عسکریات اور سیاسیات

عسکریات اور سیاسیات
عسکریات اور سیاسیات

انڈیا اور پاکستان چونکہ اکٹھے آزاد ہوئے اس لئے ان کی سیاسیات اور عسکریات بھی ایک ہی انگریز ماں کے بطن کی پیداوار ہیں۔ میں، زندگی گزارنے کے دوسرے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف ان دو تقاضوں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں جو نسلِِ انسانی کے ہر دور میں ایک بڑی اور قابلِ لحاظ (Considerable) اساسی اہلیت کے حامل رہے ہیں۔۔۔ میری مراد دفاع اور اقتصادیات سے ہے۔ انہی کو اگر دوسرے الفاظ میں بیان کرنا ہو تو سیاسیات اور عسکریات بھی کہا جا سکتا ہے۔اگست 1947ء میں آزادی کے بعد برصغیر کی ہندو اور مسلم اقوام کو جب ورثے میں یہ دونوں اثاثے ملے تو ہندو ان دونوں میں اکثریت اور مسلمان اقلیت کے حامل تھے۔ یعنی جو تناسب ان کی افرادی تعداد میں تھا وہی ان اثاثوں کے حجم اور تعداد میں بھی تھا۔ مسلمان سیاست کو زیادہ نہیں جانتا کہ اس کی گزشتہ ساڑھے چودہ سو برس سے زائد قومی زندگی ان سیاسی داؤ پیچ اور ہتھکنڈوں سے کم کم متعارف رہی جو چانکیہ کے پیروکار ہندوؤں کے مقابلے میں کمزور تھی۔ مسلمان اپنی قوتِ بازو کے طفیل، حریفوں کے سیاسی حربوں پر فتح یاب ہوتا رہا اور اسی نسخے کو کامیاب حکمرانی کا راز جان لیا۔ لیکن مغرب کی استعماری قوتوں نے سیاست اور عسکری قوت کے امتزاج سے ایک ایسا نیا سسٹم تشکیل دیا جس نے دوسرے تمام مروجہ نظاموں (Systems) کو شکست دے دی۔ 18ویں صدی کے آغاز سے لے کر 20ویں صدی کے وسط تک سفید فام اقوام کی حکمرانی چاردانگ عالم میں پھیلی رہی لیکن ان 250 برسوں میں بھی ان افرنگی اقوام نے عسکریات ہی کو آگے آگے رکھا اور سیاسیات کو اس کی پشت پناہ بنایا۔ اس طویل عالمی حکمرانی کے دور کا خاتمہ اس وقت ہوا جب ہٹلر نے اسی دفاع اور سیاست کے ڈاکٹرین کو بارِ دگر زندہ کر دیا جو ماضی کے طویل عسکری دور میں زنگ آلود ہو کر ناکارہ ہو چکا تھا۔

20ویں صدی کی دونوں عالمی جنگوں کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جرمن قوم نے اس راز کو پا لیا تھا جو مسلم امہ ایک عرصے سے بھلا بیٹھی تھی۔ دور نبویﷺ کے آخری دس برس ایسے تھے جن میں زندگی کے باقی تمام شعبے پیچھے رہ گئے اور صرف ایک شعبہ (عسکریات) آگے آگے رہا۔۔۔ غزوۂ بدر سے غزوہ تبوک تک رسولِ ؐ عربی نے جو سبق مسلم قوم کو دیا اس کے مسلسل استعمال ہی نے مسلمانوں کو چاردانگ عالم کی حکمرانی سے نوازا۔ لیکن آخر میں وہی بات ہوئی جس کا سامنا سفید فام اقوام کو 20ویں صدی کے آغاز میں ہوا۔ جرمنی نے عسکریات کو اولیت دی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس سپرپاور (برطانیہ) کی برتری خاک میں ملا دی جو فوجی قوت اور سیاسی حیلہ سازیوں کامرکب بن چکی تھی۔ جہاں تک تنہا فوجی قوت کی برتری کا سوال ہے تو وہ برتری تومنگولوں میں بھی تھی۔ ایک قلیل عرصے میں چنگیز خان اور ہلاکو نے پوری عالمی بساط کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ لیکن منگول چونکہ سیاست سے نابلد تھے اس لئے زیادہ دور تک نہ جا سکے۔ اور ان کو اسلام کی اس مین سٹریم میں شامل ہونا پڑا جس کی طرف حضرت اقبال نے اشارہ کیا تھا کہ: ’’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘‘۔۔۔

