحافی نے شمالی انگلستان میں کہیں اُن کا سراغ لگا لیا۔ اب اگلا مرحلہ اُن کے انٹرویو کا تھا۔ انٹرویو تو بہت بعد کی بات ہے اُن تک صحافی کی رسائی بھی نہ ہو سکی۔ بڑی مشکل سے وہ چم چیچڑ صحافی اُن تک اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوا کہ پلیز کچھ وقت مرحمت فرمائیں۔ اُس کے جواب میں پروفیسر کے کسی ساتھی کا دو سطری تحریری جواب کچھ اِن الفاظ میں آیا: ’’پروفیسر صاحب ان تمام اصحاب کے شکرگزار ہیں،جو اُن کے لئے تشکر و امتنان کے جذبات رکھتے ہیں۔ پروفیسر صاحب آج کل چھٹیوں پر ہیں۔ بعد میں کسی وقت آپ سے مل کر وہ مسرت محسوس کریں گے۔‘‘اندازہ کیجئے الہامی کتابوں میں تخلیقِ کائنات کے تصور کو طبعی اصولوں کے مطابق بیان کر کے تجربہ گاہ میں ففتقنٰھماکی تفسیر کرانے والاپروفیسر کائنات کاوہ مفسر اس قدر ٹی وی بے زار! قارئین کرام! جو لوگ کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے مَن میں ڈوب کر سراغِ زندگی کے کھوجی ہوتے ہیں۔

اب ذرا واپس اپنی عدلیہ کی طرف آئیے۔ نمونے کی ایک خبر ملاحظہ ہو: چیف جسٹس صاحب کا فلاں جگہ اچانک چھاپہ۔ نہیں سمجھ سکا کہ یہ اچانک چھاپہ کیسا ہے،جو ٹی وی کیمروں اور پوری ٹیم سے لیس ہے اور محترم چیف جسٹس کی ایک ایک حرکت و سکون پوری فنی جزئیات کے ساتھ دکھائی جا رہی ہوتی ہے۔ چیف کے اس اچانک چھاپے سے کہیں قبل ٹی وی کیمروں اور پوری ٹیم کو اپنی پوزیشن سنبھالنا ہوتی ہے، کہیں روشنی کا بندوبست کرنا پڑتا ہے، کہیں بجلی لینا پڑتی ہے، کہیں لمبی تار کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان تمام کاموں کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ چھاپہ اچانک نہیں ہو سکتا ۔ جج صاحبان کو میری رائے میں اس حد تک خودنمائی کے سامنے سپر نہیں ڈالنا چاہئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ عدلیہ گزشتہ چند برسوں سے بالعموم اُنہی مقدمات کی سماعت کر رہی ہے،جو ذرائع ابلاغ میں غیرمعمولی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ میری مراد سیاست سے متعلق مقدمات ہیں۔

عام سائلین کے مقدمات سالہا سال پڑے رہتے ہیں ،جن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔ اندازہ کیجئے میرے محترم دوست ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے برسوں قبل عدالت عظمیٰ میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا کہ بعض لوگوں نے اپنے کھربوں روپے کے قرضے بینکوں سے معاف کرا لئے ہیں، جو قواعد کے برخلاف ہے۔ لہٰذا یہ قرضے واپس خزانے میں جمع کرانے کا حکم جاری کیا جائے۔ اگر اس ایک مقدمے کی سماعت ہو جائے تو مُلک کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ آپ نے سال بھر قبل یہ خبر بھی پڑھی ہو گی کہ سپریم کورٹ نے کسی شخص کو بری کر دیا۔ معلوم ہوا اُسے تو 18 سال قبل پھانسی ہو چکی ہے۔ فوجی عملے کا تعلق جسمانی تندرستی سے ہوتا ہے۔ یہ تندرستی ہر سال ہر فوجی کی ناپی جاتی ہے۔

ادھر کسی فوجی کی توند کا سائز مقررہ حد سے بڑھا، ادھر وہ فوجی ریٹائر ہو کر گھر پہنچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اِس فکر کا شدت سے قائل ہوں کہ محترم جج حضرات کی ذہنی ساخت و میلانات پر بھرپور نظر رکھنے کے لئے پارلیمان کوئی ایسا ادارہ قائم کر ے جو ان محترم اصحاب کی نفسیاتی اُلجھنوں پر نظر رکھے۔ بدقسمتی سے فیصلہ سازی میں عدلیہ کی آزادی کو مطلقاً آزادی کے مماثل سمجھ لیا جاتا ہے۔ آنے والی پارلیمان عدالتی تقرری کے لئے اس حوالے سے مطلوبہ قانون سازی کرے تو یہ وقت کی عین ضرورت ہے تاکہ یہ معزز اصحاب ٹی وی کیمروں اور صحافیوں سے دور رہ کر پروفیسر ہگز کی طرح اپنے عدالتی میدان میں نام پیدا کریں نہ کہ فلمی کردار بن کر رہ جائیں۔ امید ہے سیاسی جماعتیں اس سوچ کو اپنے انتخابی منشور میں جگہ دیں گی اور یہ بھی امید ہے کہ آنے والی پارلیمان اس فکر کو توجہ کا حامل سمجھے گی۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...