فیروز پور روڈ ، فرنیچر مارکیٹ میں آتشزدگی ، ایک درجن دکانیں لپیٹ میں آگئیں

فیروز پور روڈ ، فرنیچر مارکیٹ میں آتشزدگی ، ایک درجن دکانیں لپیٹ میں آگئیں

لاہور(خبرنگار) فیروز پور روڈ پر واقع فرنیچر مارکیٹ میں گزشتہ صبح سویرے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے، آگ اس حد تک تیز تھی کہ ایک درجن سے زائد دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تاجر آگ لگنے کا سنتے ہی مارکیٹ پہنچ گئے اور وہاں دھاڑیں مار مار کر روتے رہے، تاہم آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ فیروز پور روڈ پر واقع فرنیچر مارکیٹ کی ایک دکان میں گزشتہ صبح سویرے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ آگ نے ساری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اوردیکھتے ہی دیکھتے تمام دکانوں تک پھیل گئی اورآگ کے شعلے آسمان کو چھونے لگے۔اطلاع ملنے پر ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ اتوار کے روز گھروں میں بیٹھے تاجر مارکیٹ میں لگی آگ کا سنتے ہی موقع پر پہنچ گئے اور دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ اتوارکی چھٹی کے روز فرنیچر مارکیٹ میں پرُاسرار آگ کسی شخص نے لگائی یا شارٹ سرکٹ سے لگی ،فی الحال اس کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ اس موقع پر تاجروں کا کہنا تھا کہ چارسال قبل بھی ان کی مارکیٹ میں اتوار کے روز ہی صبح سویرے آگ لگا دی گئی تھی اور آتشزدگی سے کروڑوں روپے کا سامان جل کر راکھ ہو گیا تھا ۔اس مرتبہ بھی اتوار کے روز مارکیٹ میں آگ لگائی گئی ہے اور ایک کروڑ سے زائد مالیت کا دکانوں میں پڑا فرنیچر جل گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقعہ سے قبل دو لڑکے رات بھر ایک دکان میں فرنیچر تیار کرتے رہے اور صبح سویرے ایک دکان میں آگ بھڑک اٹھی جس نے پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک درجن سے زائد دکانیں آگ کی لپیٹ میں آئی ہی اور ایک کروڑ سے زائد مالیت کا سامان خاکستر ہوگیا ہے،تاہم آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا کسی نے لگائی اس بات کا تعین کرنے کے لئے تمام پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے جس میں ریسکیو ٹیموں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ فرنیچر مارکیٹ میں آگ پر قابو پانے کے لئے 10 سے زائد گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا اور مسلسل آٹھ گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا گیاہے۔ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا فرنیچر مارکیٹ میں دکان میں کام کرنے والے لڑکوں کی مبینہ غفلت سے لگی یا پھر کسی شخص نے دانستہ لگائی، اس بارے کوئی بات سامنے نہیں آ سکی جبکہ مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ان کی مارکیٹ میں آگ لگائی گئی ہے۔ چار سال قبل بھی نامعلوم افراد نے ان کی مارکیٹ کو آگ لگا دی تھی اور اب بھی نامعلوم افراد نے اتوار کے روز ہی آگ لگا ئی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ایک سازش کے تحت ان کی دکانوں کو آگ لگائی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو نوٹس لے کر معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے پولیس حکام کی ٹیم تشکیل دینی چاہئے۔

مزید : علاقائی