روز ازل سے آج تک بساطِ عالم کئی بار تبدیل ہوئی۔۔۔ اسلامی دور سے پہلے چینی، ہندوستانی، مصری، ایرانی اور رومن ادوار کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ 572ء میں آنحضورؐ کی ولادت کے بعد اسلام نے سینکڑوں برس تک فوجی اور سیاسی قوتوں کو ملا کر استعمال کیا اور اس طرح دورِ خلافتِ راشدہ کے تسلسل کو برقرار رکھا۔ لیکن جب مسلمانوں نے اپنی ترجیحات تبدیل کر دیں اور ان دونوں قوتوں (عسکریات اور سیاسیات) سے صرفِ نظر کرنا شروع کر دیا تو دوسری اقوام نے ان سے تاجِ شاہی چھین کر اپنے سر پر سجا لیا۔

دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ایک واٹرشیڈ یعنی خطِ تقسیم تھا جس نے بساطِ عالم کو ایک بار پھر تبدیل کر دیا۔ اب جرمنی کے ہٹلر کی جگہ امریکی ہٹلروں نے لے لی جو اپنے آپ کو جمہوریت کے چیمپئن سمجھنے لگے۔ امریکہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ اس کے حکمرانوں نے ہمیشہ جمہوریت کے پردے میں آمریت کی بدترین مثالیں پیش کیں۔ ان کی 500سالہ تاریخ میں صرف گزشتہ ایک ڈیڑھ سو برس کی تاریخ کا مطالعہ ہی کر لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انہوں نے ایک نیا دین، ایک نیا مذہب ایجاد کیا جو روائتی اور آسمانی ادیان و مذاہب سے بالکل جداگانہ تھا۔ ایسا کرنا کوئی آسان کام نہیں کہ ایک عالم کو اپنی مساوات پرستی کا گرویدہ بنا لیا جائے اور دوسرے عالم کو پرلے درجے کی امتیاز پرستی کا شکار کر دیا جائے۔

میں یہاں کچھ دیر کے لئے آپ کو روک کر ایک گزارش کروں گا کہ میری مندرجہ بالا سطور شاید آپ کو انمل بے جوڑ معلوم ہوں یا ایسا لگے کہ ان میں کوئی زیادہ ربط نہیں۔ لیکن خدا مجھے خودستائی سے بچائے، میری یہ سطور اس وقت تک، کسی قاری کے ذہن میں پوری تفصیل سے نہیں اتر سکتیں جب تک اس کو نہ صرف اقوامِ عالم بلکہ ادیانِ عالم کی اجمالی تاریخ کا علم نہ ہو۔ اور اس کے علاوہ گزشتہ تقریباً دو ہزار برسوں کی عالمی عسکری تاریخ سے شناسائی نہ ہو!

ملٹری ہسٹری کسی بھی قوم یا ملک کا وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے اس کے عروج و زوال کو ماپا جا سکتا ہے۔ کئی معاشرے ایسے بھی ہیں جن کو سینکڑوں برس تک کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی جگہ پر چکر کاٹتے کاٹتے نجانے کتنی مدت گزر گئی۔ جنوبی امریکہ (لاطینی امریکہ) کی مثال لے لیجئے۔ اس کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی شمالی اور وسطی امریکہ کی ہے۔ لیکن یہ جان کر آپ کو شاید حیرانی ہو کہ براعظم جنوبی امریکہ کے کسی بھی ملک کے سیاسی، عسکری یا معاشرتی و معاشی نشیب و فراز کا دنیا کو کچھ اتہ پتہ نہیں۔

