آئندہ الیکشن، تحریک انصاف کیلئے خود پی ٹی آئی ہی خطرہ ثابت ہو سکتی ہے

آئندہ الیکشن، تحریک انصاف کیلئے خود پی ٹی آئی ہی خطرہ ثابت ہو سکتی ہے

تجزیہ :۔ نعیم مصطفےٰ

آئندہ عام انتخابات میں جہاں پاکستان تحریک انصاف کو دیگر سیاسی جماعتوں سے سخت مقابلہ درپیش ہوگا، وہاں تحریک انصاف کو، خود تحریک انصاف سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کیلئے پی ٹی آئی ہی خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس انداز سے مختلف سیاسی رہنما قطار اندر قطار تحریک میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، اسی رفتار سے پی ٹی آئی کے اندر اختلافات اور مقابلے کی دوڑ فروغ پاتی جا رہی ہے۔ ایک ہی حلقے سے کم و بیش دس دس امیدوار پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند ہے اور یہ امر تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ جس امیدوار کو ٹکٹ نہیں ملے گا، وہ مخالف کھڑا ہو جائے گا یا مخالفت پر اتر آئے گا۔ اگرچہ اس غیر صحتمندانہ دوڑ سے بچنے کے لئے پاکستان تحریک انصاف نے ٹکٹ کے خواہش مند تمام امیدواروں اور پارٹی میں شامل ہونے والے نئے رہنماؤں کے لئے پیشگی حلف لینا شروع کر دئیے ہیں کہ اگر انہیں پارٹی ٹکٹ نہ ملا تو وہ جماعت نہیں چھوڑیں گے، آزاد حیثیت میں الیکشن نہیں لڑیں گے، کسی دوسری سیاسی جماعت کے ٹکٹ کے حصول کیلئے کوشش نہیں کریں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کی مخالفت بھی نہیں کریں گے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاست میں عملاً ایسا ممکن نہیں، کیونکہ حلف دینے کے باوجود بھی سیاست دان اس سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ ماضی میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں، اور پاکستانی سیاست میں سچ بولنے کا رواج بہت کم ہے۔ اس حوالے سے اہم ترین جزو یہ ہے کہ حال ہی میں جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بعض حصوں سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے اہم رہنماؤں کا کہ برملا کہنا ہے کہ اگر ہمیں ٹکٹ نہ ملا تو پارٹی جوائن کرنے کا کیا فائدہ۔ ان میں سے بیشتر نجی محافل میں یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ پی ٹی آئی کی الیکشن سے پہلے جو ہوا چلی ہے ہم اس کے تحت اسے جوائن کر رہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد الیکشن جیتنا ہے۔ اگر کوئی اور مقصد ہوتا تو مسلم لیگ (ن) یا (ق) لیگ چھوڑنے کا کیا فائدہ۔ پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں جانے والے تین اہم رہنما تو واضح موقف دے چکے ہیں کہ ہم پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر پنجاب سے الیکشن نہیں جیت سکتے، اس لئے پی ٹی آئی جوائن کر رہے ہیں۔ سیاسی بصیرت رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو الیکشن لڑنے کی نیت سے پی ٹی آئی میں شامل ہوا ہے اسے ٹکٹ نہ ملا تو وہ علاقائی سیاست سے آؤٹ ہو جائے گا۔ یہاں پارٹی کا حلف نامہ کیا کرے گا، اور جس حلقے سے ایک سے زیادہ امیدوار پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہش مند ہونگے، وہاں جوتیوں میں دال بٹے گی۔

مزید : تجزیہ