عوام جمہوریت کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتے ہیں!

عوام جمہوریت کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتے ہیں!
عوام جمہوریت کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتے ہیں!

کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی، جس میں ایک ایم پی اے کو پھینٹی لگ رہی تھی، بتایا یہ گیا تھا کہ موصوف پانچ برس بعد حلقے میں آئے تھے، کچھ روز پہلے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک بھی جب اپنے آبائی حلقے میں گئے تھے تو اسی قسم کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا، سو جناب حالات تو کچھ اسی طرف کو جاتے نظر آتے ہیں۔ مَیں تو اِس بات کے حق میں ہوں کہ عوام کو اپنے نمائندوں کا احتساب کرنا چاہئے، تاہم مار پیٹ مناسب نہیں، احتجاج کا سب سے اچھاطریقہ تو یہ ہے کہ انتخابات میں ایسے لوگوں کو مسترد کر دیا جائے۔ مَیں تو یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ ایک ہی شخص ایک ہی حلقے سے دو یا تین بار کیسے منتخب ہو جاتا ہے۔ کیا تو اُس نے کچھ نہیں ہوتا،پھر عوام کیوں اُسے بار بار ووٹ دیتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ عوام کو اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا نظر ہی نہیںآتا، اِس لئے اُسے اندھوں میں کانا راجہ سمجھ کے منتخب کر لیتے ہیں،لیکن اِس بار حالات کچھ بدلے نظر آتے ہیں، عوام کا پارہ خاصا گرم ہے، پانچ سال جس کشمکش میں گزرے ہیں، اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عوام اب کڑا فیصلہ کریں،حلقے میں پانچ سال بعد مسکین صورت بنا کر آنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کریں، جس کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔یہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ والی کہانی تبھی کامیاب ہو گی، جب پہلے ووٹر کو عزت دی جائے گی، ووٹر رلتا رہے، مرتا رہے، دو وقت کی روٹی کو ترستا رہے، ظلم سہتا رہے اور آپ ووٹ کو عزت دو کی ڈفلی بجاتے رہیں، ایسا ڈرامہ نہیں چل سکتا۔

ستر برس سے زائد گذر گئے ہیں اب تو عوام کو بھی کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، شہروں میں تو شعور کی لہر کچھ زیادہ ہی نظر آ رہی ہے، مگر یہ جو ہماری ستر فیصد دیہی آبادی ہے یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی مکھی پر مکھی مارتی ہے، ظلم سہتی ہے، اپنی بیٹیوں کی عصمتوں پر وار کرنے والوں کو دیکھتی ہے، وڈیروں کی غلامی اختیار کرتی ہے، پھر روتی بھی ہے، فریاد بھی کرتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ان کے پاس وہاں زیادہ چوائس بھی نہیں ہوتی،دونوں طرف وڈیرے ہوتے ہیں،لیکن وہ اتنا تو کر سکتی ہے جس وڈیرے کو پہلے منتخب کیا تھا، دوبارہ اُسے ووٹ نہ دے، کم از کم یہ احساس تو پیدا ہو کہ عوام ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ سندھ ہو یا پنجاب، بلوچستان ہو یا خیبرپختونخوا خاندانوں کی سیاست پر اجارہ داری نظر آئے گی، خاص طور پر اندرون سندھ تو ایک نظامِ جبر ہے، جس نے کئی دہائیوں سے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ان پانچ برسوں میں اندرونِ سندھ کے منتخب وڈیروں یا اُن کے حواریوں نے کیسے کیسے ظلم نہیں کئے۔پولیس بے بس رہی تو سپریم کورٹ نے بعض کے نوٹسز لے کر داد رسی کی، مگر یہ داد رسی بھی عارضی ہوتی ہے،کیونکہ پولیس تو وڈیروں کی غلامی کرتی ہے، وہ انہیں بچا لیتی ہے اور مظلوموں کو دباؤ ڈال کے چپ کرا دیتی ہے، لیکن ایک وقت تو ان غریبوں اور ہاریوں کے پاس آتا ہے،جب وہ اپنے اختیار کا استعمال کر کے ایسے ظالم وڈیروں کو اپنے ووٹ کی طاقت سے نشانِ عبرت بنا سکتے ہیں۔

