جعلی نکاح نامے تیار ، ریکارٖ میں ردوبدل کرنے والا مافیا تا حال سیٹوں پر براجمان

جعلی نکاح نامے تیار ، ریکارٖ میں ردوبدل کرنے والا مافیا تا حال سیٹوں پر ...

لاہور (اپنے نمائندے سے)جعلی نکاح نامے ٹیمپرنگ سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کرنے والا مافیا تمام محکمانہ انکوائریوں میں گناہگار ثابت ہونے کے باوجود اپنی اپنی سیٹوں پر ابھی تک براجما ن ہے، لاہور محکمہ لوکل گورنمنٹ کے تین اعلی افسران محمد اقبال، طارق طاہر مجید اور رانا عثمان نے اپنی اپنی انکوائریوں میں یونین کونسل سیکرٹریز عمران بٹ ، غلام ساجد اور نکاح خواں حافظ امیر خان کو ملزم قرار دیااور پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا حکم دیا۔مگر ابھی تک یہ لوگ قانون کی گرفت سے آزاد ہیں اہور :محکمہ لوکل گورنمنٹ بھی ان بااثر مافیا کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے ۔درخواست گزار کے مطابق پہلی انکوائری اسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمداقبال نے کی جس میں واضع طور پر سیکرٹری عمران بٹ سیکرٹری غلام ساجد اور نکاح خواں حافظ امیر خان کے ساتھ دیگر افراد کو جعلسازی ، ٹمپرنگ اور سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کرنے پر انکے خلاف قانونی کاروائی اور محکمہ کے ملوث افراد کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی سفارش کی۔ دوسری بار انکوائری افسر طاہر طارق مجید کو مقرر کیا گیا۔ جنہوں نے پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں بھی اس مافیا کو بے نقاب کیا اور پیڈا ایکٹ کے مطابق کاروائی کا حکم دیا۔مگر اس مافیا نے اپنے پنجے اس قدر مضبوط کیے ہوئے ہیں کہ اس پر ہاتھ ڈالنے والے ہر سرکاری آفسر کو دھمکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی افسر ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔جعلی نکاح نامے تیار کر کے بچوں کو بیرونِ ملک سمگل کرنے والے اس ٹولے نے دو شفاف انکوائریوں کے بعد کیس کو لمبا اور انکوائری کو تبدیل کروانے کے لیے لوکل گورنمنٹ کے اعلی افسران کو سفارشیں کروانا شروع کر دیں جس پر ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ رانا نسیم نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تیسری بار انکوائری کروائی جو اسٹنٹ ڈائریکٹر رانا عثمان کو دے دی گئی جس پر مدعی نے سیکرٹری L G ناصر راجہ صاحب کو اس زیادتی کا بتایااور انصاف کی درخواست کی۔ ناصر راجہ صاحب نے تمام پروف دیکھنے کے بعد جب ڈائریکٹر رانا نسیم سے اصل کہانی بتانے پر تھوڑا اصرار کیا تو رانا نسیم نے یہ بول کر اپنی غلطی کا اعتراف کیا کہ مجھے اْن پر ترس آگیا تھا۔ جس پر دوبارہ انکوائری کے حکم کو قائم رکھتے ہو? رانا عثمان ADLG کو دوبارہ شفاف انکوائری کی زمہ داری سونپی گء۔ تقریبا" 3 ماہ کے بعد PEEDA ACT2006 کے تحت کی گء انکوائری میں بھی سیکٹری عمران بٹ ، سیکٹری غلام ساجد،نکاح خواں حافظ امیر خان ، اور دیگر افراد ٹمپرنگ ، جعلسازی ، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور جعلی نکاح نامہ کی مدد سے لڑکی کا نادرہ سے شناختی کارڈ بنوانے پر گناہ گار ثابت ہو۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ ابھی تک ان سرکاری ملازمین پر کوء سرکاری ایکشن نہیں لیا گیا اور یہ لوگ کسی خاص طاقت کی پشت پناہی پر ابھی تک اپنی مجرمانہ سرگرمیوں میں بڑی دیدہ دلیری سے مصروفِ عمل ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...