رائیونڈ روڈ کیس میں طلبی ، نواز شریف کا پیش ہونے سے انکار ، ایک اور ریفرنس تیار

رائیونڈ روڈ کیس میں طلبی ، نواز شریف کا پیش ہونے سے انکار ، ایک اور ریفرنس ...

لاہور (خبر نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک ) نیب لاہور نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کیخلاف اپنی رہائش گاہ تک سڑ ک کی تعمیر کے کام میں مداخلت کا الزام تھا جس سے تعمیراتی کام کی لاگت میں اضافہ ہوگیا تھا۔نیب کی جانب سے سڑک کو غیر قانونی طور پر چوڑا کرنے کے حوالے سے جواب طلبی کیلئے نواز شریف کو دو بار سمن بھیجے لیکن وہ عدالت حاضر نہیں ہوئے جس کے بعد نیب نے سابق وزیر اعظم کیخلاف ایک اور ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ۔نیب کی تین رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم اتوار کو تعطیل ہونے کے باوجود نواز شریف کا انتظار کرتی رہی لیکن سابق وزیراعظم پیش نہ ہوئے۔ نواز شریف دوسری بار اس مقدمے میں طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے ہیں۔ اس سے قبل نیب نے انہیں 21 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم وہ بیگم کلثوم نواز کے علاج کی غرض سے لندن میں موجودگی کے باعث پیش نہیں ہوئے تھے۔نیب کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے بطور وزیراعظم 1998 میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جاتی امرا تک سڑک تعمیر کروائی اور انہی کے حکم پر سڑک کی چوڑائی 20 فٹ سے 24 فٹ کی گئی جس سے لاگت بڑھ گئی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔نیب کے مطابق نواز شریف پر اپنے بھائی شہباز شریف کے ساتھ مل کرذاتی فائدے کے لیے سڑک بنانیکا الزام ہے، نوازشریف نے مبینہ طور پر 1998 میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسکول اور ڈسپنسری کا بجٹ استعمال کرکے اپنی رہائش گاہ جاتی امرا تک سڑک تعمیر کرائی اور ان کے حکم پرسڑک کی چوڑائی 20 فٹ سے بڑھا کر 24 فٹ کی گئی جس سیلاگت بڑھ گئی، نوازشریف کے حکم سے ضلع کونسل کے بہتسے عوامی منصوبے بند کرنے پڑے، جس سے عوام کا نقصان ہوا جب کہ 17 اپریل 2000 میں کی گئی تفتیش میں انکشاف ہوا تھا کہ منصوبے میں 12 کروڑ 56 لاکھ روپیسے زائد رقم کی کرپشن بھی کی گئی۔نیب کے مطابق 2016 تک کرپشن انکوائری التوا کا شکار رہی تاہم 2016 کے بعد دوبارہ انکوائری پر کام شروع کیا گیا، چیئرمین نیب نے معاملے کی براہ راست تحقیقات کا حکم دیا، نیب ٹیم نے رائیونڈ روڈ کرپشن سے متعلق ریکارڈ بھی حاصل کرنا شروع کردیا ہے جب کہ ضلع کونسل کے افسران، ایل ڈی ایافسران اور ٹھیکیدار کو بھی طلب کیا جائے گا اور تفتیش مکمل کرکے کرپشن ریفرنس احتساب عدالت لاہور میں دائر کیا جائے گا۔

ریفرنس

مزید : صفحہ اول