صوبائی داراحکومت میں منی بسنت ، دن بھر بو کا ٹا کے نعرے لگتے رہے ، پولیس کسی پتنگ باز کو نہ پکڑ سکی

صوبائی داراحکومت میں منی بسنت ، دن بھر بو کا ٹا کے نعرے لگتے رہے ، پولیس کسی ...

لاہور(خبرنگار) صوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازوں نے گزشتہ روز منی بسنت منائی۔ گھروں کی چھتوں، پلازوں اور مارکیٹوں پر دن بھر بو کاٹا کے نعرے لگتے رہے۔ پولیس اور پتنگ بازوں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ پولیس کسی ایک بھی پتنگ باز کو رنگے ہاتھوں گرفتار نہ کر سکی ۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں پتنگ سازی او پتنگ بازی کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔ شہر کے گردونواح اور پوش علاقوں میں اندر کھاتے پتنگ سازی کا سامان تیار ہونے کے باعث پتنگ بازی جیسے خطرناک کھیل نے بھی تیزی پکڑ رکھی ہے اور اس میں بالخصوص اتوار کے روز مزید تیزی آ جاتی ہے ، گزشتہ روز بھی شہر میں منی بسنت بنائی گئی۔ صبح سویرے ہی پتنگ باز رنگا رنگ اور مختلف سائز کی پتنگیں اور گڈے لے کر گھروں کی چھتوں اور پلازوں سمیت مارکیٹوں پر چڑھ گئے اور دن بھر کھلے عام پتنگ بازی کرتے رہے۔ پتنگ باز دل کھول کر دن بھر ’’بوکاٹا‘‘ کے نعرے لگاتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا رہا اور شہری ایمرجنسی 15 اور تھانوں سمیت ایس ایچ اوز کے ٹیلی فون نمبروں پر کالیں کرتے رہے لیکن 15 اور ایس ایچ اوز کے نمبرمصروف ہونے کے باعث متعدد علاقوں کے شہریوں کا پولیس سے رابطہ نہ ہو سکا ۔ غازی آباد، ہربنس پورہ، گجر پورہ، مصطفےٰ آباد، گلشن راوی، ساندہ، سمن آباد، گڑھی شاہو، کوٹ لکھپت، فیکٹری ایریا ،راوی روڈ اور نشتر کالونی کے علاقوں میں سب سے زیادہ پتنگ بازی کی گئی جس کے خلاف شہری دن بھر سراپا احتجاج بنے رہے۔ شہریوں کاکہنا ہے کہ پتنگ سازی اور پتنگ بازی دونوں پر پابندی ہے اس کے باوجود آسمان پر رنگا رنگ اور مختلف سائز کی پتنگیں اور گڈے نظر آتے رہتے ہیں اور بڑی چرخیوں کے ساتھ موٹے دھاگے کی ڈور سے خونی کھیل جاری ہے جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو نوٹس لینا چاہیے اور پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے والے خفیہ ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی جیسے جان لیوا کھیل کے خلاف مکمل طور پر کارروائی کرنی چاہئے۔

مزید : علاقائی