بھارت ، گائے ذبح کرنے کے الزام میں ایک اور مسلمان تشدد سے شہید، ساتھی زخمی

بھارت ، گائے ذبح کرنے کے الزام میں ایک اور مسلمان تشدد سے شہید، ساتھی زخمی

نئی دہلی (آن لائن)بھارتی ریاست مدھیا پردیش میں ہندو انتہاپسندی کا ایک اور واقعہ اس وقت پیش آیا جب انتہا پسندوں نے ایک اور مسلمان کو گاؤ رکشک کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ بھا رتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کے ضلع ستنا میں انتہا پسندوں نے گائے ذبیحہ کے الزام میں ریاض نامی شہری کو اس کے دوست کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا۔45 سالہ مسلمان شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔پولیس نے قتل اور تشدد کے الزام میں 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے این ڈی ٹی وی کے مطابق مشتعل ہجوم نے گائے ذبح کرنے کا الزا م لگاتے ہوئے 45 سالہ ریاض کو لاٹھی اور پتھر سے تشدد کا نشانہ بنایا اس کا دوست 33 سالہ شکیل واقعے میں شدید زخمی ہوا۔واقعے کے بعد ہجوم جائے وقوع سے فرار ہوگیا۔خیال ر ہے کہ مذکورہ علاقے کی سکیورٹی انتہائی سخت ہے جہاں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ 2 روزہ دورے پر موجود ہیں۔بعد ازاں پولیس نے 4 ملزموں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قتل کا مقد مہ درج کرلیا۔رپورٹس کے مطابق پولیس افسر راجیش ہنگانکر کا کہنا تھا کہ ایک ذبح کیے گئے بیل اور دیگر 2 جانوروں کے گوشت سے بھرے بیگ بھی برآمد کیے گئے ہیں ۔ پو لیس آفیسر کا کہنا تھا کہ واقع کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں جبکہ امن و امان کو بحال رکھنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری علاقے میں تعینات کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے زخمی مسلمان کے خلاف گائے ذبح کرنے کا مقدمہ درج کرلیا جو جبل پور کے ہسپتال میں کومہ کے باعث زیر علاج ہے۔مدھیہ پردیش میں گائے ذبح کرنے پر ملزم کو 7 سال قید اور 5 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا قانون رائج ہے، یاد رہے کہ ریاست نے اس حوالے سے 2012 میں قانون میں ترمیم کی تھی۔گذشتہ کچھ سالوں کے دوران گائے سمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں کے حملوں میں ایک درجن سے زائد مسلمان مارے جاچکے ہیں۔ناقدین کے مطابق 2014 کے انتخابات میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی وجہ سے ان انتہاپسند افراد کو زیادہ حوصلہ ملا۔2016 میں بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گائے کی حفاظت کرنے والے افراد پر تنقید کرتے ہوئے ان افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا جو مذہب کا استعمال کرکے جرم کررہے ہیں۔علاوہ ازیں 2017 میں بھارتی وزیراعظم کی جانب سے ملک کی سب سے زائد آبادی والی ریاست اترپردیش کے لیے وزیر اعلیٰ کیلئے دائیں بازو کے ہندو پجاری کی تقرری کی تھی جس نے صورتحال مزید گمبھیر کر دی۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...