اُن کے غرور کو خاک میں ملا کر یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ جمہوریت غریب کو بھی اختیار دیتی ہے۔ مظلومیت کا رونا رونے والوں کو بھی تو کچھ کرنا ہے یا وہ کسی غیبی امداد کے منتظر رہیں گے؟ عوام ایک بار تو اُسے لازمی مسترد کر دیں جو اُن کا نمائدہ رہا اور اُن کے لئے کچھ نہ کیا، یا پھر پولیس سے مل کر زمینوں پر قبضے کراتا رہا، غریبوں پر ظلم ڈھاتا رہا۔ کم از کم یہ بات تو نہ کہی جائے کہ عوام دولے شاہ کے چوہے ہیں،جو ظلم اور نا انصافی کے باوجود اسی آدمی کو ووٹ دیتے ہیں،جو ان کی زندگی کو اجیرن کرنے کا سب سے بڑا کردار ہو۔ تبدیلی بہت ضروری ہوتی ہے۔ پانی بھی ایک جگہ کھڑا رہے تو گدلا ہو جاتا ہے ایک ہی شخص کے بار بار انتخاب سے جمہوریت بھی گدے پانی کی طرح ہو جاتی ہے۔

یہ عوام کے اسی روّیے کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹ ایبل کی اصطلاح رائج ہو چکی ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ہر حلقے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر صورت میں منتخب ہو جاتے ہیں، چاہے انہوں نے اپنے حلقے میں ایک دھیلے کا کام نہ کرایا ہو۔ تحریک انصاف میں آج کل ایسے ہی لوگ بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں عوام نے ہر صورت میں ووٹ دینا ہے، چاہے وہ کسی بھی جماعت کی طرف سے کھڑے ہوں۔یہ تو ایک طرح سے جمہوریت کا جمود ہے،اس جمود کو عوام ہی توڑ سکتے ہیں، یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اوپر لیڈر چاہے کوئی بھی ہو، جب تک حلقے کا نمائندہ عوام کی حالت نہیں بدلنا چاہتا، وہ نہیں بدلے گی، کیونکہ اس نے حکومت سے مراعات مانگنی ہوتی ہیں،فنڈز لینے ہوتے ہیں،سکیمیں منظور کرانی ہوتی ہیں۔وہ اگر صرف اپنے ذاتی مفادات کے کام کراتا ہے،حلقے کے مسائل پر توجہ نہیں دیتا تو حکومت بھی نہیں دے گی۔

وہ اگر نہیں چاہتا کہ پولیس کا نظام درست ہو تو وہ نہیں ہو سکتا، علاقے کے پولیس افسروں نے اس کی بات ماننی ہے، کیونکہ وہ ان کے قریب بیٹھا ہے۔ وزیراعلیٰ یا وزیراعظم تک تو بات بعد میں جائے گی پہلے تو ان کے خلاف آواز ایم این اے یا ایم پی اے نے ہی اٹھانی ہے،اِس لئے وہ اس سے بنا کر رکھتے ہیں۔۔۔ کیا آئے روز ہم یہ خبریں نہیں سنتے کہ کسی علاقے میں ظلم ہوا تو اس کے ملزموں کی پشت پناہی ایم این اے یا ایم پی اے نے کی اور پولیس کو بے بس کر دیا ۔سو اپنے نمائندے کا انتخاب کرتے ہوئے عوام کو پارٹی سیاست سے بالا تر ہو کر امیدوار کے کردار کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ آئین کی شقوں 63-62 کا اصل نفاذ تو عوام کو کرنا چاہئے،وہ زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ کون کیا ہے اور اس کا چال چلن کیسا ہے؟ ایک بار عوام پارٹی وابستگی سے بالا تر ہو کر نمائندے کے شخصی کردار کی بنیاد پر ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیں گے تو آئندہ سیاسی جماعتیں ایسے لوگوں کو ٹکٹ دینے سے اجتناب کریں گی،جو بھلے مالدار ہو، اثر و رسوخ رکھتاہو، مگر اس کی ذاتی شہرت ایک با کردار انسان کی نہ ہو۔

