جنوبی پنجاب صوبہ نام مسترد، سرائیکستان کیوں نہیں؟

جنوبی پنجاب صوبہ نام مسترد، سرائیکستان کیوں نہیں؟

ڈیرہ غاز یخان ( عمر خان سے ) نوزائیدہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو پاکستان تحریک انصاف میں ضم کرنے اور سردار جعفر خان لغاری ، سابق سینیٹر محسن خان لغاری ، سابق ایم این اے مینا احسان لغاری ، سردار حسنین بہادر دریشک کے پی ٹی آئی میں شامل ہونے پر ڈیرہ غازیخان اور راجن پور اضلاع میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سرائیکی زبان اور سرائیکی وسیب کی محرومیوں کا اخباری بیانات میں ، چائے کے ہوٹلوں ، چوپال پر بیٹھنے والوں اور خصوصاً شاعروں اور سرائیکی دانشوروں نے جنوبی پنجاب کے نام کو پسند نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھیوں کیلئے سندھ ، بلوچوں کیلئے بلوچستان ، پختونوں کیلئے پختونخوا اور پنجابیوں کیلئے پنجاب ہوسکتا ہے تو پھر سرائیکیوں کیلئے سرائیکستان کیوں نہیں لیکن پنجاب کی سیاست ماسوائے شہروں کو چھوڑ کر ہمیشہ سرداروں اور وڈیروں کے گرد گھومتی ہے ۔ 70کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو اور کم وبیش 50برس کے بعد عمران خان نے عوام میں بہت مقبولیت حاصل کی ہے اور عام آدمی انہیں ہی ملک کیلئے مسیحا سمجھتا ہے سرائیکی صوبہ مانگنے والوں کی باتیں بڑی حدتک سچی ہیں لیکن وہ الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں پہلے تھے نہ اب ہیں ۔ ان حالات میں جنوبی پنجاب کی سرکردہ شخصیات کا پی ٹی آئی میں شامل ہونا ان کیلئے اور خود پی ٹی آئی کیلئے ثمر باز ثابت ہوگا ۔ضلع ڈیرہ غازیخان میں جس طرح کھوسہ خاندان سردارذوالفقارعلی خان کھوسہ کی قیادت میں کبھی متحد تھا اور پھر سردار امجد فاروق خان کھوسہ کی بے وفائی کے بعد ماضی کی طرح متحد نہ ہوسکا حالانکہ ایک ہی وقت میں سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ، سردار امجد فاروق خان کھوسہ ، سردار سیف الدین خان کھوسہ ، سردار حسام الدین کھوسہ سردار دوست محمد خان کھوسہ اور سردار محسن عطا کھوسہ اسمبلیوں کے رکن رہے اسی طرح لغاری خاندان بھی سردار فاروق احمد خان لغاری کی قیادت میں متحد رہا جبکہ سردار فارو ق احمد خان لغاری ، سردار جعفر خان لغاری ، مینا احسان لغاری ، محمود قادر خان لغاری ، محسن خان لغاری ، یوسف خان لغاری ، جمال خان لغاری اور اویس خان لغاری بھی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے لیکن دونوں بلوچ قبائلی سرداروں کی سیاست میں ایک فرق سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ ہیں۔ میاں نواز شریف کے پرویز مشرف سے معاہدے کرنے کے بعد جلاوطن ہونے پر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے قیادت کی غیر موجودگی میں پاکستان مسلم لیگ کا علم بلند کیے رکھا ، انہیں پارٹی قیادت نے چھوڑ مشرف کے ساتھیوں کو گلے لگالیا جبکہ سردار فاروق احمد خان لغاری نے انہیں صدارت کے منصب تک پہنچانے والی جماعت کی حکومت کو گھر بھیج دیا ۔ سردار ذوالفقار علی کھوسہ اور سردار فاروق احمد خان لغاری دونوں باوقار ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باکردار سیاستدان ہیں لیکن پی پی پی سے بے وفائی کے بعد لغاری سرداروں کی سیاست عوامی رائے میں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کرنے لگے ہیں پی پی پی ، ملت پارٹی ، مشرف لیگ ، ق لیگ ،کبھی آزاد پھر مسلم لیگ ق ، پھر پاکستان تحریک انصاف ، پھر ن لیگ اور آج کل پی ٹی آئی یا مستقبل قریب میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے نے لغاری سرداروں کو سیاست میں بے اعتبار بنادیا ہے ۔ 2018کے انتخابات ابھی تک تو عمران خان کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ڈیرہ غازیخان کے ووٹرز سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے بعد ان کے جواں سال صاحبزادے سردار دوست محمد خان کھوسہ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں جس طرح لغاری سرداروں نے ڈیرہ غازیخان کیلئے ائیر پورٹ ، سوئی گیس اور بجلی جیسی سہولتیں پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے اسی طرح کھوسہ سرداروں کے حصے میں تعلیمی اور سماجی خدمات آتی ہیں کہ غازی یونیورسٹی ، غازی خان میڈیکل کالجز ، ایجوکیشن کالج ، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ، ٹراما سنٹر، ایگریکلچر کالج ، سرکاری ملازمین کیلئے بگ سٹی الاؤنس ، ایلیمنٹری کالج ، ٹیکنالوجی کالج ، فراہمی و نکاسی آب ، آرٹ کونسل ، دانش سکول ، ڈویژنل پبلک سکول سنٹر آف ایکسیلنس ، ڈائیوو بس سروس ، چوٹی اور کوٹ چھٹہ کے بوائز اور گرلز ڈگری کالج ، بیسیوں ہائی سکینڈری سکول ، کھیت سے منڈی تک سڑکیں اور ہزاروں سرکاری ملازمتیں کھوسہ سرداروں کی وجہ سے ہوئیں ۔ڈیرہ غازیخان کے عوام کھوسہ سرداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ 2018کے عام انتخابات میں کیا فیصلہ کرتے ہیں ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر سردار فاروق احمد خان لغاری زندہ ہوتے تو کیا پھر بھی لغاری گروپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ؟۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...