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اس براعظم کی کسی بڑی اور معروف شخصیت کا نام لیں یا کسی ایسی جنگ کا ذکر کریں جو دنیا کی ملٹری ہسٹری میں کسی اہمیت کی حامل ہوتو آپ کو ذہن پر بہت زیادہ زور دینا پڑے گا اور تب جاکر شاید فاک لینڈ کی جنگ یاد آئے جس کے باشندے جنوبی امریکہ کی مین سٹریم سوسائٹی سے کٹے ہوئے ہیں اور جن کے آباؤ اجداد کا تعلق یورپ سے ہے، لاطینی امریکہ سے نہیں۔ برازیل اس براعظم کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کی فوجی قوت بھی بعض حوالوں سے قابل ذکر ہے۔ کہتے ہیں ایک زمانے میں اس نے جوہری اہلیت کا روبی کان بھی عبور کر لیا تھا لیکن چونکہ اس نے آج تک کسی عالمی جنگ میں حصہ نہ لیا اور نہ ہی اپنے براعظم میں کسی ہمسایہ ملک سے جنگ و جدل کا وہ معیار دیکھا اور برتا کہ جو ایشیا اور یورپ بلکہ افریقہ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس لئے اس کی زیادہ سے زیادہ شہرت فٹ بال کے چند کھلاڑیوں وغیرہ کے ناموں سے ہوتو ہو، کسی اور حوالے سے نہیں۔

جنوبی امریکہ کے مقابلے میں شمالی امریکہ کو دیکھ لیں۔ وہ بھی جنوبی امریکہ کی طرح باقی دنیا سے بہت کم عمر ہے۔ لیکن اس نے اپنی گزشتہ 500سالہ تاریخ میں نجانے کتنے موجد، مورخ، جرنیل، سیاستدان، سائنس دان اور ایسے ایسے مشاہیر پیدا کئے جن سے ساری دنیا واقف ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ نے اپنی کم سنی کے باوجود باقی کرۂ ارض کے ارضی خطوں کی کِبر سنی کو مات دے دی ہے۔ اس کے شمال میں کینیڈا کو دیکھیں جس کی غالب آبادی بھی شمالی امریکہ کی آبادی کی خوبیوں اور رنگ و نسل کے مماثل ہے۔ ان کی زبان بھی وہی ہے جو شمالی امریکہ کی ہے۔ (جنوبی امریکہ کو اپنی زبان کی پس ماندگی کا مسئلہ بھی درپیش ہے اور یہ ایک الگ موضوع ہے)۔

میں آپ کی توجہ آسٹریلیا کی طرف بھی دلانا چاہوں گا۔ اس کی عمر بھی کچھ زیادہ نہیں۔ اسے 1606ء میں اول اول پرتگیزیوں نے دریافت کیا۔ لیکن اس کی تاریخ جنوبی امریکہ کی تاریخ سے کہیں زیادہ نمایاں اور ورسٹائل ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے گزشتہ دونوں عالمی جنگوں میں اتحادیوں کا ساتھ دیا۔ اپنی تینوں افواج کی جدید خطوط پر تشکیل و تنظیم کی اور نہ صرف یہ بلکہ ان کو باقاعدہ جنگ و جدل کی بھٹیوں میں بھی جھونکا۔۔۔کسی نے خوب کہا ہے:

نامی کوئی بغیرِ مشقت نہیں ہوا

سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

پاکستان اور انڈیا کی عمریں تو ایک ہیں لیکن اب تک انڈیا نے جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں ان میں اس نے کبھی پہل نہیں کی۔ 1947-48ء،1965ء، 1971ء اور 1999ء کی جنگوں میں پاکستان ہی نے پہل کی۔ اس میں شک نہیں کہ ان جنگوں میں پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا اور اس کا ایک بازو بھی کٹ کر ایک نیا ملک بن گیا لیکن اس بات کا فیصلہ آنے والا مورخ ہی کرسکے گا کہ 1971ء کی شکست (اور باقی تین جنگوں) نے پاکستان کو کمزور کیا یا اس کو ایک نئی توانائی دے کر اسے جدید جوہری اور میزائلی اہلیتوں سے شناسائی عطا کی۔ اگر آج بھی دیکھا جائے تو پاکستان ہر طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے دشمن اس کی بقاء کے بارے میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں پھیلا رہے ہیں۔ لیکن اس نے عسکریات اور سیاسیات کی اپنی ترجیحات تبدیل نہیں کیں۔ اس کو نہ صرف بیرونی خطرات کا سامنا ہے بلکہ اندرونی خدشات اور وساوس کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو بادی النظر میں پاکستان کے استحکام کو متزلزل کررہا ہے۔ لیکن مجھے 100فیصد یقین ہے کہ انشا اللہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور اندیشوں کی سیاہ رات ختم ہونے والی ہے۔

پاکستان کی عسکری کیفیت وقوت ہی وہ لیکٹومیٹر ہے جو اس بات کا پتہ دے رہا ہے کہ اس دودھ میں بتدریج پانی کی مقدار کم ہوتی جارہی ہے اور خالص دودھ کا گاڑھا پن صاف نظر آرہا ہے۔ اسی عسکریات کے خالص دودھ سے انشا اللہ سیاسیات کی بالائی بھی بنے گی، مکھن بھی اوپر آئے گا اور پنیر کی پرتوں کا بندوبست بھی ہو جائے گا!۔۔۔ہم کو تھوڑا سا اور صبر کرنے کی ضرورت ہے!

ہمارے سکولوں اور کالجوں میں حدیثِ دفاع کا کوئی باب کسی بھی نصابی کتاب میں نہیں پڑھایا جاتا اور نہ ہی مدرسوں اور خانقاہوں میں کسی دورۂ حدیث میں سریات اور غزوات کا کوئی درس شامل ہے۔ جسم قسم کی سیاست ان مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہے اس کا اظہار پچھلے دنوں مینارِ پاکستان کے وسیع و عریض پنڈال میں فروکش مسجدوں کے وہ ہزاروں طلباء تھے جن کے سرپر مخصوص ’’رنگ و آہنگ‘‘ کی ٹوپیاں پہنی ہوئی تھیں اور روسٹرم پر امیر جماعتِ اسلامی مولانا سراج الحق صاحب تقریر فرما رہے تھے کہ : ’’ہمیں نیا پاکستان نہیں، اسلامی پاکستان چاہئے‘‘۔

ان کے سامعین و حاضرین ان کی طرف بِٹ بِٹ تک رہے تھے کہ اسلامی پاکستان سے ان کی کیا مراد ہے کیونکہ سارے پاکستان میں پنج وقتہ نمازوں میں تو نمازیوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے ہیں۔۔۔۔ کاش مولانا اپنی پارٹی کے منشور میں وہ حدیثِ دفاع بھی موضوع بحث بناتے جس کی طرف حضرتِ اقبال نے برسوں پہلے اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ مسلم قوم کے نونہالوں کے بحر کی موجوں میں کوئی اضطراب نہیں پایا جاتا! یہ اضطراب آج بھی نہ سکولوں اور کالجوں میں دیکھنے کو ملتا ہے اور نہ ہی کسی مدرسے یا مسجد میں۔۔۔ کسی مینارِ پاکستان کے سائے میں عمران خان یا مولانا سراج الحق کی کال پر لوگوں کا انبوہ درانبوہ اکٹھا ہوجانا نئے پاکستان یا اسلامی پاکستان کا مقصودِ نظر نہیں ہونا چاہئے بلکہ مقصدِ اولیٰ یہ ہونا چاہئے کہ پاکستان کو کیسے مضبوط و مستحکم بنایا جائے۔۔۔ کسی جلسے میں 50ہزار کرسیوں لگا کر یہ تصور کر لینا کہ پاکستان مضبوط ہو گیا ہے، ایک حد درجہ خطرناک غلط فہمی ہے، اس سے بچنا چاہیے:

عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں

عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...