سیاسی جماعتیں ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ بالا بال کرلیتی ہیں۔ ان کے نزدیک امیدوار کی اہلیت کا معیار کچھ اور ہوتا ہے۔ وہ اس کی مالی حیثیت دیکھتی ہیں، سیاسی تجربہ پیش نظر رکھتی ہیں، پارٹی کے اندر لابی کی مانتی ہیں، لیکن کبھی یہ سروے نہیں کراتیں کہ اس کی عوام کی نظر میں کیا وقعت ہے، اس کے بارے میں عوام کیا سوچتے ہیں، اسے کس سطح پر رکھتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ وہی پرانے چہرے، وہی سیاست کو مفاد کا ذریعہ سمجھنے والے شعبدہ باز اور وہی آمرانہ سوچ رکھنے والے افراد جو ہر قیمت پر علاقے کے عوام کو دبا کے رکھنے کا ہنر جانتے ہیں، ٹکٹیں لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس بار تو معاملہ کچھ اور ہی ہوتا جا رہا ہے۔یوں لگتا ہے 2018ء کے انتخابات الیکٹ ایبل افراد کے ہاتھوں یرغمال بننے جا رہے ہیں۔کوئی سیاسی جماعت بھی نئے لوگوں کو متعارف کرانے کا رسک لینے کو تیار نہیں۔ایک تحریک انصاف تھی، جس کے بارے میں یہ خوش گمانی تھی کہ وہ نئے لوگوں کو سامنے لائے گی، مگر اس میں جس تیزی سے آزمودہ کار لوگ شامل ہو رہے ہیں، اُس کی وجہ سے یہ امکان بھی ختم ہو گیا ہے، سو ایک لحاظ سے عوام کے حقِ انتخاب کو مزید محدود کر دیا گیا ہے، یعنی صاف نظر آ رہا ہے کہ اشرافیہ کے پنجے تارعنکبوت کی طرح ہیں، جن سے نکلنے کی کوئی صورت بھی کارگر نہیں ہوتی۔ تاہم اس کے باوجود عوام کو بہتر سے بہترین کی خواہش کو اپنے دِل میں زندہ رکھنا چاہئے، جس نے ووٹ لے کر کام نہیں کیا، اس کے استرداد کا انہیں پورا حق ہے۔ قطع نظر کہ وہ کس جماعت میں ہے۔ ایک بار تو اُسے ووٹ کی طاقت کا احساس دِلانا ضروری ہے تاکہ منتخب ہونے والوں کو یہ سبق نہ بھولے کہ عوام کو نظر انداز کرنے والے عوام کی نظروں سے گر جاتے ہیں۔

بہت پرانی کہاوت ہے کہ جمہوریت وہ مردہ گھوڑا ہے،جس میں عوام جان ڈالتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکا کہ جمہوریت پہلے ہے یا عوام پہلے۔یہاں ہمیشہ ’’جمہوریت خطرے میں ہے‘‘ کا بیانیہ اختیار کیا گیا، کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ عوام خطرے میں ہیں۔ جمہوریت کو بچانے کے لئے عوام کو آواز دی جاتی ہے، انہیں ساتھ ملایا جاتا ہے۔انہیں سڑکوں پر لا کر احتجاج کی دھمکی دی جاتی ہے،لیکن جمہوریت کو کوئی خطرہ نہ ہو تو عوام کو بھی ایسے بھلا دیا جاتا ہے، جیسے اُن کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ ہماری اس دہائی کا سبب بھی یہی ہے کہ ملک میں جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جاتا، پارلیمینٹ مضبوط نہیں ہوتی،اسٹیبلشمنٹ ہمارے اختیار استعمال کرتی ہے، جس جمہوریت میں عوام کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو، وہ مضبوط کیسے ہو سکتی ہے، جس جمہوریت میں عوام صرف اُس وقت یاد آتے ہوں جب اُن کے ووٹ کی ضرورت ہو،اُس جمہوریت میں عوام کیسے جان ڈال سکتے ہیں۔

عوام اس بار بھی جولائی کی شدید گرمی میں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ اس امید پر کہ کم از کم اس بار تو اُن کے حالات ضرور بدلیں گے۔ انہیں ضرور ایک اچھا اور خوشحال پاکستان ملے گا۔ اُن کے مسائل ختم ہوں گے اور انہیں عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گذارنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟اس کے بعد تو انہیں ہی کچھ کرنا ہوتا ہے،جو عوام کے ووٹ کی پرچی سے اعلیٰ مناصب تک پہنچتے ہیں،اگر وہ کچھ نہیں کرتے اور پھر بھی جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں تو عوام سوائے اگلے انتخابات تک ٹھنڈی آہیں بھرنے کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...